🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. من تاب إلى الله قبل الغرغرة تاب الله عليه .
جس نے غرغرہ سے پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7856
فحدَّثَناه أبو جعفر محمد بن خُزَيمة بن قُتيبة الكِسِّي من أصل كتابه (2) ، حَدَّثَنَا فتح بن عمرو الكِسِّي، حَدَّثَنَا المُؤمَّل بن إسماعيل، حَدَّثَنَا سفيان الثَّوري، قال: كتبتُ إلى عبد الرحمن بن البَيلَماني أسأله عن حديث يُحدِّث به عن أبيه، فكتب إليَّ: أنَّ أباه حدَّثه أنه جلس إلى نَفَرٍ من أصحاب النَّبِيِّ ﷺ، فقال أحدُهم: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تابَ إلى الله قبلَ موتِه بسنةٍ تابَ اللهُ عليه"، فقال له آخرُ: أنت سمعتَه من رسولِ الله ﷺ؟ قال: نعم، قال: وأنا قد سمعتُه. قال آخرُ: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"من تابَ إلى اللهِ ﷿ قبلَ موتِه بيومٍ تابَ الله عليه"، قال آخرُ: أنت سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، قال: وأنا قد سمعتُه. قال آخرُ: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تَابَ إلى الله ﷿ قبل موتِه بساعةٍ تابَ الله عليه"، فقال آخرُ: أنت سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، قال: وأنا قد سمعتُه. فقال آخرُ: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن تابَ إلى الله قبلَ الغَرغرةِ تابَ اللهُ عليه" (3) . سفيان بن سعيد وإن كان أحفظَ من الدَّراوَردي وهشام بن سعد، فإنه لم يذكر سماعَه في هذا الحديث من ابن البَيلَماني ولا زيدِ بن أسلم، إنما ذكره إجازةً ومكاتبةً، فالقولُ فيه قولُ من قال: عن زيد بن أسلم عن ابن البيلماني عن رجل من أصحاب النَّبِيِّ ﷺ، وقد شَفَى عبدُ الله بن نافع المدني فبيَّن في روايته عن هشام بن سعد أنَّ الصحابيَّ عبدُ الله بن عمرو بن العاص ﵄. وبصحَّة ذلك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7663 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سفیان ثوری فرماتے ہیں: میں نے عبدالرحمن بن بیلمانی کی جانب ایک خط لکھ کر ان سے پوچھا کہ وہ مجھے وہ حدیث بتائیں جو انہوں نے اپنے والد سے لی ہے۔ انہوں نے مجھے جوابی مکتوب میں یہ حدیث لکھ کر بھیجی، کہ ان کے والد بیان کرتے ہیں کہ وہ صحابہ کرام کی ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے، ان میں سے ایک نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص موت سے ایک سال پہلے توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے۔ دوسرے نے کہا: کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے سنا ہے۔ اس دوسرے صحابی نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص موت سے ایک مہینہ پہلے توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے۔ ایک اور صحابی نے کہا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں میں نے یہی بات سنی ہے۔ اس تیسرے صحابی نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص موت سے ایک دن پہلے توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے۔ چوتھے نے کہا: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنی ہے جو شخص موت سے ایک لمحہ پہلے توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ پانچویں نے اس سے کہا: کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے یہی سنا ہے۔ اس نے کہا: جو شخص موت کی ہچکی آنے سے پہلے پہلے توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ ٭٭ سفیان بن سعید اگرچہ دراوردی اور ہشام بن سعد سے زیادہ حافظے والے ہیں، کیونکہ اس حدیث میں بن بیلمانی سے ان کے سماع کا کہیں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ اور نہ ہی زید بن اسلم کے سماع کا ذکر ہے۔ اس میں صرف اجازت اور کتابت کا تذکرہ ہے۔ اس سلسلے میں معتبر بات اس راوی کی ہے جس نے زید بن اسلم کے واسطے سے ابن بیلمانی کے واسطے سے ایک صحابی رسول سے روایت کی ہے۔ اور عبداللہ بن نافع مدنی اس روایت میں بے قصور ہیں، کیونکہ انہوں نے ہشام بن سعد کے واسطے سے بیان کر دیا ہے کہ وہ صحابی سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7856]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7856 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في النسخ من أصل كتابه أبيه. وفي "إتحاف المهرة" (21036): من أصله. والمثبت من الطبعة الهندية.
