🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. النَّهْيُ عَنِ التَّسْمِيَةِ بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ
ملک الاملاک (شہنشاہ) نام رکھنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7918
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجلَّاب بهَمَذان، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرازي، حَدَّثَنَا سعيد بن مروان الرُّهَاوي (2) ، حَدَّثَنَا عصام بن بَشير، حدثني أبي، قال: وَفَّدَني قومي بنو الحارث بن كعب إلى النَّبِيّ ﷺ، فلما أتيته قال لي:"مَرحَبًا، ما اسمك؟": قلت: كثيرٌ، قال:"بل أنت بَشيرٌ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7725 - صحيح
عصام بن بشیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میری قوم بنو حارث بن کعب نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وفد بنا کر بھیجا، جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا: ”خوش آمدید، تمہارا نام کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: کثیر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم بشیر (خوشخبری دینے والے) ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7918]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عصام بن بشير، فقد روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"» [ترقيم الرساله 7918] [ترقيم الشركة 7824] [ترقيم العلميه 7725]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن من أجل عصام بن بشير

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7918 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى الزهراني.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف (کتابت کی غلطی) ہوئی ہے اور لفظ "الزهراني" لکھ دیا گیا ہے (جو کہ اصل کے خلاف ہے)۔
(3) إسناده حسن من أجل عصام بن بشير، فقد روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات".
⚖️ درجۂ حدیث: عصام بن بشیر کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی عصام بن بشیر سے محدثین کی ایک جماعت نے روایت لی ہے اور امام ابن حبان نے انہیں اپنی کتاب "الثقات" میں ذکر کیا ہے، جو ان کی توثیق کی دلیل ہے۔
وأخرجه النسائي (10072) عن أحمد بن سليمان، عن سعيد بن مروان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (10072) نے احمد بن سلیمان عن سعید بن مروان کی سند سے اسی سابقہ اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7918 in Urdu