🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَيَانُ حَقِيقَةِ النَّذْرِ
نذر کی حقیقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8035
أخبرنا أبو يحيى ابن المقرئ الإمام بمكة، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم وحجَّاج بن مِنْهال، قالا: حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حبيب المُعلِّم، عن عطاء، عن جابر: أنَّ رجلًا نَذَرَ أن يُصلِّيَ في بيت المَقدِس، فسأل عن ذلك رسولَ الله ﷺ، فقال له رسول الله ﷺ:"صلِّ هاهنا" يعني في المسجد الحرام، فقال: يا رسولَ الله، إنما نذرتُ أن أُصلِّيَ في بيت المقدس! فقال:"صلِّ هاهنا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7839 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بیت المقدس میں نماز پڑھے گا، اس نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: یہیں نماز پڑھ لو یعنی مسجد حرام میں، اس نے (دوبارہ) عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے تو بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر مانی ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) فرمایا: یہیں نماز پڑھ لو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النذور/حدیث: 8035]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي من أجل حبيب المعلم» [ترقيم الرساله 8035] [ترقيم الشركة 7938] [ترقيم العلميه 7839]

الحكم على الحديث: إسناده قوي

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8035 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده قوي من أجل حبيب المعلم. أبو يحيى بن المقرئ: هو محمد بن عبد الله بن محمد بن عبد الله بن يزيد المقرئ، وعطاء: هو ابن أبي رباح.
⚖️ درجۂ حدیث: حبیب المعلم کی موجودگی کی وجہ سے اس کی سند "قوی" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور ابو یحییٰ بن المقرئ کا پورا نام محمد بن عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ بن یزید المقرئ ہے، اور عطا سے مراد مشہور تابعی عطا بن ابی رباح ہیں۔
وأخرجه أحمد 23/ (14919)، وأبو داود (3305) من طريقين عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کی تخریج امام احمد (23/ 14919) اور ابو داود (3305) نے حماد بن سلمہ کے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8035 in Urdu