المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. لا تمسح يدك بثوب من لا تملك .
اپنے ہاتھ کسی ایسے شخص کے کپڑے سے نہ پونچھو جس پر تمہارا حق (ملکیت) نہ ہو
حدیث نمبر: 7905
حَدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مرزوق البصري بمصر، حَدَّثَنَا أبو داود، حَدَّثَنَا شُعْبة، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: رأى النَّبِيُّ ﷺ أَبي وهو قاعدٌ في الشمس، فقال:"تحوَّلْ إلى الظلِّ فإنه مباركٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد وإن أرسله شعبةُ، فإِنَّ مِنْجَابَ بن الحارث وعليَّ بن مُسهِر ثقتان.
هذا حديث صحيح الإسناد وإن أرسله شعبةُ، فإِنَّ مِنْجَابَ بن الحارث وعليَّ بن مُسهِر ثقتان.
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد محترم کو دیکھا، وہ دھوپ میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھاؤں میں ہو جاؤ، کیونکہ وہ برکت والی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اگرچہ شعبہ نے اس میں ارسال کیا ہے۔ کیونکہ منجاب بن حارث اور علی بن مسہر ثقہ راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7905]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7905 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح دون قوله: "فإنه مبارك" فهي زيادة شاذَّة كما سبق. وإبراهيم بن مرزوق ليس بذاك المتقن، وقد روى الحديث يونس بن حبيب عن أبي داود الطيالسي في "مسنده" (1394) فلم يذكر هذه الزيادة. وروى الحديث أيضًا عن شعبة محمد بن جعفر عند أحمد (15517) فلم يذكرها أيضًا. وهذا الحديث - وإن كان ظاهره الإرسال قد جاء موصولًا في الرواية السالفة وفي الطرق المخرَّجة هناك.
⚖️ درجۂ حدیث: صحیح (بغیر اضافے کے)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: پچھلی بحث کی طرح اس میں بھی "فإنه مبارك" کے الفاظ 'شاذ' ہیں۔ ابراہیم بن مرزوق پختہ راوی (متقن) نہیں ہیں۔ 🧩 متابعات و شواہد: یونس بن حبیب نے ابوداؤد طیالسی سے ان کی "مسند" (1394) میں اسے روایت کیا تو اس اضافے کو ذکر نہیں کیا۔ اسی طرح امام شعبہ کے شاگرد محمد بن جعفر (غندر) نے بھی اسے مسند احمد (15517) میں روایت کیا اور یہ اضافہ ذکر نہیں کیا۔ 📌 اہم نکتہ: یہ حدیث اگرچہ بظاہر 'مرسل' معلوم ہوتی ہے لیکن گزشتہ روایت اور وہاں بیان کردہ دیگر طرق میں یہ 'موصول' (متصل) ثابت ہے۔