🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. لا يزال الله مقبلا على العبد ما لم يلتفت فإذا صرف وجهه انصرف عنه
اللہ تعالیٰ بندے کی طرف متوجہ رہتا ہے جب تک بندہ ادھر اُدھر نہ دیکھے، اور جب وہ چہرہ پھیر لیتا ہے تو اللہ بھی اس سے توجہ ہٹا لیتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 781
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب. وأخبرنا أبو [منصور] محمد بن القاسم العَتَكي، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا عبد الله بن صالح؛ قالا حدثنا الليث، حدثني يونس، عن ابن شِهاب قال: سمعت أبا الأحَوص يحدِّث (1) سعيدَ بن المسيّب، أنَّ أبا ذرٍّ قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يزالُ اللهُ مُقبلًا على العبد ما لم يَلتفِتْ، فَإِذَا صَرَفَ وجَهَه انصَرَفَ عنه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وأبو الأحوص هذا مولى بنى اللَّيث تابعيٌّ من أهل المدينة، وثَّقه الزُّهْري وروى عنه، وجَرَتْ بينه وبين سعد بن إبراهيم مناظرةٌ في معناه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 862 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ بندے کی طرف متوجہ رہتا ہے جب تک وہ (نماز میں) ادھر ادھر نہیں دیکھتا، پھر جب وہ اپنا رخ پھیر لیتا ہے تو اللہ بھی اس سے اعراض فرما لیتا ہے۔"
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے راوی ابو الاحوص مدنی تابعی ہیں جن کی ثقاہت امام زہری نے بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 781]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 781 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ع) والمطبوع: يحدِّث عن، بزيادة "عن"، وهو خطأ، فالراوي هنا عن أبي ذر هو أبو الأحوص لا سعيد بن المسيّب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ع) اور مطبوعہ نسخے میں "يحدِّث عن" (لفظ 'عن' کے اضافے کے ساتھ) لکھا ہے جو کہ غلط ہے، کیونکہ یہاں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے راوی "ابو الاحوص" ہیں نہ کہ سعید بن المسیب۔
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل أبي الأحوص: وهو مولى بني ليث. يونس: هو ابن يزيد الأيلي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند میں ابو الاحوص (مولیٰ بنی لیث) کی وجہ سے "حسن" ہونے کا احتمال موجود ہے۔ 📌 اہم نکتہ: سند میں موجود "یونس" سے مراد یونس بن یزید الایلی ہیں۔
وأخرجه أحمد 35 / (21508)، والنسائي (532) و (1119) من طريق عبد الله بن المبارك، وأبو داود (909) من طريق عبد الله بن وهب، كلاهما عن يونس، بهذا الإسناد. فيكون بذلك ابن وهب سمعه من الليث ومن يونس بن يزيد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (35/ 21508) اور امام نسائی (532، 1119) نے عبداللہ بن المبارک کے طریق سے، اور امام ابوداؤد (909) نے عبداللہ بن وہب کے طریق سے روایت کیا ہے (دونوں یونس سے روایت کر رہے ہیں)۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن وہب نے اسے لیث اور یونس بن یزید دونوں سے سنا ہے۔
وانظر شواهده في التعليق على "سنن أبي داود".
📖 حوالہ / مصدر: اس کے دیگر شواہد کے لیے "سنن ابی داؤد" پر کیے گئے تعلیقات ملاحظہ فرمائیں۔
(3) انظر "مسند الحميدي" (128)، و"صحيح ابن خزيمة" (913)، و"سنن البيهقي" 2/ 284.
📖 حوالہ / مصدر: ملاحظہ کریں: "مسند الحمیدی" (128)، "صحیح ابن خزیمہ" (913) اور "سنن بیہقی" 2/ 284۔