المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. أم القرآن عوض من غيرها وليس غيرها منها عوضا .
سورۃ الفاتحہ دوسری سورتوں کی جگہ کفایت کر جاتی ہے، مگر کوئی سورت اس کی جگہ کفایت نہیں کرتی۔
حدیث نمبر: 789
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرْعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي، حدثنا الوليد بن عُتْبة، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني غيرُ واحد منهم سعيد بن عبد العزيز التَّنُوخي، عن مكحول، عن محمود، عن أبي نُعَيم، أنه سمع عبادةَ بن الصامت، عن النبي ﷺ قال:"هل تَقرؤون في الصلاةِ معي؟ قلنا: نعم، قال:"فلا تَفعَلوا إلّا بفاتحةِ الكتاب" (1) . ومنها:
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "کیا تم نماز میں میرے ساتھ قرأت کرتے ہو؟" ہم نے عرض کیا: "جی ہاں،" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم فاتحہ الکتاب کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو۔" [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 789]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 789 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح إن شاء الله لكن بإسقاط الواسطة بين محمود - وهو ابن الربيع - وبين عبادة، فإنها غلطٌ كما سبق، فإنَّ أبا نعيم كان المؤذن ولم يكن راويًا.
⚖️ درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند صحیح ہے، لیکن محمود (بن الربیع) اور حضرت عبادہ کے درمیان جو واسطہ (ابو نعیم کا) ذکر ہوا ہے اسے حذف کیا جائے گا کیونکہ وہ غلطی ہے، جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ ابو نعیم محض مؤذن تھے، راوی نہیں تھے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن" 2/ 165، والقراءة خلف "الإمام" (125) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے اپنی کتاب "السنن" 2/ 165 اور "القراءۃ خلف الامام" (125) میں ابوعبداللہ الحاکم کے طریق سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني (1218) عن أبي محمد بن صاعد، عن أبي زرعة الدمشقي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام دارقطنی نے (1218) میں ابومحمد بن صاعد عن ابوزرعہ الدمشقی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "مسند الشاميين" (296) عن عبدوس بن ديزويه الرازي، عن الوليد بن عتبة به. بإسقاط أبي نعيم من سنده.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "مسند الشامیین" (296) میں عبدوس بن دیزویہ الرازی عن الولید بن عتبہ کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر اس کی سند سے "ابو نعیم" کا نام ساقط (حذف) ہے۔