🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. تسبيح ديك رجلاه فى الأرض وعنقه تحت العرش
اس فرشتے (مرغ) کی تسبیح جس کے پاؤں زمین پر اور گردن عرش کے نیچے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8006
حدثنا أبو الحسين محمد بن أحمد القَنْطري ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا الحسن بن يزيد الضَّمْري قال: سمعتُ أبا سَلَمة بن عبد الرحمن يقول: أشهَدُ لَسمعتُ أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"لا يَحلِفُ عبدٌ ولا أَمَةٌ عندَ هذا المنبر على يمينٍ آثمةٍ، ولو على سِواكٍ رَطْبٍ، إِلَّا وَجَبَت له النَّارُ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ الحسن بن يزيد هذا هو أبو يونس القويُّ (3) العابدُ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7812 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مرد یا عورت اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے، چاہیے ایک تر مسواک کی ہی ہو، اس کے لیے دوزخ واجب ہو جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یہ حسن بن یزید ابویونس، قوی ہے، عابد ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8006]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8006 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي قلابة - وهو عبد الملك بن محمد - الرقاشي، وقد توبع. أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد الشيباني.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند ابو قلابہ (عبد الملک بن محمد الرقاشی) کی وجہ سے "قوی" ہے، اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو عاصم سے مراد الضحاک بن مخلد الشیبانی (جو 'النبيل' کے لقب سے مشہور ہیں) ہیں۔
وأخرجه أحمد 14 / (8362) و 16 / (10711)، وابن ماجه (2326) من طرق عن أبي عاصم النبيل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (14/ 8362 اور 16/ 10711) اور ابن ماجہ (2326) نے ابو عاصم النبیل کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) لُقِّب بالقوي لقوته على العبادة.
📝 نوٹ / توضیح: راوی کو "القوی" کا لقب ان کی عبادت میں غیر معمولی قوت اور محنت کی وجہ سے دیا گیا ہے۔