المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. من قال أنا بريء من الإسلام فهو كما قال
جس نے کہا کہ "میں اسلام سے بری ہوں"، وہ ویسا ہی ہو گیا جیسا اس نے کہا
حدیث نمبر: 8013
أخبرنا محمد بن علي الشيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم وأبو غسان، قالا: حدثنا شَريك، عن منصور، عن رِبْعي بن حِراش، حدثنا عليٌّ في رَحَبةِ الكوفة (2) قال: لمّا افتَتَحَ رسولُ الله ﷺ مكةَ أتاه ناسٌ من قريش، فقالوا: إنه قد لَحِقَ بك ناسٌ من مَوالِينا وأرقّائِنا ليس لهم رغبةٌ في الدِّين إلَّا فِرارًا من مواشينا وزَرْعِنا، فقال رسول الله ﷺ:"والله يا معشرَ قريش، لَتُقيمُنَّ الصلاةَ، ولَتُؤْتُنَّ الزَّكَاةَ، أو لأبعثنَّ عليكم رجلًا فيضرِبُ أعناقَكم على الدِّين" ثم قال:"أنا أو خاصِفُ النَّعْل"، قال عليٌّ: وأنا أَخصِفُ نَعْلَ رسولِ الله ﷺ. ثم قال عليٌّ: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول:"مَن كَذَبَ عليَّ يَلِجِ النَّارَ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7819 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7819 - على شرط مسلم
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قریشی لوگ آئے، اور کہنے لگے: ہمارے ساتھ ہمارے کچھ غلام اور خدام ہیں، ان کو دین اسلام میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ صرف ہمارے مویشیوں اور زراعت کی ذمہ داریوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے گروہ قریش، اللہ کی قسم! تمہیں ہر صورت میں نماز قائم کرنا ہو گی اور زکاۃ دینا ہو گی ورنہ میں تم پر ایسا آدمی مسلط کروں گا جو دین کے معاملہ میں تمہاری گردنیں مار دے گا۔ پھر فرمایا: میں یا جوتے سینے والا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے میں سی رہا تھا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے مجھ پر جھوٹ بولا، وہ دوزخ میں جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8013]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8013 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف بهذا السياق، تفرَّد به شريك - وهو ابن عبد الله النخعي - وقد سلف الكلام عليه برقم (2647).
⚖️ درجۂ حدیث: اس سیاق کے ساتھ یہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس روایت کو بیان کرنے میں شریک (بن عبد اللہ النخعی) منفرد ہیں، اور ان کے بارے میں کلام پہلے حدیث نمبر (2647) کے تحت گزر چکا ہے۔