🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. أربع إذا كان فيك لا يضرك ما فاتك من الدنيا
اگر تم میں چار باتیں ہوں تو دنیا کی چھن جانے والی چیزیں تمہیں نقصان نہیں پہنچائیں گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8079
أخبرنا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا الليث، حدثني يزيد بن أبي حبيب، أنَّ عُليّ بن رَبَاح أخبره، أنه سمع عمرو بن العاص يقول على المنبر: والله ما رأيتُ قومًا قطُّ أرغبَ فيما كان رسول الله ﷺ يزهدُ فيه منكم، تَرغَبون في الدنيا وكان رسول الله ﷺ يزهدُ فيها، والله ما مرَّ برسولِ الله ﷺ ثلاثٌ من الدَّهر إلَّا والذي عليه أكثرُ من الذي له (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7881 - صحيح
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے ایسی قوم کھبی نہیں دیکھی، جو کہ اس چیز میں اتنی ہی زیادہ دلچسپی رکھتی ہے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جتنے زیادہ بے رغبتی رکھتے تھے۔ تم لوگ دنیا کا بہت شوق رکھتے ہو جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مسلسل تین دن کبھی بھی ایسے نہیں گزرے، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسائل، آپ کے وسائل سے زیادہ نہ ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8079]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8079 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن صالح - وهو المصري، كاتب الليث - وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے، اور یہ سند متابعات اور شواہد کی بنا پر ’حسن‘ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں عبد اللہ بن صالح (مصری، جو لیث کے کاتب ہیں) موجود ہیں، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17817) عن يحيى بن إسحاق، عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (29/ 17817) نے یحییٰ بن اسحاق سے، انہوں نے لیث بن سعد سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وسيأتي مختصرًا برقم (8125) من طريق موسى بن علي عن أبيه علي.
📌 اہم نکتہ: یہ حدیث آگے نمبر (8125) پر مختصراً موسیٰ بن علی کے طریق سے آئے گی جو اپنے والد علی (بن رباح) سے روایت کرتے ہیں۔