🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. نهى النبى أن يضع الرجل إحدى رجليه على الأخرى وهو مضطجع .
نبی کریم ﷺ نے لیٹ کر ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھنے سے منع فرمایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7893
كما أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا النَّضْر بن شُمَيل، أخبرنا شُعْبة، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عليٍّ قال: قال رسول الله ﷺ:"يا عليُّ، سَلِ الله الهُدى والسَّدادَ، واذْكُرْ بالهُدى هِدايتَك الطريقَ، وبالسَّدادِ تسديدَك السَّهمَ" (2) . ثم أمر ﷺ ولدَه الحسنَ بنَ علي سيِّدَ شباب أهلِ الجنة بمثل ما أمرَ به أباه. حديث بُرَيد بن أبي مريم عن أبي الحَوْراء عن الحسن بن علي في دعاء القُنوت الذي علَّمه النَّبِيُّ ﷺ:"اللهمَّ اهدِني فيمَنْ هديتَ" (1) ، أشهرُ من أن يُذكَر إسنادُه وطرقه. رجعنا إلى الأخبار الصحيحة في الآداب ممَّا لم يُخرجها الإمامانِ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7700 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے علی! اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور سداد (درستگی) کا سوال کیا کرو اور ہدایت سے مراد سیدھا راستہ ہے اور سداد سے مراد تیروں کو درست کرنا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے صاحبزادے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما (جو کہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں) کو بھی وہی حکم دیا جو ان کے والد محترم کو دیا تھا۔ ٭٭ یزید ابن ابی مریم کی ابوالجوزاء کے واسطے سے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کردہ حدیث اس دعائے قنوت کے بارے میں ہے جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سکھائی تھی، وہ دعا ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ اللھم اھدنی فیمن ھدیت۔ یہ حدیث اس قدر مشہور ہے کہ اس کی اسناد ذکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اور ہم آداب کے موضوع پر اب ان احادیث کی جانب لوٹتے ہیں جن کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7893]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7893 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم: وهو ابن بهدلة زرّ: هو ابن حبيش.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور اس کی یہ سند عاصم بن بہدلہ (عاصم بن ابی النجود) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں راوی 'زر' سے مراد زر بن حبیش ہیں۔
وأخرجه البزار في "مسنده" (562)، وابن عدي في "الكامل" 3/ 283، والخطيب في "تاريخ بغداد" 4/ 54 من طريق أبي خالد الأحمر سليمان بن حيان، عن شعبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بزار نے اپنی مسند (562) میں، ابن عدی نے 'الکامل' (3/ 283) میں اور خطیب بغدادی نے 'تاریخ بغداد' (4/ 54) میں ابو خالد الاحمر سلیمان بن حیان کے طریق سے، انہوں نے شعبہ سے، اس سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال البزار: أحسب أنَّ أبا خالد أخطأ في إسناده، لأنَّهُ لم يتابعه على هذا الحديث بهذا الإسناد أحد، وإنما يروى هذا الحديث عن عاصم بن كليب عن أبي بردة عن علي. كذا قال، وقد تابع أبا خالد عليه موسى بنُ داود الضبي فيما قاله الدارقطني في "العلل" (492).
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام بزار فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابو خالد الاحمر سے اس کی سند میں غلطی ہوئی ہے، کیونکہ اس سند کے ساتھ اس حدیث میں کسی نے ان کی متابعت نہیں کی، بلکہ یہ حدیث 'عاصم بن کلیب عن ابی بردہ عن علی' کے طریق سے روایت کی جاتی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام بزار نے ایسا کہا ہے، جبکہ امام دارقطنی نے 'العلل' (492) میں ذکر کیا ہے کہ اس روایت میں موسیٰ بن داود الضبی نے ابو خالد کی متابعت کی ہے۔
ثم قال الدارقطني بعد أن ذكر روايتي أبي خالد الأحمر وموسى الضبي: كلاهما وهمٌ، والصواب عن شعبة: عن عاصم بن كليب عن أبي بردة عن علي. ونحو هذا في "كامل ابن عدي" و "تاريخ بغداد".
