المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. لا يزال الله مقبلا على العبد ما لم يلتفت فإذا صرف وجهه انصرف عنه
اللہ تعالیٰ بندے کی طرف متوجہ رہتا ہے جب تک بندہ ادھر اُدھر نہ دیکھے، اور جب وہ چہرہ پھیر لیتا ہے تو اللہ بھی اس سے توجہ ہٹا لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 783
أخبرنا أبو محمد الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا يوسف بن عيسى وأبو عمَّار قالا: حدثنا الفضل بن موسى، حدثنا عبد الله بن سعيد بن أبي هند، عن ثَوْر بن زيد، عن عِكْرمة عن ابن عباس قال: كان رسول الله ﷺ يَلتفِتُ في صلاته يمينًا وشِمالًا، ولا يَلْوِي عنقَه خلفَ ظهره (5) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقد اتَّفقا (1) على إخراج حديث أشعث بن أبي الشَّعثاء عن أبيه عن مسروق عن عائشة قالت: سألتُ رسول الله ﷺ عن الالتفات في الصلاة، فقال:"هو اختلاسٌ يَختلِسُه الشيطانُ من صلاة العبد"، وهذا الالتفات غيرُ ذلك، فإنَّ الالتفات المباح أن يَلحَظَ بعينه يمينًا وشمالًا. وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 864 - على شرط البخاري_x000D_ وَقَدِ اتَّفَقَا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ» . «وَهَذَا الِالْتِفَاتِ غَيْرُ ذَلِكَ فَإِنَّ الِالْتِفَاتَ الْمُبَاحَ أَنْ يَلْحَظُ بِعَيْنِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ»
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقد اتَّفقا (1) على إخراج حديث أشعث بن أبي الشَّعثاء عن أبيه عن مسروق عن عائشة قالت: سألتُ رسول الله ﷺ عن الالتفات في الصلاة، فقال:"هو اختلاسٌ يَختلِسُه الشيطانُ من صلاة العبد"، وهذا الالتفات غيرُ ذلك، فإنَّ الالتفات المباح أن يَلحَظَ بعينه يمينًا وشمالًا. وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 864 - على شرط البخاري_x000D_ وَقَدِ اتَّفَقَا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ» . «وَهَذَا الِالْتِفَاتِ غَيْرُ ذَلِكَ فَإِنَّ الِالْتِفَاتَ الْمُبَاحَ أَنْ يَلْحَظُ بِعَيْنِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ»
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دائیں اور بائیں (کنکھیوں سے) دیکھ لیا کرتے تھے، لیکن اپنی گردن پیٹھ پیچھے نہیں موڑتے تھے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، یہ التفاتِ مباح ہے جس میں صرف آنکھ سے دیکھا جاتا ہے اور گردن نہیں موڑی جاتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 783]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، یہ التفاتِ مباح ہے جس میں صرف آنکھ سے دیکھا جاتا ہے اور گردن نہیں موڑی جاتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 783]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 783 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(5) رجاله ثقات إلّا أنه مُعَلٌّ بالإرسال. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وأبو عمار هو الحسين بن حريث.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں لیکن یہ روایت "ارسال" کی وجہ سے معلول (نقص والی) ہے۔ 📌 اہم نکتہ: "ابو الموجِّہ" سے مراد محمد بن عمرو الفزاری ہیں، اور "ابو عمار" سے مراد الحسین بن حریث ہیں۔
وأخرجه النسائي (1125)، وابن حبان (2288) من طريق أبي عمار الحسين بن حريث، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (1125) اور ابن حبان نے (2288) میں ابو عمار حسین بن حریث کے طریق سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2485) و 5 / (2791)، والترمذي (587)، والنسائي (534) من طرق عن الفضل بن موسى السِّيناني به وسيأتي برقم (953).
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 4/ (2485) اور 5 / (2791) میں، نیز امام ترمذی (587) اور امام نسائی (534) نے فضل بن موسیٰ السینانی کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے، اور یہ آگے نمبر (953) پر آئے گی۔
وقد أُعلَّ هذا الحديث بالإرسال، فقد رواه إبراهيم بن إسحاق الطالقاني مرةً عند أحمد (2485) عن الفضل بن موسى عن عبد الله بن سعيد عن ثور عن عكرمة عن النبي ﷺ مرسلًا، وخالفه زهير بن حرب عن الفضل بن موسى عند أبي يعلى (2592) فرواه موصولًا كرواية غيره عن الفضل.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس حدیث کو "ارسال" (سند میں صحابی کا نام نہ ہونا) کی وجہ سے معلول (نقص والا) قرار دیا گیا ہے۔ ابراہیم بن اسحاق الطالقانی نے اسے ایک مرتبہ امام احمد (2485) کے ہاں فضل بن موسیٰ عن عبداللہ بن سعید عن ثور عن عکرمہ عن النبی ﷺ کی سند سے "مرسل" روایت کیا ہے، جبکہ زہیر بن حرب نے فضل بن موسیٰ کے واسطے سے ابویعلیٰ (2592) کے ہاں ان کی مخالفت کرتے ہوئے اسے "موصول" (متصل) روایت کیا ہے جیسا کہ فضل کے دیگر شاگردوں نے روایت کیا ہے۔
ورواه وكيع أيضًا مرسلًا عن عبد الله بن سعيد عن بعض أصحاب عكرمة عن النبي ﷺ، أخرجه أحمد (2486) والترمذي (588)، وهو من طريق وكيع عند أبي داود في "سننه" - برواية ابن ¤ ¤ الأُشناني كما في "تحفة الأشراف" (6014) - إلّا أنَّ فيها: عبد الله بن سعيد عن رجل عن عكرمة عن النبي ﷺ قال أبو داود: وهذا أصحُّ؛ يعني من الرواية الموصولة بذكر ابن عباس.
🧾 تفصیلِ روایت: امام وکیع بن الجراح نے بھی اسے عبداللہ بن سعید عن بعض اصحابِ عکرمہ عن النبی ﷺ کی سند سے "مرسل" روایت کیا ہے، جسے احمد (2486) اور ترمذی (588) نے نکالا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ وکیع کے طریق سے سنن ابوداؤد (ابن الاشنانی کی روایت) میں بھی ہے جیسا کہ "تحفۃ الاشراف" (6014) میں مذکور ہے، مگر اس میں "عبداللہ بن سعید عن رجل عن عکرمہ عن النبی ﷺ" کے الفاظ ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ یہی (مرسل روایت) زیادہ صحیح ہے، یعنی اس روایت کے مقابلے میں جس میں ابن عباس کا ذکر کر کے اسے متصل کیا گیا ہے۔
وانظر الكلام في فقه الحديث في التعليق عليه من "مسند أحمد".
📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کے فقہی پہلوؤں پر بحث کے لیے "مسند احمد" پر کیے گئے تعلیقات ملاحظہ فرمائیں۔
(1) بل انفرد به البخاري، وهو في "صحيحه" برقم (751) و (3291).
📌 اہم نکتہ: بلکہ اس روایت کے ساتھ امام بخاری منفرد ہیں، اور یہ ان کی "صحیح" میں نمبر (751) اور (3291) پر موجود ہے۔