🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. أشرف المجالس ما استقبل به القبلة .
معزز ترین مجلس وہ ہے جس میں قبلہ رخ بیٹھا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7898
حدثني علي بن حَمْشاذ، حَدَّثَنَا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حَدَّثَنَا مُعلَّى بن منصور الرازي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن أبي المَوَال، عن عبد الرحمن بن أبي عَمْرة: أنَّ أبا سعيد الخُدْري أُوذِنَ بجنازةٍ في قومه، فجاء وقد أخذَ الناسُ مجالسَهم، فلما رأَوه تسرَّبُوا إليه فجَلسُوا في ناحية، وقال: إنَّ رسول الله ﷺ قال:"خيرُ المجالس أوسعُها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7705 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک قوم میں جنازے کا اعلان کیا گیا، پھر جنازہ آ گیا، لوگ اپنی اپنی محفلیں جما کر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب انہوں نے جنازہ دیکھا تو وہاں سے ہٹ گئے اور سڑک کے ایک کنارے پر بیٹھ گئے۔ اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بہترین مجلس وہ ہے، جس میں زیادہ وسعت ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7898]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7898 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، عبد الرحمن بن أبي عمرة: هو عبد الرحمن بن عمرو بن أبي عمرة كما سمّاه أبو داود وابن حبان، وسمّاه عبد البر في "التمهيد" 20/ 25 - وتابعه ابن حجر في "التقريب" - عبدَ الرحمن بن عبد الله بن أبي عمرة، وهذا لم يدرك أحدًا من الصحابة، ووهمَ المزيُّ فظنَّه عبد الرحمن بن أبي عمرة الذي اختُلف في صحبته، وهو عمُّ هذا، لذلك وهَّمه ابن حجر في "التهذيب" فقال: ما ادّعاه المؤلف (يعني المزي) من أنَّ عبد الرحمن بن أبي الموال روى عنه ليس بشيء، وإنما روى عن ابن أخيه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی عبد الرحمن بن ابی عمرہ کا نام دراصل عبد الرحمن بن عمرو بن ابی عمرہ ہے جیسا کہ ابو داود اور ابن حبان نے صراحت کی ہے۔ امام عبد البر اور حافظ ابن حجر کے نزدیک یہ عبد الرحمن بن عبد اللہ بن ابی عمرہ ہیں، جنہوں نے کسی صحابی کو نہیں پایا۔ 📌 اہم نکتہ: امام مزی سے یہاں وہم ہوا ہے کہ انہوں نے اسے وہ 'عبد الرحمن بن ابی عمرہ' سمجھ لیا جن کی صحابیت میں اختلاف ہے (جو کہ ان کے چچا ہیں)۔ ابن حجر نے 'تہذیب' میں اس کی تصحیح کی ہے کہ عبد الرحمن بن ابی الموال نے چچا سے نہیں بلکہ بھتیجے سے روایت کی ہے۔
وأخرجه أحمد (17/ 11137) و (18/ 11663)، وأبو داود (4820) من طرق عن عبد الرحمن بن أبي الموالي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17/ 11137 اور 18/ 11663) اور امام ابو داود (4820) نے عبد الرحمن بن ابی الموالی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