🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. للجنة ثمانية أبواب ، سبعة مغلقة وباب مفتوح للتوبة .
جنت کے آٹھ دروازے ہیں، سات بند ہیں اور ایک دروازہ توبہ کے لیے کھلا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7865
أخبرني أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا عمرو بن سوَّاد السَّرْحي، حَدَّثَنَا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن درَّاج، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد، أن رسولَ الله ﷺ قال:"إنَّ الشيطان قال: وعِزَّتِك يا ربِّ، لا أبْرَحُ أَغْوي عبادَك ما دامَتْ أرواحُهم في أجسادِهم، فقال الربُّ ﵎: وعِزَّتي وجَلَالي لا أزالُ أغفِرُ لهم ما استغفروني" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7672 - صحيح
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شیطان نے کہا: اے میرے رب! مجھے تیری عزت کی قسم ہے، میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسم میں روح ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ہے یہ جب تک مجھ سے توبہ کرتے رہیں گے، میں ان کو معاف کرتا رہوں گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7865]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7865 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل دراج - وهو ابن سمعان المصري - وقد توبع كما سيأتي. وأخرجه أحمد (17/ 11237) و (18/ 11729) من طريق ابن لهيعة، عن دراج بن سمعان، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگرچہ اس کی سند دراج بن سمعان کی وجہ سے ضعیف ہے، مگر ان کی متابعت موجود ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (17/ 11237) اور (18/ 11729) میں ابن لہیعہ کے طریق سے دراج سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (17/ 11367) من طريق الليث بن سعد، عن يزيد بن الهاد، عن عمرو بن أبي عمرو مولى المطلب، عن أبي سعيد، به. ورجاله ثقات لكن عمرًا لم يسمع من أبي سعيد الخدري، فالحديث بمجموع الطريقين حسن إن شاء الله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17/ 11367) نے لیث بن سعد کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں مگر عمرو کا ابو سعید خدریؓ سے سماع ثابت نہیں (انقطاع ہے)۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ان دونوں طرق کے مجموعے سے یہ حدیث "حسن" کے درجے تک پہنچ جاتی ہے، ان شاء اللہ۔
كما يشهد لمعناه أيضًا حديث أبي هريرة السالف برقم (7800)، وهو في "الصحيحين".
🧩 متابعات و شواہد: اس روایت کے معنی کی تائید حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث (7800) سے بھی ہوتی ہے جو کہ بخاری و مسلم میں موجود ہے۔