🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ .
جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز شخص آئے تو اس کی عزت کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7985
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا السَّري بن خُزيمة، حدثنا عمر (3) بن حفص بن غِيَاث، حدثني أبي، حدثنا مَعبَد (4) بن خالد الأنصاري، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله قال: دخل جَريرُ بن عبد الله على رسولِ الله ﷺ وعندَه أصحابُه، فضَنَّ كلُّ رجل بمَجلِسِه، فأخذَ رسولُ الله ﷺ رداءَه فألقاهُ إليه، فتلقَّاه بنَحْرِه ووجهِه فقبَّله ووَضَعَه على عينه، وقال: أكرمَكَ الله كما أكرمتَني، ثم وَضَعَه على ظَهرِ رسولِ الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ:"مَن كان يُؤْمِنُ بالله واليوم الآخر، فإذا أتاه كريمُ قومٍ [فليُكرِمه] (1) " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7791 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد موجود تھے، لوگوں نے (جگہ کی تنگی کی وجہ سے) اپنی جگہ دینے میں کچھ تامل کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک اٹھا کر ان کی طرف پھینک دی، جریر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے سینے اور چہرے سے لگا لیا، اسے چوما اور اپنی آنکھوں پر رکھا، پھر عرض کیا: اللہ آپ کو اسی طرح معزز رکھے جیسے آپ نے مجھے عزت بخشی، پھر انہوں نے وہ چادر دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشتِ مبارک پر رکھ دی، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ جب اس کے پاس کسی قوم کا معزز شخص آئے تو وہ اس کی عزت کرے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7985]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، معبد بن خالد» [ترقيم الرساله 7985] [ترقيم الشركة 7890] [ترقيم العلميه 7791]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7985 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرّف في النسخ الخطية إلى: عمرو.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عمرو" لکھا گیا تھا۔
(4) تحرّف في النسخ الخطية إلى: سعيد، وجاء على الصواب في "التلخيص" للذهبي.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام "سعید" ہو گیا تھا، امام ذہبی کی "التلخیص" میں یہ صحیح درج ہے۔
(1) مكانه في (ز) و (ب) بياض، ومكانه في (م) و"التلخيص": فأكرموه، وسقط منهما لفظ "قوم"، والمثبت من مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہاں خالی جگہ تھی، جبکہ نسخہ (م) اور "التلخیص" میں "فاکرموہ" (اس کی عزت کرو) کے الفاظ ہیں مگر "قوم" کا لفظ ساقط ہے۔ ہم نے اسے معتبر مصادر سے ثابت کیا ہے۔
(2) إسناده ضعيف، معبد بن خالد - وهو ابن أنس بن مالك الأنصاري - وأبوه مجهولان، وقد انفرد الحاكم في جعله من حديث جابر، والمعروف أنه من حديث أنس بن مالك جدّ معبد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: معبد بن خالد اور ان کے والد دونوں مجہول (نامعلوم) ہیں۔ امام حاکم اس روایت کو حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث قرار دینے میں اکیلے ہیں، جبکہ معروف یہ ہے کہ یہ معبد کے دادا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔
فقد أخرجه أبو العباس السراج كما في "سير النبلاء" 2/ 532 - 533 من طريق يزيد بن نصر البصري، والخرائطي في "مكارم الأخلاق" (726 - دار الآفاق)، وأبو الشيخ في "الأمثال" (149)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (10488)، وقوام السنة في "الترغيب" (192)، وقاضي المارستان في "مشيخته" (652) من طريق نصر بن قديد بن نصر البصري، كلاهما عن حفص بن غياث، عن معبد بن خالد، عن أبيه، عن جده أنس بن مالك به. وهو عند السراج وأبي الشيخ مختصر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو العباس السراج (سیر اعلام النبلاء: 2/ 532)، خرائطی (726)، ابو الشیخ (149)، بیہقی (10488) اور قوام السنہ (192) نے مختلف طرق سے حفص بن غیاث کے واسطے سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ سراج اور ابو الشیخ کے ہاں یہ روایت مختصر ہے۔
وفي الباب عن جمع من الصحابة، ذكرناهم عند حديث ابن عمر في "سننا بن ماجه" (3712)، وكلها ضعيفة. وأصح شيء فيه ما روي عن الشعبي مرسلًا عند أبي داود في "المراسيل" (511)، ورجاله ثقات.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں صحابہ کرام کی ایک جماعت سے مروی روایات ہم نے سنن ابن ماجہ (3712) کے تحت ذکر کی ہیں، لیکن وہ سب ضعیف ہیں۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس موضوع پر سب سے صحیح روایت امام شعبي کی "مرسل" ہے جو ابو داؤد کی "المراسیل" (511) میں ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
ومع ذلك فقد قال الحافظ السخاوي في "المقاصد الحسنة" ص 34 بعد أن ذكر طرقه وأعلها: وبهذه الطرق يقوى الحديث، وإن كانت مفرداتها كما أشرنا إليه ضعيفة.
📌 اہم نکتہ: حافظ سخاوی "المقاصد الحسنہ" (ص 34) میں اس کے مختلف طرق بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ: اگرچہ ان کے انفرادی طرق ضعیف ہیں، لیکن ان تمام راستوں کے مجموعے سے یہ حدیث قوی ہو جاتی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7985 in Urdu