🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. مَنْ قَالَ أَنَا بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ فَهُوَ كَمَا قَالَ
جس نے کہا کہ "میں اسلام سے بری ہوں"، وہ ویسا ہی ہو گیا جیسا اس نے کہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8013
أخبرنا محمد بن علي الشيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم وأبو غسان، قالا: حدثنا شَريك، عن منصور، عن رِبْعي بن حِراش، حدثنا عليٌّ في رَحَبةِ الكوفة (2) قال: لمّا افتَتَحَ رسولُ الله ﷺ مكةَ أتاه ناسٌ من قريش، فقالوا: إنه قد لَحِقَ بك ناسٌ من مَوالِينا وأرقّائِنا ليس لهم رغبةٌ في الدِّين إلَّا فِرارًا من مواشينا وزَرْعِنا، فقال رسول الله ﷺ:"والله يا معشرَ قريش، لَتُقيمُنَّ الصلاةَ، ولَتُؤْتُنَّ الزَّكَاةَ، أو لأبعثنَّ عليكم رجلًا فيضرِبُ أعناقَكم على الدِّين" ثم قال:"أنا أو خاصِفُ النَّعْل"، قال عليٌّ: وأنا أَخصِفُ نَعْلَ رسولِ الله ﷺ. ثم قال عليٌّ: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول:"مَن كَذَبَ عليَّ يَلِجِ النَّارَ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7819 - على شرط مسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفہ کے چوک میں بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو قریش کے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ہمارے کچھ غلام اور نوکر آپ سے آ ملے ہیں، ان کا مقصد دین نہیں بلکہ صرف ہمارے مویشیوں اور کھیتیوں سے بھاگنا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہِ قریش! اللہ کی قسم، تم ضرور نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ ادا کرو گے، ورنہ میں تم پر ایک ایسے شخص کو بھیجوں گا جو دین کی خاطر تمہاری گردنیں مارے گا“، پھر فرمایا: ”وہ میں ہوں گا یا وہ جو جوتا گانٹھ رہا ہے“، سیدنا علی فرماتے ہیں کہ اس وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتا گانٹھ رہا تھا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ آگ میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8013]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بهذا السياق، تفرَّد به شريك» [ترقيم الرساله 8013] [ترقيم الشركة 7918] [ترقيم العلميه 7819]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف بهذا السياق

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8013 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف بهذا السياق، تفرَّد به شريك - وهو ابن عبد الله النخعي - وقد سلف الكلام عليه برقم (2647).
⚖️ درجۂ حدیث: اس سیاق کے ساتھ یہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس روایت کو بیان کرنے میں شریک (بن عبد اللہ النخعی) منفرد ہیں، اور ان کے بارے میں کلام پہلے حدیث نمبر (2647) کے تحت گزر چکا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8013 in Urdu