🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. إسلام غلام من اليهود بأمر النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - .
نبی کریم ﷺ کے حکم سے ایک یہودی لڑکے کے اسلام لانے کا قصہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7981
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي بن أحمد بن عَلَم الصَّفَّار (1) ببغداد، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (2) ، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي قال: سمعتُ منصور بن زاذان يُحدِّث عن ميمون بن أبي شَبيب، عن قيس بن سعد بن عُبادة: أنَّ أباه دَفَعَه إلى النبيِّ ﷺ يَخدُمُه، قال: فأتى عليَّ النبيُّ ﷺ وقد صلَّيتُ ركعتينِ، فضربني برِجْله، فقال:"ألا أدلُّكَ على بابٍ من أبواب الجنَّة؟" قلت: بلى يا رسولَ الله، قال:"لا حول ولا قوةَ إلَّا بالله" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وكان القصدُ في ذكره في هذا الموضع أنَّ الوالدَ مباحٌ له أن يُخدِمَ ولدَه، ثم للموهوب له الخدمةُ أن يَستخدِمَ، ثم يُعرف من فضل قيس بن سعد ﵁ أنَّه خدم النبي ﷺ حتى صار منه بمنزلة صاحب الشُّرَط، ثم لم يُفارِقُ أميرَ المؤمنين علي بن أبي طالب ﷺ في السَّرّاء والضَّرّاء إلى أن استُشِهدَ بين يديه يوم صِفِّين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7787 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، آپ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں دو رکعتیں پڑھ چکا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں مجھے مارا، اور فرمایا: کیا میں جنت کے دروازوں پر تیری راہنمائی نہ کروں؟ میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو اس مقام پر ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ والد کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے بیٹے سے خدمت لے سکتا ہے، پھر جس کو تحفہ دیا گیا ہے، اس کے لیے بھی جائز ہے کہ وہ اس سے اپنی خدمت بھی کروا سکتا ہے۔ پھر اس میں سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی یہ فضیلت بھی ثابت ہو رہی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے۔ حتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ بن کر رہے۔ پھر یہ امیرالمومنین سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنگی اور کشادگی میں مسلسل رہے، اور جنگ صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حمایت میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7981]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7981 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا وقع اسمه في النسخ الخطية، ولم نقف على راو بهذا الاسم، ويظهر لنا أنه محمد بن عبد الله بن عَمرَويه، فهو المعروف بابن عَلَم الصَّفَّار، وهو ممَّن يروي عن محمد بن إسحاق الصّغاني، وقد روى عنه المصنف في عدة مواضع.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام اسی طرح (غلط) درج ہوا ہے، ہمیں اس نام کا کوئی راوی نہیں ملا۔ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ "محمد بن عبد اللہ بن عمرویہ" ہیں، جو ابن علم الصفار کے نام سے مشہور ہیں اور محمد بن اسحاق صغانی کے شاگرد ہیں۔ مصنف (امام حاکم) نے ان سے کئی مقامات پر روایت لی ہے۔
(2) تحرّف في النسخ الخطية إلى الصنعاني.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں لفظ کی تحریف ہوئی ہے اور یہ غلطی سے "الصنعانی" (صنعانی) لکھا گیا ہے۔
(3) إسناده ضعيف ميمون بن أبي شبيب لم يذكروا له سماعًا من قيس بن سعد، وهو كثير الإرسال، وقال عمرو بن علي الفلاس: ليس يقول في شيء من حديثه: سمعت، ولم أُخبَر أَنَّ أحدًا يزعم أنه سمع من الصحابة. وقد ضعَّفه ابن معين، وقال أبو حاتم: صالح الحديث، وذكره ابن حبان في "الثقات".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: میمون بن ابی شبیب کا قیس بن سعد سے سماع ثابت نہیں ہے اور وہ کثرت سے "ارسال" (درمیانی راوی چھوڑنا) کرتے تھے۔ عمرو بن علی فلاس کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی حدیث میں "میں نے سنا" نہیں کہا، اور نہ ہی کسی نے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے صحابہ سے سنا ہے۔ امام ابن معین نے انہیں ضعیف کہا، جبکہ ابو حاتم نے "صالح الحدیث" قرار دیا اور ابن حبان نے "الثقات" میں ذکر کیا۔
وأخرجه أحمد 24 (15480)، والترمذي (3581)، والنسائي (10115) من طريق وهب بن جرير، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث صحيح غريب من هذا الوجه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (24/ 15480)، ترمذی (3581) اور نسائی (10115) نے وہب بن جریر کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے اس طریق سے "صحیح غریب" قرار دیا ہے۔
وفي الباب عن معاذ بن جبل عند أحمد 35/ (21996)، والنسائي (10117)، وسنده ضعيف أيضًا، وقد اختلف في لفظه، فرواه البعض كلفظ حديث عبادة، ورواه البعض الآخر بلفظ: "كنز من كنوز الجنة". وبهذا اللفظ الأخير، جاء في الأحاديث الصحيحة المعتبرة، كحديث أبي موسى الأشعري عند البخاري (4205) ومسلم (2704).
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مسند احمد (35/ 21996) اور نسائی (10117) میں روایت موجود ہے مگر اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اس کے الفاظ میں اختلاف ہے؛ بعض نے اسے حضرت عبادہ کی حدیث کی طرح روایت کیا اور بعض نے "جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ" کے الفاظ سے۔ یہی آخری لفظ صحیح اور معتبر احادیث میں ثابت ہے، جیسے صحیح بخاری (4205) اور صحیح مسلم (2704) میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث۔
وعن أبي ذرٍّ عند أحمد 35 / (21298)، وابن ماجه (3825)، والنسائي (9758)، وابن حبان (820).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت مسند احمد (35/ 21298)، ابن ماجہ (3825)، نسائی (9758) اور ابن حبان (820) میں مروی ہے۔
وعن أبي هريرة عند أحمد 14 / (7966)، والنسائي (10118).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مسند احمد (14/ 7966) اور نسائی (10118) میں مروی ہے۔