المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. الالتفات فى الصلاة هو اختلاس يختلسه الشيطان من صلاة العبد
نماز میں ادھر اُدھر دیکھنا شیطان کی طرف سے بندے کی نماز میں چوری ہے۔
حدیث نمبر: 785
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبّي البغدادي بأصبهان، حدثنا مُحاضِر بن المورِّع، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن زيد بن ثابت: أن رسول الله ﷺ كان يقرأُ في المغرب بسورةِ الأعراف في الركعتين كِلتَيهما (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إن لم يكن فيه إرسال، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتفقا (2) على حديث ابن جُرَيج عن ابن أبي مُليَكة عن عُروة عن مروان عن زيد بن ثابت: كان النبي ﷺ يقرأ في صلاة المغرب يطوِّل الركعتين. وحديث مُحاضر هذا مفسَّر ملخَّص، وقد اتفقا على الاحتجاج بمُحاضِر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 866 - فيه انقطاع
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إن لم يكن فيه إرسال، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتفقا (2) على حديث ابن جُرَيج عن ابن أبي مُليَكة عن عُروة عن مروان عن زيد بن ثابت: كان النبي ﷺ يقرأ في صلاة المغرب يطوِّل الركعتين. وحديث مُحاضر هذا مفسَّر ملخَّص، وقد اتفقا على الاحتجاج بمُحاضِر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 866 - فيه انقطاع
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی دونوں رکعتوں میں سورہ اعراف پڑھا کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے بشرطیکہ اس میں ارسال نہ ہو، لیکن انہوں نے اسے اس لفظ کے ساتھ روایت نہیں کیا بلکہ صرف طویل قرأت پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 785]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے بشرطیکہ اس میں ارسال نہ ہو، لیکن انہوں نے اسے اس لفظ کے ساتھ روایت نہیں کیا بلکہ صرف طویل قرأت پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 785]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 785 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ظاهره الاتصال، إلّا أنه قد جاء من بعض الوجوه أنَّ عروة بن الزبير إنما رواه عن مروان بن الحكم عن زيد بن ثابت كما سيأتي، ولذلك أعلَّه الذهبي في "تلخيصه" بالانقطاع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کا ظاہر متصل معلوم ہوتا ہے، لیکن بعض طرق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عروہ بن زبیر نے اسے مروان بن الحکم کے واسطے سے حضرت زید بن ثابت سے روایت کیا ہے جیسا کہ آگے آئے گا، اسی وجہ سے امام ذہبی نے "تلخیص" میں اسے "انقطاع" (سند ٹوٹنے) کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 35/ (21609) عن يحيى بن سعيد القطان، و 38/ (23544) عن وكيع، كلاهما عن هشام بن عروة، بهذا الإسناد إلّا أنَّ وكيعًا قال فيه: عن أبي أيوب أو زيد بن ثابت.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (35/ 21609) میں یحییٰ بن سعید القطان سے اور (38/ 23544) میں وکیع سے روایت کیا ہے، دونوں ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کر رہے ہیں، البتہ وکیع نے اس میں شک کے ساتھ "عن ابی ایوب یا زید بن ثابت" کہا ہے۔
وأخرجه النسائي (1063)، وابن حبان (1836) من طريق أبي الأسود محمد بن عبد الرحمن، عن عروة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (1063) اور ابن حبان (1836) نے ابو الاسود محمد بن عبدالرحمن عن عروہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وخالف عبد الرحمن أبو الزناد عند أحمد (21633) فرواه عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن مروان بن الحكم قال: قال لي زيد بن ثابت.
🔍 فنی نکتہ / علّت: عبدالرحمن ابوالزناد نے امام احمد (21633) کے ہاں ہشام بن عروہ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے "عن ابیہ عن مروان بن الحکم" کی سند سے روایت کیا ہے جس میں مروان کہتے ہیں کہ: "مجھ سے زید بن ثابت نے کہا"۔
ووافقه ابن أبي مليكة عند أحمد (21641) و (21646)، والبخاري (764)، وأبي داود (812)، والنسائي (1064)، فرواه عن عروة بن الزبير عن مروان بن الحكم قال: قال لي زيد بن ثابت.
🧩 متابعات و شواہد: ابن ابی ملیکہ نے ابوالزناد کی موافقت کی ہے (احمد 21641، 21646، بخاری 764، ابوداؤد 812، نسائی 1064) اور انہوں نے بھی اسے عروہ بن زبیر عن مروان بن الحکم کی سند سے مروان کے قول کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) بل هو عند البخاري وحده كما سبق.
📌 اہم نکتہ: جیسا کہ پہلے گزرا، یہ روایت صرف امام بخاری کے ہاں ہے۔