📝 نوٹ / توضیح: اصل کتاب کے نسخوں میں "ابیہ" (اپنے والد سے) کے الفاظ ہیں، جبکہ "اتحاف المہرہ" (21036) میں "من اصلہ" درج ہے۔ موجودہ متن میں بھارتی مطبوعہ نسخے کے الفاظ کو ترجیح دیتے ہوئے برقرار رکھا گیا ہے۔
(3) إسناده ضعيف جدًّا، محمد بن خُزَيمة - وهو ابن حاتم بن خُزَيمة بن قتيبة الكسي - اتهم بالكذب، ومؤمَّل بن إسماعيل سيئ الحفظ، وعبد الرحمن بن البيلماني سبق الكلام عليه في الحديثين السابقين، هذا وقد خطأ في إسناد هذا الحديث من أحد الضعفاء حيث جعل المكاتَبَ هو عبدَ الرحمن بن البيلماني، والصواب أنَّ الذي كاتبه سفيانُ الثَّوري هو محمد بن عبد الرحمن البيلماني كما جاء في مصادر التخريج وكما نصَّ عليه ابن أبي حاتم 7/ 311، فقال: روى عنه الثَّوري فيما كتب إليه. وعليه فتخطئة الحاكم لسفيان الثَّوري لأنَّهُ خالف الرواة خطأ من الحاكم، لأنَّ الخطأ ممن دون سفيان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف جداً" (انتہائی کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن خزیمہ (ابن حاتم الکَسّی) پر کذب (جھوٹ) کی تہمت ہے، اور مؤمل بن اسماعیل "سیئی الحفظ" (خراب حافظے والے) ہیں۔ عبدالرحمن بن بیلمانی پر جرح پہلے گزر چکی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اس سند میں کسی ضعیف راوی سے یہ غلطی ہوئی کہ اس نے سفیان ثوری کے مکتوب الیہ (جس کو خط لکھا گیا) کا نام عبدالرحمن بن بیلمانی بتا دیا، حالانکہ درست نام "محمد بن عبدالرحمن بیلمانی" ہے جیسا کہ ابن ابی حاتم (7/ 311) نے صراحت کی ہے۔ اس بنیاد پر امام حاکم کا سفیان ثوری کو خاطی قرار دینا درست نہیں، کیونکہ غلطی سفیان سے نیچے والے راویوں کی ہے۔
وأخرجه ابن المنذر في "تفسيره" (1484) من طريق عبد الله بن الوليد العدني، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (7246) من طريق محمد بن كثير العبدي، وابن عساكر في "تعزية المسلم" (76) من طريق الحسين بن حفص بن الفضل، ثلاثتهم عن سفيان الثوري قال: كتب إليّ محمد بن عبد الرحمن بن البيلماني عن أبيه، فذكره. ووقع في "تعزية المسلم" المطبوع سقط.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن المنذر (تفسیر 1484)، ابو نعیم (معرفۃ الصحابہ 7246) اور ابن عساکر (تعزیۃ المسلم 76) نے مختلف طرق سے سفیان ثوری سے روایت کیا ہے۔ سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ: "مجھے محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی نے اپنے والد کے واسطے سے یہ روایت لکھی"۔ 📝 نوٹ / توضیح: "تعزیۃ المسلم" کے مطبوعہ نسخے میں یہاں کچھ عبارت ساقط (حذف) ہوگئی ہے۔
وانظر ما قبله وما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: مزید علمی اطمینان کے لیے ماقبل اور مابعد کی روایات ملاحظہ فرمائیں۔