🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. من استلج فى أهله بيمين فهو أعظم إثما
جو شخص اپنی اہلیہ کے معاملے میں قسم پر اڑا رہے، وہ بڑے گناہ کا مرتکب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8021
أخبرني إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا يحيى بن صالح الوُحَاظي، حدثنا معاوية بن سلَّام، عن يحيى بن أبي كثير، عن عِكْرمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"من استَلَجَّ في أهلِه بيمينٍ، فهو أعظُم إثمًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7827 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص قسم کھائے، پھر اس کے خلاف میں بھلائی دیکھے، اس کے باوجود قسم توڑ کر کفارہ نہ دے تو زیادہ گناہ گار ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8021]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8021 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه البخاري (6626)، وابن ماجه (2114 م) من طريقين عن يحيى بن صالح الوحاظي بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج امام بخاری (6626) اور ابن ماجہ (2114 م) نے یحییٰ بن صالح الوحاظی کے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
وقد خالف معمرٌ معاويةَ بنَ سلام، فرواه عن يحيى بن أبي كثير عن عكرمة مرسلًا كما في "مصنف عبد الرزاق" (16037)، ورجَّح روايته أبو حاتم في "العلل" (1330).
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام معمر نے معاویہ بن سلام کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے یحییٰ بن ابی کثیر عن عکرمہ کے واسطے سے "مرسل" روایت کیا ہے جیسا کہ "مصنف عبد الرزاق" (16037) میں ہے، اور امام ابو حاتم رازی نے "العلل" (1330) میں اسی مرسل روایت کو ترجیح دی ہے۔
وانظر ما بعده.
📌 اہم نکتہ: اس کے بعد آنے والی روایت کو بھی دیکھیں۔
قوله "من استلجَّ" قال السندي في حاشيته على "المسند": إذا حلف يمينًا يتعلق بأهله، وهم يتضررون بالإصرار عليه، فاللائق به أن يحنث ويكفر عن يمينه، وأما الثبات على اليمين والإصرار عليه وترك الحنث فهو لَجَاج. وقوله: "أعظم إثمًا" يعني: أعظم إثمًا من الكفارة.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: حدیث کے الفاظ "من استلج" کے بارے میں علامہ سندھی نے "مسند احمد" کے حاشیے میں لکھا ہے کہ: جب کوئی شخص اپنے گھر والوں کے متعلق ایسی قسم کھا لے جس پر اصرار کرنے سے انہیں نقصان پہنچ رہا ہو، تو اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ قسم توڑ دے اور کفارہ ادا کر دے؛ ایسی قسم پر اڑے رہنا اور اسے پورا کرنا ہی "لجاج" (ہٹ دھرمی) ہے۔ اور "اعظم اثماً" کا مطلب یہ ہے کہ (اس پر قائم رہنا) کفارہ ادا کرنے سے زیادہ بڑے گناہ کا باعث ہے۔