المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. النهي عن التسمية بملك الأملاك
ملک الاملاک (شہنشاہ) نام رکھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 7916
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بشر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان، أخبرنا أبو الزِّناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة، أنَّ النَّبِيَّ ﷺ قال:"إنَّ أخنعَ الأسماء عند الله يومَ القيامة رجلٌ تَسمَّى مَلِكَ الأملاكِ"؛ شاهانْ شاهْ. قال سفيان: إنَّ العَجَم إذا عظَّموا ملكهم يقولون: شاهانْ شاهْ، إنَّكَ مَلِكُ الملوك (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه! لأنَّ جماعةً من أصحاب سفيان رَوَوه عنه بإسناده عن أبي هريرة يَبلُغ؛ به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7723 - قد أخرجاه
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه! لأنَّ جماعةً من أصحاب سفيان رَوَوه عنه بإسناده عن أبي هريرة يَبلُغ؛ به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7723 - قد أخرجاه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو سب سے ناپسندیدہ نام ” ملک الاملاک، شہنشاہ “ ہے۔ سیدنا سفیان فرماتے ہیں: عجم کی عادت ہے کہ جب وہ اپنے بادشاہوں کی عظمت بیان کرتے ہیں تو ان کو شہنشاہ کہتے ہیں۔ کہتے ہیں: تو ” ملک الملوک “ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ کیونکہ سفیان کے شاگردوں کی ایک جماعت نے اس کو ابوالزناد سے اپنی اسناد کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7916]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7916 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. سفيان هو ابن عيينة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور سفیان سے مراد سفیان بن عیینہ ہیں۔
وأخرجه أحمد (12/ 7329)، والبخاري (6206)، ومسلم (2143) (20)، وأبو داود (4961)، والترمذي (2837)، وابن حبان (5835) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (12/ 7329)، بخاری (6206)، مسلم (2143/ 20)، ابوداؤد (4961)، ترمذی (2837) اور ابن حبان (5835) نے سفیان بن عیینہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس حدیث کو مستدرک میں لانا ان کی ذہنی فروگزاشت (بھول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے شیخین کی صحیح میں موجود ہے۔
وأخرجه البخاري (6205) من طريق شعيب بن أبي حمزة، عن أبي الزناد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (6205) نے شعیب بن ابی حمزہ عن ابی الزناد (عبد اللہ بن ذکوان) کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد (13/ 8176)، ومسلم (2143) (21) من طريق همام بن منبّه، عن أبي هريرة. وانظر ما بعده.
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح کی روایت امام احمد (13/ 8176) اور مسلم (2143/ 21) نے ہمام بن منبہ کے طریق سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
قوله: "أخنع" يعني: أقبح.
📝 نوٹ / توضیح: حدیث میں لفظ "أخنع" کا مطلب ہے: "أقبح" (سب سے زیادہ برا/قبیح یا ذلیل)۔