المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. النهي عن مجلسين وملبسين .
دو طرح کی مجلسوں اور دو طرح کے لباس کی ممانعت
حدیث نمبر: 7906
أخبرنا عبد الصمد بن علي البزَّاز ببغداد، حَدَّثَنَا حامد بن سهل، حَدَّثَنَا عمرو بن مرزوق، حَدَّثَنَا شُعبة، عن عبد ربِّه بن سعيد، عن أبي عبد الله مولى أبي موسى الأشعَري، عن سعيد بن أبي الحسن قال: كنَّا في بيتٍ في شهادةٍ فدخل علينا أبو بَكْرةَ، فقام إليه رجلٌ عن مجلسِه، فقال أبو بكرةَ: قال رسول الله ﷺ:"لا يقيمُ الرجلُ الرجلَ من مجلسِه ثم يَقعُدُ فيه، ولا تَمسَحْ يدَك بثَوبِ من لا تَملِكُ" (2) . قد اتَّفق الشيخان على حديث القِيام (1) ، ولم يُخرجا حديث الثّوب، وهو صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7713 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7713 - صحيح
سیدنا سعید بن ابی الحسن فرماتے ہیں: ہم ایک گھر میں گواہی دینے کے لیے موجود تھے، سیدنا ابوبکرہ ہمارے پاس آئے، مجلس میں سے ایک آدمی ان کی جانب اٹھا، سیدنا ابوبکرہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی آدمی، دوسرے کو اٹھا کر اس کی جگہ خود نہ بیٹھے، اور اپنا ہاتھ اس کپڑے کے ساتھ صاف نہ کریں جو تمہارا نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے قیام والی بات نقل کی ہے، اور کپڑے والی بات نقل نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7906]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7906 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لجهالة أبي عبد الله مولى أبي موسى الأشعري. وأخرجه أحمد (34/ 20450) و (20486)، وأبو داود (4827) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے مولیٰ "ابو عبداللہ" کے مجہول (نامعلوم) ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (34/ 20450) اور (20486) میں، اور ابوداؤد (4827) نے شعبہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن ابن عمر عند أحمد (9/ 5567)، وأبي داود (4828)، وسنده ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: ضعیف۔ 📖 حوالہ / مصدر: اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مروی ہے جو مسند احمد (9/ 5567) اور ابوداؤد (4828) میں موجود ہے، مگر اس کی سند بھی ضعیف ہے۔
والصحيح في هذا الباب ما رواه البخاري (6269) ومسلم (2177) من حديث ابن عمر رفعه: "لا يقيم الرجلُ الرجلَ من مجلسه ثم يجلس فيه".
⚖️ درجۂ حدیث: صحیح۔ 📌 اہم نکتہ: اس باب میں سب سے صحیح روایت وہ ہے جسے امام بخاری (6269) اور مسلم (2177) نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ: "کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر خود وہاں بیٹھ جائے"۔
(1) هو حديث ابن عمر المشار إليه في الحديث السابق.
📝 نوٹ / توضیح: یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی وہی حدیث ہے جس کا اشارہ پچھلی بحث میں گزرا ہے۔