المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. كان النبى إذا تكلم بكلمة أعادها ثلاثا
نبی کریم ﷺ جب کوئی بات فرماتے تو اسے تین بار دہراتے تھے
حدیث نمبر: 7908
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُوري، حَدَّثَنَا عثمان بن عمر، حَدَّثَنَا إسرائيل، عن مَيْسَرةَ بن حَبيب، عن المِنْهال بن عمرو، عن عائشة بنت طلحة، عن عائشة أمِّ المؤمنين قالت ما رأيتُ أحدًا أشبهَ سَمْتًا ودَلًّا وهَديًا برسولِ الله ﷺ في قيامِها وقعودِها من فاطمة بنتِ رسول الله ﷺ. قالت: وكانت إذا دخلَتْ على النَّبِيِّ ﷺ، قامَ إليها فقبَّلها وأجلسَها في مَجلِسِه، وكان النبيُّ ﷺ إذا دخلَ عليها قامَتْ من مَجلِسِها، فقبَّلَتْه وأجلسَتْه في مَجْلِسِها، فلمَّا مَرِضَ النبيُّ ﷺ دخلَتْ فاطمةُ فأكبَّتْ عليه فقبَّلَته، ثم رفعت رأسَها [فبكَتْ، ثم أكبَّتْ عليه ورفعت رأسَها] (1) فضَحِكَت. فقلتُ: إني كنتُ أظنُّ أنَّ هذه من أعقلِ نسائِنا، فإذا هي من النِّساء، فلمَّا توفي النَّبِيّ ﷺ قلتُ لها: رأيتُكِ حين أكببتِ على النَّبِيِّ فرفعتِ رأسَك فبكيتِ، ثم أكببتِ عليه فرفعتِ رأسَك فضحكتِ، ما حَمَلَكِ على ذلك؟ قالت: إِنِّي إِذًا لَبَذِرَةٌ، أخبرني أنه ميِّتٌ من وجعِه هذا فبكيتُ، ثم أخبرني أنِّي أسرعُ أهل بيتِه لُحوقًا به، فذاك حين ضحكتُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث الشَّعْبي عن مسروق عن عائشة ﵂ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7715 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث الشَّعْبي عن مسروق عن عائشة ﵂ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7715 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے گفتگو، سمجھانے کے انداز اور گفتار میں، فاطمہ سے زیادہ کسی کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت نہیں دیکھی، اٹھنا، بیٹھنا سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسا تھا۔ آپ فرماتی ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے استقبال کے لیے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے، ان کی پیشانی پر بوسہ دیتے اور ان کو اپنے ساتھ بٹھاتے۔ اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جاتے، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے کھڑی ہو جاتیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بوسہ دیتیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو سیدہ کائنات سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جھک گئیں، کچھ دیر بعد سر اوپر اٹھایا اور آپ رو پڑیں، اس کے بعد دوبارہ آپ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئیں، کچھ دیر بعد سر اوپر اٹھایا اور آپ مسکرا پڑیں، میں نے سوچا: میں تو ان کو سب سے زیادہ عقلمند سمجھتی تھی، لیکن یہ بھی دوسری عورتوں کی طرح نکلی، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو (بعد میں) میں نے ان سے پوچھا: میں نے تمہیں دیکھا، تھا تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکی، پھر تم نے سر اوپر اٹھایا اور رو پڑی، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکی، پھر سر اٹھایا اور مسکرا دی، اس کی وجہ کیا تھی؟ سیدہ کائنات سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت کی) نذر مانی ہوئی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ اس درد میں میری وفات ہو جائے گی، اس لیے میں رو پڑی تھی، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ پورے گھر میں سب سے پہلے میں اپنے ابا سے ملوں گی، یہ سن کر میں خوش ہو گئی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے شعبی کے ذریعے، مسروق کے واسطے سے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7908]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7908 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) طريق مسروق هذه سلفت عند المصنّف برقم (4795)، وذكرنا تخريجها هناك.
📖 حوالہ / مصدر: مسروق بن اجدع کی یہ سند مصنف کے ہاں پہلے نمبر (4795) پر گزر چکی ہے اور ہم نے وہاں اس کی مکمل تخریج ذکر کر دی ہے۔
(1) ما بين المعقوفين لم يرد في نسخنا الخطية، وأثبتناه من مصادر التخريج. وآخر الحديث يوجب وجوده حتَّى يتم المعنى.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ [ ] کے درمیان موجود عبارت ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں تھی، ہم نے اسے تخریج کے دیگر مصادر سے ثابت کیا ہے۔ حدیث کا آخری حصہ اس عبارت کے ہونے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ مفہوم مکمل ہو سکے۔
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الترمذي (3872)، والنسائي (8311) و (9193)، وابن حبان (6953) من طرق عن عثمان بن عمر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3872)، نسائی (8311، 9193) اور ابن حبان (6953) نے عثمان بن عمر کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (9192) من طريق النضر بن شميل، عن إسرائيل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (9192) نے نضر بن شمیل عن اسرائیل (بن یونس) کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسلف مختصرًا برقم (4785).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے نمبر (4785) پر اختصار کے ساتھ گزر چکی ہے۔
وأخرجه مختصرًا أحمد (41/ 24483) و (43/ 26032)، والبخاري (3625) و (3715) و (4433)، ومسلم (2450) (97)، والنسائي (8309)، وابن حبان (6954) من طريق عروة بن الزبير، والنسائي (8308) و (8459)، وابن حبان (6952) من طريق أبي سلمة، كلاهما عن عائشة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مختصراً امام احمد (41/ 24483، 43/ 26032)، بخاری (3625، 3715، 4433)، مسلم (2450) (97)، نسائی (8309) اور ابن حبان (6954) نے عروہ بن زبیر کے طریق سے؛ اور نسائی (8308، 8459) و ابن حبان (6952) نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یہ دونوں (عروہ و ابوسلمہ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔
والبَذِرُ: الذي يُفشي السرَّ ويُظهر ما يسمعه. قاله ابن الأثير في "النهاية".
📝 نوٹ / توضیح: البَذِرُ: اس سے مراد وہ شخص ہے جو راز فاش کرتا ہو اور جو کچھ سنے اسے لوگوں میں ظاہر کر دے۔ یہ تعریف ابن اثیر نے "النهایہ" میں بیان کی ہے۔