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام دارقطنی نے ابو خالد الاحمر اور موسیٰ الضبی دونوں کی روایات ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ دونوں ہی وہم (سہو) کا شکار ہوئے ہیں، اور شعبہ سے صحیح روایت 'عاصم بن کلیب عن ابی بردہ عن علی' کے طریق سے ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح کی تحقیق ابن عدی کی 'الکامل' اور خطیب کی 'تاریخ بغداد' میں بھی مذکور ہے۔
قلنا: وقد زاد الحاكم راويًا ثالثًا عن شعبة - كما في روايته - وهو النَّضْر بن شميل، وسنده صحيح إلى شعبة، فهذه الطرق الثلاثة عن شعبة تفيد أنَّ للحديث عنده طريقين، وشعبةُ حافظ مُكثِر، فما المانع من ذلك؟
📌 اہم نکتہ: امام حاکم نے شعبہ سے روایت کرنے والا ایک تیسرا راوی بھی بڑھایا ہے (جیسا کہ ان کی اپنی روایت میں ہے) اور وہ 'نضر بن شمیل' ہیں۔ شعبہ تک ان کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: شعبہ سے مروی یہ تینوں طرق اس بات کا فائدہ دیتے ہیں کہ ان کے پاس اس حدیث کی دو اسناد تھیں۔ چونکہ شعبہ ایک حافظ اور کثیر الحدیث امام ہیں، لہٰذا اس میں کسی ممانعت یا اشکال کی گنجائش نہیں۔
وأما طريق شعبة عن عاصم بن كليب عن أبي بردة عن علي، فأخرجها أحمد (2/ 1168)، وابن حبان (998)، وسنده قوي. ورواه عن عاصم أيضًا غيرُ شعبة، انظر أحمد (1124)، مسلمًا (2725)، وأبا داود (4225)، والنسائي (9469).
📖 حوالہ / مصدر: جہاں تک شعبہ عن عاصم بن کلیب عن ابی بردہ عن علی کے طریق کا تعلق ہے، تو اسے امام احمد (2/ 1168) اور امام ابن حبان (998) نے روایت کیا ہے، اور اس کی سند قوی ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: اسے عاصم سے شعبہ کے علاوہ دیگر راویوں نے بھی روایت کیا ہے، ملاحظہ ہو: احمد (1124)، مسلم (2725)، ابو داود (4225) اور نسائی (9469)۔
وأخرجه أحمد (664) من طريق خالد بن عبد الله الواسطي، عن عاصم بن كليب، عن أبي بردة، عن أبيه أبي موسى، عن علي. فزاد أبا موسى الأشعري بين أبي بردة وعلي، وهذا وهمٌ كما نبَّه عليه الدارقطني في "العلل".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (664) میں خالد بن عبد اللہ الواسطی عن عاصم بن کلیب عن ابی بردہ کے طریق سے روایت کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے والد ابو موسیٰ اشعری کے واسطے سے حضرت علی سے روایت کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند میں ابو بردہ اور حضرت علی کے درمیان 'ابو موسیٰ اشعری' کا اضافہ کیا گیا ہے، اور یہ وہم (سہو) ہے جیسا کہ امام دارقطنی نے 'العلل' میں اس پر تنبیہ فرمائی ہے۔
(1) أخرجه من طريق بريد بن أبي مريم أحمد (3/ 1718)، وأبو داود (1425) و (1426)، وابن ماجه (1178)، والترمذي (464)، والنسائي (1446)، وابن حبان (722) و (945). وقال الترمذي: حديث حسن لا نعرفه إلّا من هذا الوجه من حديث أبي الحوراء السعدي، واسمه ربيعة ابن شيبان، ولا نعرف عن النَّبِيّ ﷺ في القنوت في الوتر شيئًا أحسن من هذا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے برید بن ابی مریم کے طریق سے امام احمد (3/ 1718)، ابو داود (1425، 1426)، ابن ماجہ (1178)، ترمذی (464)، نسائی (1446) اور ابن حبان (722، 945) نے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف اسی طریق (ابو الحوراء السعدی، جن کا نام ربیعہ بن شیبان ہے) سے جانتے ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: نیز انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی کریم ﷺ سے وتر میں دعائے قنوت کے بارے میں اس سے بہتر کوئی روایت نہیں جانتے۔