المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
35. لا يلج النار أحد بكى من خشية الله .
وہ شخص آگ میں داخل نہیں ہوگا جو اللہ کے خوف سے رو پڑا
حدیث نمبر: 7859
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا هشام بن علي السَّدُوسي، حَدَّثَنَا ابن رجاء، حَدَّثَنَا حرب بن شداد، حَدَّثَنَا يحيى بن أبي كثير، عن عبد الحميد بن سِنان، عن عُبيد بن عُمير، عن أبيه، أنه حدَّثه - وكانت له صُحبة - أنَّ رسول الله ﷺ قال في حَجَّة الوداع:"ألا إنَّ أولياء الله المصلُّون من يُقيم الصلواتِ (1) الخَمْسَ التي كُتِبْنَ عليه، ويصومُ رمضان يحتسبُ صومَه يرى أنَّه عليه حقٌّ، ويُعطي زكاةَ ماله يحتسبُها، ويجتنبُ الكبائرَ [التي نَهَى اللهُ عنها". ثمَّ إِنَّ رجلًا سأله، فقال: يا رسولَ الله، ما الكبائرُ؟] (2) فقال:"هو تِسعٌ: الشِّركُ (3) بالله، وقتلُ نفسِ المؤمن بغير حقٍّ، وفِرارٌ يومَ الزَّحف، وأكلُ مالِ اليتيم، وأكلُ الرِّبا، وقذفُ المُحصَنة، وعقوقُ الوالدينِ المسلمينِ، واستحلالُ البيتِ الحرام قِبلتكم أحياءً وأمواتًا". ثم قال:"لا يموتُ رجلٌ لم يَعمَلْ هذه الكبائرَ ويُقيمَ الصلاةَ ويُؤتيَ الزكاة، إلَّا كان مع النَّبِيِّ ﷺ في دارٍ أبوابُها مَصَاريعُ من ذَهَب" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7666 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7666 - صحيح
عبید بن عمیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ” خبردار، اللہ کے دوست نمازی ہیں۔ جو شخص پانچ وقت کی فرض نماز ادا کرتا ہے، رمضان کے روزے رکھتا ہے، ثواب کی نیت سے اپنے مال کی زکاۃ دیتا ہے، اور ان تمام کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے جس سے بچنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ پھر ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبیرہ گناہ کون کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبیرہ گناہ 9 ہیں۔ ٭ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔ ٭ کسی مومن کو ناحق قتل کرنا۔ ٭ جنگ سے بھاگنا۔ ٭ یتیم کا مال کھانا۔ ٭ سود کھانا۔ ٭ پاکدامن خاتون پر زنا کی تہمت لگانا۔ ٭ مسلمان ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ ٭ بیت الحرام جو کہ تمہارا ہمیشہ زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی قبلہ ہے اس کو حلال جاننا۔ پھر فرمایا: جو شخص ان کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے، نماز پڑھتا ہے، زکاۃ دیتا ہے، وہ مرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایسے گھر میں ہو گا جس کے دروازوں کے تختے سونے کے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7859]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7859 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ: يقم الصلاة، والتصويب من الرواية السالفة (198).
📝 نوٹ / توضیح: دستیاب نسخوں میں "یقم الصلاۃ" لکھا ہے، جبکہ درست عبارت حدیث نمبر 198 کی روشنی میں "یقیم الصلاۃ" بنتی ہے۔
(2) ما بين المعقوفين لم يرد في النسخ، وأثبتناه من "تلخيص الذهبي".
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ (معقوفین) کے درمیان والی عبارت اصل نسخوں میں نہیں تھی، اسے امام ذہبی کی "تلخیص" کی مدد سے مکمل کیا گیا ہے۔
(3) أقحم في النسخ بعده لفظ: إشراك.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخوں میں یہاں لفظ "اشراک" کا زبردستی اضافہ (اقحام) کر دیا گیا ہے جو کہ متن کا حصہ معلوم نہیں ہوتا۔
(4) إسناده ضعيف لجهالة عبد الحميد بن سنان. وسلف برقم (198).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعف کی وجہ راوی عبد الحمید بن سنان کی "جہالت" (عدمِ معرفت) ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ بحث نمبر 198 پر گزر چکی ہے۔