🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. ذكر مائة رحمة لله وتقسيمها .
اللہ کی سو رحمتوں کا تذکرہ اور ان کی تقسیم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7822
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشَّافعي، حَدَّثَنَا محمد بن مَسْلَمة الواسطي ومحمد بن رِبْح السَّمَّاك، قالا: حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي عبد الله الجَسْري، حَدَّثَنَا جُندُب قال: جاء أعرابيٌّ فأناخ راحلتَه ثم عَقَلَها، فصلَّى خلفَ رسول الله ﷺ، فلما سلَّم رسولُ الله ﷺ أتى راحلتَه فأطلقَ عِقالَها ثم رَكِبَها (2) ، ثم نادى: اللهمَّ ارحَمْني ومحمدًا ولا تُشرِكْ في رحمتنا أحدًا، فقال النَّبِيُّ ﷺ:"أتقولونَ: هو أضلُّ أم بَعِيرُه؟ ألم تَسمَعوا ما قال؟" قالوا: بلى، قال:"لقد حَظَرَ رحمةَ الله واسعةً، إِنَّ الله خَلَقَ مئةَ رحمةٍ، فأنزل رحمةً تَعاطَفُ بها الخلائقُ جِنُّها وإنسُها وبهائمُها، وعنده تسعٌ وتسعون، تقولون: هو أضلُّ أم بعيرُه؟" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7630 - صحيح
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آیا، اس نے اپنی اونٹنی بٹھا کر اسے باندھ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو وہ اپنی اونٹنی کے پاس گیا، اس کا بندھن کھولا، اس پر سوار ہوا اور پکار کر کہنے لگا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحم فرما اور ہماری اس رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، یہ زیادہ بھٹکا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم نے نہیں سنا جو اس نے کہا؟ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ کی وسیع رحمت کو محدود کر دیا، اللہ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں، پھر ایک رحمت نازل فرمائی جس کی وجہ سے تمام مخلوقات، جنات، انسان اور چوپائے آپس میں ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں، جبکہ ننانوے رحمتیں اللہ کے پاس محفوظ ہیں، (اب بتاؤ) یہ زیادہ بھٹکا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7822]
تخریج الحدیث: «إسناده ليّن من أجل أبي عبد الله الراوي عن جندب، وقد سلف الكلام عليه برقم (188)» [ترقيم الرساله 7822] [ترقيم الشركة 7729] [ترقيم العلميه 7630]

الحكم على الحديث: إسناده ليّن من أجل أبي عبد الله الراوي عن جندب
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7822 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ز) و (ب): كبها. وقد يكون من قولهم: كبَّ راحلتَه، أي ألزَمها الطريقَ، كما في "السان العرب" (كبب).
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "كبها" کے الفاظ مروی ہیں۔ اس کا تعلق اہل عرب کے محاورے "كبَّ راحلتَه" سے ہو سکتا ہے، جس کا مطلب ہے "سواری کو راستے پر جمائے رکھنا (راستہ لازم پکڑنا)"، جیسا کہ 📖 حوالہ / مصدر: لسان العرب (مادہ: ک ب ب) میں مذکور ہے۔
(3) إسناده ليّن من أجل أبي عبد الله الراوي عن جندب، وقد سلف الكلام عليه برقم (188).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "لَیِّن" (کمزور) ہے، کیونکہ اس میں جندب سے روایت کرنے والا راوی ابو عبد اللہ غیر معروف/کمزور ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اس راوی کے بارے میں تفصیلی کلام پہلے نمبر (188) پر گزر چکا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7822 in Urdu