المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. الريح من روح الله فلا تسبوها .
ہوا اللہ کی رحمت ہے، اسے برا بھلا نہ کہو
حدیث نمبر: 7962
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا بِشر (1) ابن بكر، حدثنا الأوزاعي، حدثني ابن شِهاب، حدثني ثابت الزُّرَقي، أنَّ أبا هريرة قال: أَخَذَتِ الناسَ رِيحٌ بطريق مكة وعمر بن الخطاب حاج، فاشتدَّتْ عليهم، فقال عمر بن الخطاب لمن حولَه ما الريحُ؟ فلم يَرجِعوا إليه شيئًا، فبلغني الذي سأل عنه عمرُ، فاستَحثَثتُ راحلتي حتى أدركتُه، فقلت: يا أميرَ المؤمنين، أُخبرتُ أنَّك سألتَ عن الرِّيح، وإني سمعت رسولَ الله ﷺ يقول:"الرِّيحُ من رَوْحِ الله تعالى؛ تأتي بالرَّحمة وتأتي بالعذاب، فلا تَسبُّوها، وسَلُوا الله خيرَها، واستَعيذُوا بالله من شرِّها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7769 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7769 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مکہ کے راستے میں، لوگوں پر آندھی آ گئی، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سفر حج پر تھے، آندھی بہت سخت ہو گئی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ آندھی کیسی ہے؟ لیکن کسی نے بھی کوئی خاطر خواہ جواب نہ دیا، (سیدنا ابوہریرہ فرماتے ہیں) سیدنا عمر نے آندھی کے بارے میں جو بات پوچھی تھی، اس کی اطلاع مجھ تک بھی پہنچی، میں نے اپنی سواری کو تیز کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا، میں نے ان سے کہا: اے امیرالمومنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے ”ریح“ (ہوا) کے بارے میں پوچھا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ریح“ (ہوا) اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی لے کر آتی ہے اور یہ عذاب بھی لاتی ہے۔ اس لئے اس کو گالی مت دو، بلکہ اس کی بھلائی مانگو اور اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7962]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7962 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: شريك.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں لفظ کی تحریف ہوئی ہے اور یہ نام غلطی سے "شریک" درج ہو گیا ہے۔
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 12 / (7413) و 15 / (9299) و (9629)، وابن ماجه (3727)، والنسائي (10702)، وابن حبان (1007) و (5732) من طرق عن الأوزاعي بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے اپنی مسند (7413، 9299، 9629)، ابن ماجہ (3727)، نسائی (10702) اور ابن حبان (1007، 5732) میں امام اوزاعی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (13 (7631)، وأبو داود (5097) من طريق معمر بن راشد، وأحمد 16/ (10714) من طريق يونس بن يزيد، والنسائي (10710) من طريق زياد بن سعد، ثلاثتهم عن الزهري، به. وخالف أصحابَ الزهري المذكورين سالم بن عجلان الأفطسُ فأبدل بثابتٍ الزرقي عمرَو بن سليم الزرقي. أخرجه من طريقه النسائي (10700). وفي سنده عمر بن سالم الأفطس وهو مجهول.
🧩 متابعات و شواہد: اسے امام احمد (7631) اور ابو داؤد (5097) نے معمر بن راشد کے طریق سے، امام احمد (10714) نے یونس بن یزید کے طریق سے اور نسائی (10710) نے زیاد بن سعد کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ تینوں اسے امام زہری سے روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: زہری کے ان مذکورہ شاگردوں کے برعکس سالم بن عجلان افطس نے روایت میں ثابت زرقی کی جگہ عمرو بن سلیم زرقی کا نام ذکر کر دیا، جسے نسائی (10700) نے روایت کیا ہے، مگر اس کی سند میں عمر بن سالم افطس ہے جو کہ مجہول ہے۔
وخالفهم كذلك عُقيل بن خالد، فرواه عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة. أخرجه من طريقه النسائي (10699). وفي سنده طلق بن السمح جهّله أبو حاتم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اسی طرح عقیل بن خالد نے بھی دیگر شاگردوں کی مخالفت کی اور اسے زہری، سعید بن مسیب اور پھر حضرت ابو ہریرہ کے واسطے سے روایت کیا، جسے نسائی (10699) نے نقل کیا ہے، لیکن اس کی سند میں طلق بن سمح موجود ہے جسے امام ابو حاتم نے مجہول قرار دیا ہے۔
قال الدارقطني في "العلل" (1564): والصحيح حديث الزهري عن ثابت بن قيس الزرقي عن أبي هريرة. وانظر حديث أبي بن كعب السالف برقم (3112).
⚖️ درجۂ حدیث: امام دارقطنی "العلل" (1564) میں فرماتے ہیں کہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ امام زہری کی روایت ہے جو ثابت بن قیس زرقی کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث نمبر (3112) بھی ملاحظہ فرمائیں۔