المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. ذِكْرُ مِائَةِ رَحْمَةٍ لِلَّهِ وَتَقْسِيمِهَا .
اللہ کی سو رحمتوں کا تذکرہ اور ان کی تقسیم کا بیان
حدیث نمبر: 7819
أخبرَناه أبو النَّضر الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا أصبغ بن الفَرَج، أخبرني ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن سعيد بن أبي هِلال، عن علي بن خالد قال: مرَّ أبو أُمامة الباهِلي على خالد بن يزيد بن معاوية، فسأله عن أَليَن كلمةٍ سَمِعها من رسول الله ﷺ، فقال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"كلُّكم يَدخُلُ الجنَّةَ إِلَّا من شَرَدَ على الله شِرَادَ (1) البعيرِ على أهله" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7627 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7627 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
علی بن خالد بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا گزر سیدنا خالد بن یزید بن معاویہ کے پاس سے ہوا، خالد نے ابوامامہ سے پوچھا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے آسان کلمہ کون سا سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” تم سب لوگ جنت میں جاؤ گے سوائے اس شخص کے جو اپنے اللہ کی اس طرح نافرمانی کرتا ہے جیسے کوئی اونٹ اپنے مالک کی نافرمانی کرتا ہے “۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7819]
حدیث نمبر: 7820
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يزيد بن زُرَيع، حَدَّثَنَا داود بن أبي هِند، حَدَّثَنَا أبو عثمان النَّهْدي، عن سلمان الفارسي، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ الله خلقَ يومَ خلقَ السماواتِ والأرضَ مئةَ رحمةٍ، كلُّ رحمةٍ مِلءُ ما بينَ السماءِ والأرض، فقَسَمَ منها رحمةً بين الخلائق بها تَعطِفُ الوالدة على ولدِها، وبها يشربُ الوحشُ والطيرُ الماءَ، وبها يتراحَمُ الخلائقُ، فإذا كان يومُ القيامة قَصَرَها على المتقينَ، وزادَهم بِضعًا وتسعينَ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث سليمان التَّيمي عن أبي عثمان عن سليمان مختصرًا مثل حديث الزُّهْري عن سعيد عن (1) أبي هريرة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث سليمان التَّيمي عن أبي عثمان عن سليمان مختصرًا مثل حديث الزُّهْري عن سعيد عن (1) أبي هريرة (2) .
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب زمین اور آسمان پیدا کیے اس وقت سو رحمتیں بھی پیدا کیں، ہر رحمت زمین و آسمان سے بڑی ہے، ان سو میں سے ایک رحمت اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں تقسیم فرما دی، اسی رحمت کے باعث ماں اپنی اولاد پر رحم کرتی ہے، اسی کے باعث وحشی جانور اور پرندے پانی پیتے ہیں، اسی کے باعث مخلوقات ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے۔ قیامت کے دن یہ ساری رحمت صرف متقی لوگوں کے لیے خاص کر دی جائے گی، اور رحمت کے باقی 99 حصے بھی ان کو دے دیئے جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے سلیمان تیمی کے واسطے سے، ابوعثمان کے حوالے سے سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ کی مختصراً روایت نقل کی ہے۔ اور وہ روایت بالکل اسی جیسی ہے جو زہری نے سعید کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7820]
حدیث نمبر: 7821
حدثني علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا العباس بن الفضل ومحمد بن غالب، قالا: حَدَّثَنَا بكّار بن محمد السِّيرِيني (3) ، حَدَّثَنَا عَوف (4) بن أبي جَميلة، عن محمد بن سِيرين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله مئةَ رحمةٍ، قَسَمَ رحمةً بين أهل الدنيا وَسِعَتهم إلى آجالهم، وأَخَّر تسعًا وتسعينَ رحمةً لأوليائِه، وإنَّ الله تعالى قابضٌ تلك الرحمةَ التي قَسَمَها بين أهل الدنيا إلى التسعِ والتسعينَ فيُكمِلُها مئةَ رحمةٍ لأوليائه يومَ القيامة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
محمد بن سیرین روایت کرتے ہیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی 100 رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت اس نے دنیا والوں میں تقسیم کر دی ہے، وہ رحمت ان کی وفات تک ان کو شامل ہے۔ اور 99 رحمتیں اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کے لیے سنبھال کر رکھی ہیں۔ اور جو رحمت اللہ تعالیٰ نے دنیا والوں میں تقسیم کی ہوئی ہے، اس کو بھی وہ واپس لے لے گا اور قیامت کے دن اپنے دوستوں کو پوری 100 رحمتیں عطا کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7821]