المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. خير الخطائين التوابون .
بہترین گناہگار وہ ہیں جو کثرت سے توبہ کرنے والے ہوں
حدیث نمبر: 7810
حدثنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الزَّاهد، حدثنا علي بن الحسين ابن الجُنَيد الرازي، حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا سَلَمة بن الفضل، حدثني محمد ابن إسحاق، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن سعيد بن المسيّب، حدثني عمرو ابن العاص، أنَّه سمع رسولَ الله ﷺ يقول:"كلُّ ابنِ آدمَ يأتي يومَ القيامة وله ذنبٌ إِلَّا ما كان من يحيى بن زكريا" قال: ثم دلى رسول الله ﷺ بيده إلى الأرض فأخذ عُوَيدًا صغيرًا، ثم قال:"وذلك أنَّه لم يكُنْ له ما للرجالِ إلَّا مثلُ هذا العُودِ، وبذلك سمَّاه الله سيِّدًا وحَصُورًا ونبيًّا من الصالحين" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7618 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7618 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر ابنِ آدم قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا کوئی نہ کوئی گناہ ہوگا سوائے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے زمین کی طرف اشارہ کر کے ایک چھوٹی سی لکڑی اٹھائی اور فرمایا: ”اور یہ اس لیے کہ ان کے پاس وہ (قوتِ مردمی) نہیں تھی جو مردوں کے پاس ہوتی ہے مگر صرف اس لکڑی کے برابر، اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ”سید، حصور (خواہشات سے رکا ہوا) اور صالحین میں سے ایک نبی“ قرار دیا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7810]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7810]
تخریج الحدیث: «خبر مضطرب الإسناد، رجاله لا بأس بهم، لكن اختُلف على يحيى بن سعيد ثم على سعيد ابن المسيب في رفعه ووقفه ووصله وإرساله كما سلف بيانه في الرواية (3451)» [ترقيم الرساله 7810] [ترقيم الشركة 7717] [ترقيم العلميه 7618]
الحكم على الحديث: خبر مضطرب الإسناد
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7810 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) خبر مضطرب الإسناد، رجاله لا بأس بهم، لكن اختُلف على يحيى بن سعيد ثم على سعيد ابن المسيب في رفعه ووقفه ووصله وإرساله كما سلف بيانه في الرواية (3451). محمد بن عيسى: هو ابن زياد الدامغاني، وسلمة بن الفضل: هو الأبرش.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "مضطرب الاسناد" (سند کے لحاظ سے سخت الجھی ہوئی) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگرچہ اس کے راویوں میں بذاتِ خود کوئی حرج نہیں، لیکن یحییٰ بن سعید اور پھر ان سے آگے سعید بن المسیب پر اس روایت کے مرفوع، موقوف، موصول اور مرسل ہونے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے، جیسا کہ سابقہ روایت نمبر (3451) میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ سند میں موجود محمد بن عیسیٰ سے مراد "محمد بن عیسیٰ بن زیاد الدامغانی" ہیں، اور سلمہ بن الفضل سے مراد "سلمہ بن الفضل الابرش" ہیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7810 in Urdu