المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
45. إذا أتاكم كريم قوم فأكرموه .
جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز شخص آئے تو اس کی عزت کرو
حدیث نمبر: 7984
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، عن حُميد، عن الحسن، عن أبي بَكْرة قال: عَصَمَني الله بشيء سمعتُه من النبيِّ ﷺ لمّا بَلَغَه أنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنَ تُوفِّي، فولَّوا أمرَهم امرأةً، فقال النبيُّ ﷺ:"لن يُفلِحَ قومٌ تَملِكُهم (1) امرأةٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7790 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7790 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک چیز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھی تھی اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے بچا لیا، واقعہ یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ ذی یزن کا بادشاہ فوت ہو گیا ہے، اور انہوں نے امور سلطنت ایک عورت کے سپرد کر دئیے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس کی حکمران عورت ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7984]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7984 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز): تملكتهم.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں یہاں لفظ "تملکتہم" (وہ ان کی ملکہ بنی) درج ہے۔
(2) إسناده صحيح، لكن قوله: ملك ذي يزن وهمٌ، فالذي تُوفِّي هو كسرى ملك فارس كما في الرواية السالفة برقم (4658) من طريق محمد بن خالد المثنى عن بن خالد بن الحارث، وسيأتي كذلك على الصواب برقم (8812) من طريق عوف بن أبي جميلة عن الحسن البصري، ومن هذه الطريق أخرجه البخاري كما يأتي. واستدراك الحاكم له ذهول منه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: متن میں "شاہِ ذی یزن" کا تذکرہ وہم ہے، کیونکہ وفات پانے والا فارس کا بادشاہ کسرٰی تھا، جیسا کہ حدیث نمبر (4658) اور (8812) میں صحیح طور پر مروی ہے اور اسی طریق سے امام بخاری نے بھی روایت کیا ہے۔ امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی ذہنی لغزش (ذہول) ہے۔