🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. النهي عن تعاطي السيف مسلولا .
برہنہ (نیام سے نکلی ہوئی) تلوار پکڑنے یا دینے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7979
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق وعلي بن عبد العزيز قالا: حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن أبي الزُّبير، عن جابر قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ أن يُتعاطَى السيفُ مسلولًا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7785 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے نیام تلوار پکڑنے سے منع فرمایا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7979]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7979 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 22 (14201) و 23/ (14885)، وأبو داود (2588)، والترمذي (2163)، وابن حبان (5946) من طرق عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن غريب من حديث حماد بن سلمة. وأخرجه أحمد 23/ (14981)، وابن حبان (5943) من طريق ابن جريج، عن أبي الزبير، قال: سمعت جابرًا يقول: إنَّ النبي ﷺ مرَّ بقوم يتعاطَون سيفًا بينهم مسلولًا، فقال: "ألم أزجُرْكم عن هذا؟ ليُغمِدْه، ثم يُناوِلْه أخاه".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابو داؤد، ترمذی اور ابن حبان نے حماد بن سلمہ کے مختلف طرق سے اسی سند سے روایت کیا ہے، امام ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جو ایک دوسرے کو ننگی تلوار تھما رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا؟ اسے چاہیے کہ پہلے اسے میان میں ڈالے، پھر اپنے بھائی کو دے"۔
وأخرجه أحمد (14980) من طريق سليمان بن موسى عن جابر بنحو لفظ سابقه. وإسناده منقطع، فسليمان بن موسى - وهو الأشدق لم يسمع من جابر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (14980) نے سلیمان بن موسیٰ کے طریق سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم میں روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند منقطع ہے کیونکہ سلیمان بن موسیٰ الاشدق نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے براہِ راست کچھ نہیں سنا۔
وأخرجه أحمد (14742) من طريق ابن لهيعة، عن أبي الزبير عن جابر، عن بنَّة - وقيل: نبيه - الجهني مرفوعًا. فجعله من مسند بنّة، فإن كان ابن لهيعة حفظه - وفي حفظه سوء - فيكون من رواية صحابي عن صحابي، وتكون الرواية الأولى من مرسل الصحابي، وانظر تتمة تخريجه من هذا الطريق في "المسند".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (14742) نے ابن لہیعہ کے طریق سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بنّہ (یا نبيه) الجہنی سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگر ابن لہیعہ کو یہ صحیح یاد ہے (حالانکہ ان کے حافظے میں خرابی تھی) تو یہ "صحابی عن صحابی" کی روایت ہوگی، ورنہ پہلی روایت "مرسلِ صحابی" قرار پائے گی۔ مزید تفصیل مسند احمد میں دیکھیں۔
قوله "مسلولًا" أي: منزوعًا من غِمده.
📝 نوٹ / توضیح: "مسلولاً" کا مطلب ہے میان سے نکلی ہوئی ننگی (تلوار)۔