🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. للجنة ثمانية أبواب ، سبعة مغلقة وباب مفتوح للتوبة .
جنت کے آٹھ دروازے ہیں، سات بند ہیں اور ایک دروازہ توبہ کے لیے کھلا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7866
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني الحافظ، حَدَّثَنَا أبو زكريا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي الشَّهيد، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن المبارك العَيْشي، حَدَّثَنَا فُضَيل (1) بن سليمان، حَدَّثَنَا موسى بن عُقبة، حدثني عبيد الله سَلمان (2) بن الأغرّ، عن أبيه، عن أبي الدرداء، عن رسول الله ﷺ قال:"كلُّ شيء تكلَّم به ابن آدم فإنه مكتوبٌ عليه، فإذا أخطأَ خطيئةً فأحبَّ أن يتوبَ إلى الله ﷿ فليأتِ بُقْعةً رفيعة (3) فليَمدُدْ يديه إلى الله، ثم يقول: اللهمَّ إني أتوبُ إليك منها أن لا أرجِعَ إليها أبدًا، فإنه يُغفَرُ له ما لم يَرجِعْ في عملِه ذلك" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7673 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر وہ چیز جو انسان اپنی زبان سے نکالتا ہے، وہ اس کے لیے لکھ دی جاتی ہے، جب وہ کوئی غلطی کرتا ہے، پھر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرنا چاہتا ہے پھر وہ اپنے دوست کے پاس آ کر، اپنے ہاتھ بلند کر کے یوں دعا مانگتا ہے اے اللہ! میں اس گناہ سے تیری طرف لوٹ کر آتا ہوں، اب میں کبھی بھی اس گناہ کی جانب نہیں بڑھوں گا اللہ تعالیٰ اس کا گناہ معاف فرما دیتا ہے، اگر وہ اس گناہ کو دوبارہ نہ دہرائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7866]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7866 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (ز) إلى: فضل، وفي (م) إلى الفضل، وجاء على الصواب في "تلخيص الذهبي".
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (م) میں لفظ کی تحریف (غلطی) ہوگئی ہے، جبکہ امام ذہبی کی "تلخیص" میں یہ درست درج ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ إلى: سليمان.
📝 نوٹ / توضیح: نسخوں میں نام کی تحریف ہوئی ہے اور اسے "سلیمان" لکھ دیا گیا ہے۔
(3) تحرَّف في النسخ إلى: فليأت رفيقه، وجاء على الصواب في "تلخيص الذهبي".
📝 نوٹ / توضیح: نسخوں میں عبارت "فلیات رفیقہ" تحریف شدہ ہے، جبکہ امام ذہبی کی "تلخیص" میں اسے درست کر دیا گیا ہے۔
(4) إسناده ضعيف من أجل فضيل بن سليمان النُّميري. وسلف برقم (1920).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعف کی وجہ راوی "فضیل بن سلیمان النُّمری" ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اس کی تفصیل پہلے حدیث نمبر 1920 کے تحت گزر چکی ہے۔