🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. إن أحدكم إذا قام يصلي إنما يقوم يناجي ربه فلينظر كيف يناجيه
تم میں سے جب کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ دراصل اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، لہٰذا دیکھے کہ کس طرح سرگوشی کر رہا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 780
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا هشام بن علي، حدثنا عيَّاش بن الوليد الرَّقّام، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حدثنا محمد بن إسحاق، أخبرني سعيد بن أبي سعيد، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: صلَّى بنا رسولُ الله ﷺ الظُّهرَ، فلما سلَّمَ نادى رجلًا كان في آخر الصفوف، فقال:"يا فلانُ، ألا تتَّقي الله، ألا تَنظُرُ كيف تصلِّي؟! إِنَّ أحدكم إذا قام يصلِّي إنما يقوم يُناجِي ربَّه، فليَنظُرْ كيف يُناجِيهِ، إِنكم تُرَونَ أني لا أَراكم، إني والله لأَرى مِن خلفِ ظَهْري كما أَرى من بين يديَّ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه على هذه السِّياقة (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 861 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسی نماز پڑھی جس میں ام القرآن (سورہ فاتحہ) نہیں پڑھی تو اس کی نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے (یعنی مکمل نہیں)۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 780]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 780 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے، البتہ اس کی یہ سند محمد بن اسحاق کی موجودگی کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 15/ (9796) عن يزيد بن هارون، عن محمد بن إسحاق بهذا الإسناد. لكن جعله من رواية سعيد بن أبي سعيد عن أبي هريرة - دون ذكر المناجاة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (15/ 9796) میں یزید بن ہارون عن محمد بن اسحاق کی سند سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے سعید بن ابی سعید عن ابی ہریرہ کی روایت قرار دیا ہے اور اس میں "مناجات" (سرگوشی) کا ذکر نہیں ہے۔
وأخرجه بنحوه مسلم (423)، والنسائي (947) من طريق الوليد بن كثير، عن سعيد، عن أبيه، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسی کے ہم معنی روایت امام مسلم (423) اور امام نسائی (947) نے ولید بن کثیر عن سعید عن ابیہ کی سند سے نقل کی ہے۔
ويشهد لقوله: "إنَّ أحدكم إذا قام يصلي إنما يقوم يناجي ربه" حديث أنس بن مالك عند البخاري (405) ومسلم (551).
🧩 متابعات و شواہد: آپ ﷺ کے اس فرمان: "بے شک تم میں سے کوئی جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات (سرگوشی) کرتا ہے" کا شاہد حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جو بخاری (405) اور مسلم (551) میں موجود ہے۔
(3) أخرجاه من حديث الأعرج عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال: "هل ترون قِبلتي هاهنا، فوالله لا يخفى عليَّ خشوعُكم ولا ركوعُكم إني لأراكم من وراء ظهري"، البخاري برقم (418) و (741)، ومسلم (424).
📖 حوالہ / مصدر: شیخین (بخاری و مسلم) نے الاعرج عن ابی ہریرہ کی سند سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم سمجھتے ہو کہ میرا قبلہ صرف اسی طرف ہے؟ اللہ کی قسم! مجھ پر تمہارا خشوع اور تمہارا رکوع مخفی نہیں رہتا، میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔" (بخاری: 418، 741 اور مسلم: 424)۔