المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. من قال أنا بريء من الإسلام فهو كما قال
جس نے کہا کہ "میں اسلام سے بری ہوں"، وہ ویسا ہی ہو گیا جیسا اس نے کہا
حدیث نمبر: 8014
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دِينار العَدْل الزاهد، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر (1) ، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا إسماعيل بن قيس بن سعد بن زيد بن ثابت الأنصاري، حدثني أبي، عن خارجة بن زيد، عن زيد قال: بينما رسولُ الله ﷺ جالسٌ مع أصحابه يُحدِّثُهم إذ قام فدخلَ فقام زيدٌ فجلَسَ في مَجلِس النبيِّ ﷺ وجعل يُحدِّثهم عن النبيِّ ﷺ، إذ مُرَّ بلحمِ هديةٍ إلى رسول الله ﷺ، فقال القوم لزيدٍ - وكان أحدَثَهم سِنًّا -: يا أبا سعيد، لو قمتَ إلى النبيِّ ﷺ فأقرأتَه منَّا السلامَ، وتقول له: يقولُ لك أصحابُك: إنْ رأيتَ أن تَبعَثَ إلينا من هذا اللَّحم، فقال:"ارجِعْ إليهم فقد أكلُوا لحمًا بعدَك" فجاء زيدٌ فقال: قد بلَّغتُ النبيَّ ﷺ الذي أرسلتموني به، فقال:"ارجِعْ إليهم فقد أكلُوا لحمًا بعدَك" فقال القوم: ما أكلنا لحمًا، وإنَّ هذا لأمرٍ حَدَثَ، فانطلِقوا بنا إلى رسول الله ﷺ نسألُه ما هذا، فجاؤوا إلى رسول الله ﷺ فقالوا: يا رسولَ الله، أرسَلْنا إليك في اللَّحم الذي جاءك، فزَعَمَ زيدٌ أنهم قد أكلوا لحمًا! فوالله ما أكلنا لحمًا، فقال رسولُ الله ﷺ:"كأنّي أنظرُ إلى خُضرةِ لحم زيدٍ في أسنانِكم" فقالوا: أيْ رسولَ الله، فاستَغفِرْ لنا، قال: فاستغفرَ لهم (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7820 - إسماعيل بن قيس بن سعد بن زيد بن ثابت ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7820 - إسماعيل بن قيس بن سعد بن زيد بن ثابت ضعفوه
سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے ہمراہ تشریف فرما تھے، اچانک آپ اٹھ کر گھر تشریف لے گئے، سیدنا زید اپنی جگہ سے اٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کے قریب بیٹھ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنانے لگ گئے، اسی اثناء میں ایک آدمی گوشت لے کر گزرا، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دینے جا رہا تھا، سیدنا زید رضی اللہ عنہ عمر میں سب سے چھوٹے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے زید رضی اللہ عنہ سے کہا: تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، ہمارا سلام عرض کرنے کے بعد کہنا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے ساتھی کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس گوشت میں سے کچھ ہمیں بھی عطا فرما دیجئے۔ (سیدنا زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور صحابہ کرام کا پیغام پہنچایا،) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس واپس چلے جاؤ، انہوں نے تیری غیر موجودگی میں گوشت کھا لیا ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ واپس آ گئے اور آ کر بتایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: تم ان کے پاس چلے جاؤ، انہوں نے تمہاری غیر موجوگی میں گوشت کھا لیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم نے تو کوئی گوشت نہیں کھایا، یہ تو انوکھی بات ہو گئی ہے، تم ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں چلو، ہم اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود بات کرتے ہیں۔ یہ سب لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے اس کو آپ کی خدمت میں وہ گوشت لینے کے لیے بھیجا تھا جو آپ کے پاس تحفہ آیا تھا، یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے ان کی غیر موجودگی میں گوشت کھایا ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! ہم نے گوشت نہیں کھایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اب بھی تمہارے دانتوں میں زید کے گوشت کی باقیات دیکھ رہا ہوں، وہ لوگ کہنے لگے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے بخشش کی دعا فرما دیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8014]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8014 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في النسخ إلى: نصير.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف ہوئی ہے اور لفظ "نصیر" لکھا گیا ہے (جو کہ اصل میں 'نصیر' نہیں بلکہ 'نصیر' یا 'نصیر' کی کوئی شکل تھی)۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا، إسماعيل بن قيس منكر الحديث فيما قاله البخاري والدارقطني، وقال أبو حاتم: ضعيف الحديث منكر الحديث يحدِّث بالمناكير، لا أعلم له حديثًا قائمًا. وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص". وأبوه قيس بن سعد لم نقف له على ترجمة. أحمد بن محمد بن نصر: هو اللباد النيسابوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند انتہائی ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی اسماعیل بن قیس "منکر الحدیث" ہیں جیسا کہ امام بخاری اور دارقطنی نے صراحت کی ہے۔ ابو حاتم کے بقول وہ ضعیف اور منکر الحدیث ہیں جو منکر روایتیں بیان کرتے ہیں، ان کی کوئی بھی حدیث ثابت نہیں ہے۔ امام ذہبی نے بھی "التلخیص" میں اسی وجہ سے اسے معلول قرار دیا ہے۔ ان کے والد قیس بن سعد کے حالاتِ زندگی (ترجمہ) ہمیں نہیں مل سکے۔ 📝 نوٹ / توضیح: احمد بن محمد بن نصر سے مراد اللباد النیشاپوری ہیں۔
ولم نقف على هذا الحديث عند غير المصنِّف.
📝 نوٹ / توضیح: ہمیں یہ حدیث مصنف (امام حاکم) کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں ملی۔
وفي الباب عن عُبيد مولى رسول الله ﷺ عند أحمد 39/ (23653)، وسنده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ حضرت عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت مسند احمد (39/ 23653) میں موجود ہے، مگر اس کی سند ضعیف ہے۔
وعن أنس عند الخرائطي في "مساوئ الأخلاق" (188)، والضياء المقدسي في "المختارة" 5/ (1697)، وسنده جيد لكن اختلف فيه فروي أيضًا عن عبد الرحمن بن أبي ليلى مرسلًا. وعن إبراهيم النخعي مرسلًا عند هناد في "الزهد" (1179)، وسنده إلى إبراهيم صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایت خرائطی (مساوئ الاخلاق: 188) اور ضیاء مقدسی (المختارہ: 5/ 1697) کے ہاں موجود ہے، جس کی سند جید ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: تاہم اس میں اختلاف ہے؛ اسے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے "مرسل" بھی روایت کیا گیا ہے۔ نیز ہناد نے "الزهد" (1179) میں اسے ابراہیم نخعی سے مرسل روایت کیا ہے، اور ابراہیم تک اس کی سند صحیح ہے۔