🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. ذكر ما اختاره فقهاء أهل الكوفة فى جواب العاطس .
چھینک کے جواب میں فقہائے کوفہ کے پسندیدہ کلمات کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7892
فأخبرَناه محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حَدَّثَنَا أبو نُعيم وقَبيصة، قالا: حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا حَكيم بن الدَّيلم، حَدَّثَنَا أبو بُرْدة، حَدَّثَنَا أبو موسى قال: كان اليهودُ يَتعاطَسُون عند النَّبِيِّ ﷺ يَرجُونَ أن يقولَ لهم: يَرحمُكم الله، وكان يقول لهم:"يَهدِيكم الله ويُصلِحُ بالَكم" (1) .
هذا حديث متّصل الإسناد، وهذا الخبرُ ليس بخلاف الأخبار المأثورةِ الصحيحةِ المتفقِ عليها في الجامعين الصحيحين للإمامين محمِّد بن إسماعيل ومسلم بن الحجَّاج، لأنَّ من السُّنن الصحيحة أن يقولَ المسلمُ لأخيه العاطس: يرحمُك الله، فيجيبُه بأن يقول: يَهدِيكم الله ويُصلِحُ بالكم. وكان ﷺ يقول لليهود إذا عطسوا:"يَهدِيكم الله ويُصلحُ بالكم" بدلَ ما أمرَ ﷺ أن يُقال للمسلم إذا عطس: يرحمُكم الله. فالمحتجُّ بذلك ليس يُميِّز بين العاطس والمُشمِّت، وقد دعا النبيُّ ﷺ لنفسه وللمسلمين بالهداية في أخبارٍ كثيرة يطولُ شرحُها في هذا الموضع، وقد أمرَ النَّبِيُّ ﷺ خليلَه وصفيَّه وخَتَنَه عليَّ بن أبي طالب ﵁ أن يسأل الله الهدايةَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7699 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوموسیٰ فرماتے ہیں: یہودی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر چھینکا کرتے تھے، اس امید پر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے یرحمکم اللہ کہیں۔ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے کہتے یہدیکم اللہ و یصلح بالکم ۔ ٭٭ یہ حدیث متصل الاسناد ہے، اور یہ حدیث احادیث ماثورہ صحیحہ متفق علیہا جو کہ بخاری و مسلم میں موجود ہیں ان کے خلاف نہیں ہے کیونکہ سنن صحیحہ میں سے یہ بھی ہے کہ مسلمان اپنے چھینکنے والے بھائی سے کہے یرحمک اللہ اور وہ جواب میں کہے یہدیکم اللہ ویصلح بالکم یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یہ ہے کہ جب مسلمان کو چھینک آئے تو یرحمکم اللہ کہا جائے۔ اس حدیث سے دلیل پکڑنے والا عاطس (چھینکنے والے) اور مشمت (چھینکنے والے کا جواب دینے والے) کے درمیان فرق نہیں کر سکا۔ کیونکہ بہت ساری احادیث سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے لیے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت کی دعا مانگی ہے، اس مقام پر اگر ان احادیث مبارکہ کی تشریح کی جائے تو بات بہت طویل ہو جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خلیل، اپنے صفی، اپنے داماد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا مانگیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7892]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7892 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو نعيم هو الفضل بن دُكين، وقبيصة: هو ابن عقبة السوائي، وسفيان: هو الثَّوري، وأبو بردة: هو ابن أبي موسى الأشعري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راویوں کی تحقیق درج ذیل ہے: ابو نعیم سے مراد الفضل بن دکین ہیں، قبیصہ سے مراد قبیصہ بن عقبہ السوائی ہیں، سفیان سے مراد سفیان الثوری ہیں اور ابو بردہ سے مراد ابو بردہ بن ابی موسیٰ الاشعری ہیں۔
وأخرجه أحمد (32/ 19586) و (19684)، وأبو داود (5038)، والترمذي (2739)، والنسائي (9990) من طرق عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (32/ 19586 اور 19684)، امام ابو داود (5038)، امام ترمذی (2739) اور امام نسائی (9990) نے سفیان الثوری کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
قوله: "يتعاطسون" أي: يتكلَّفون العطاس.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: لفظ "يتعاطسون" کا مطلب یہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر یا تکلف کے ساتھ چھینکنے کی کوشش کرتے تھے۔