🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. من تاب إلى الله قبل الغرغرة تاب الله عليه .
جس نے غرغرہ سے پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7854
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا هشام بن سعد، حَدَّثَنَا زيد بن أسلم، عن عبد الرحمن بن البَيْلماني قال: سمعتُ رجلًا من أصحاب رسول الله ﷺ يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يموتَ [بيوم] (1) قَبِلَ اللهُ منه". قال: فحدَّثتُ بذلك رجلًا آخر من أصحابِ رسول الله ﷺ، قال: أنت سمعتَ ذلك؟ قلت: نعم، قال: أشهَدُ لسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يموتَ بنصف يومٍ، قَبِلَ اللهُ منه". قال: فحدَّثتُ بذلك رجلًا من أصحابِ رسول الله ﷺ، فقال: أنت سمعتَه؟ قال: قلت: نعم، فقال: أشهَدُ لسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يموتَ بضَحْوة، قَبِلَ اللهُ منه". قال: فحدَّثتُ بذلك رجلًا آخرَ من أصحابِ رسول الله ﷺ، فقال: أنت سمعتَ ذلك؟ قلتُ: نعم، قال: فأشهَدُ لسمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يُغرغِرَ، قَبِلَ اللهُ منه" (2) . هكذا رواه عبد العزيز بن محمد الدَّراوَرْدي عن زيد بن أسلم:
ایک صحابی رسول فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مرنے سے صرف ایک دن پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ عبدالرحمن بن بیلمانی فرماتے ہیں: میں نے یہی حدیث ایک دوسرے صحابی رسول کو سنائی، اس نے پوچھا: کیا تو نے یہ حدیث سنی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مرنے سے صرف آدھا دن پہلے توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی بھی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ عبدالرحمن فرماتے ہیں: پھر میں نے یہ حدیث ایک اور صحابی کو سنائی، اس نے بھی پوچھا: کیا تو نے یہ حدیث سنی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص موت سے صرف ایک ضحوہ (مخصوص وقت)۔ پہلے توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے، آپ فرماتے ہیں: میں نے یہی حدیث ایک اور صحابی کو سنائی، اس نے کہا: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے سانس اکھڑنے سے پہلے توبہ کر لی، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ ٭٭ عبدالعزیز بن محمد دراوردی نے زید بن اسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7854]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7854 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) زيادة من "شعب الإيمان" حيث رواه عن المصنّف.
📝 نوٹ / توضیح: یہ اضافہ "شعب الایمان" سے لیا گیا ہے، جہاں انہوں نے اسے مصنف (امام حاکم) سے روایت کیا ہے۔
(2) إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن البيلماني، ومع ضعفه نفى صالح جزرة سماعه من أحد من الصحابة غير سُرَّق، وهشام بن سعد - وهو المدني - ليس بالقوي، لكنه توبع. وتوبة العبد قبل الغرغرة صحَّت من حديث ابن عمر السالف قبل حديث.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعیف ہونے کی وجہ عبد الرحمن بن بیلمانی کا ضعف ہے۔ صالح جزرہ کہتے ہیں کہ ان کا سماع کسی بھی صحابی سے ثابت نہیں ہے سوائے "سرق" کے۔ نیز ہشام بن سعد المدنی بھی زیادہ قوی نہیں ہیں، البتہ ان کی متابعت موجود ہے۔ 📌 اہم نکتہ: روح حلق میں اٹکنے (غرغرہ) سے پہلے توبہ کی قبولیت والی بات ابن عمرؓ کی سابقہ حدیث سے صحیح طور پر ثابت ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (6666) عن أبي زكريا بن أبي إسحاق، عن محمد بن يعقوب الشيبابي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "شعب الایمان" (6666) میں ابو زکریا بن ابی اسحاق عن محمد بن یعقوب الشیبابی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (38/ 23068) عن أسباط بن محمد، عن هشام بن سعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (38/ 23068) نے اسباط بن محمد عن ہشام بن سعد کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (24/ 15499)، وابن أبي الدنيا في "التوبة" (150) من طريق محمد بن مطرف، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (7247) من طريق عبد الله بن جعفر بن نجيح، كلاهما عن زيد بن أسلم بنحوه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (24/ 15499) اور ابن ابی الدنیا نے "التوبہ" (150) میں محمد بن مطرف کے طریق سے روایت کیا ہے، جبکہ ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (7247) میں عبد اللہ بن جعفر بن نجیح کے طریق سے نقل کیا ہے، یہ دونوں راوی زید بن اسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
وانظر ما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اس کی مزید تفصیل اگلی روایت میں دیکھیں۔