المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. لو أنكم توكلتم على الله لرزقكم كما يرزق الطير
اگر تم اللہ پر ویسا توکل کرو جیسا حق ہے، تو وہ تمہیں ویسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے
حدیث نمبر: 8094
أخبرنا عبيد الله بن محمد البَلْخي التاجر ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو صالح، حدثنا معاوية بن صالح، أنَّ عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير حدَّثه عن أبيه، عن كعب بن عِيَاض قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ لكلّ أمةٍ فتنةً، وإن فتنةً أُمّتي المالُ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7896 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7896 - صحيح
سیدنا کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر امت کا ایک فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8094]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8094 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي صالح: وهو عبد الله بن صالح المصري كاتب الليث، وقد توبع محمد بن إسماعيل: هو ابن يوسف السُّلمي، ومعاوية بن صالح: هو ابن حُدير الحمصي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور یہ سند متابعات و شواہد میں ابو صالح (عبد اللہ بن صالح المصری، کاتبِ لیث) کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن اسماعیل: یہ ابن یوسف السلمی ہیں، اور معاویہ بن صالح: یہ ابن حدیر الحمصی ہیں۔
وأخرجه أحمد 22/ (17471)، والترمذي (2336)، والنسائي (11795)، وابن حبان (3223) من طريق الليث بن سعد، عن معاوية بن صالح بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح غريب، إنما نعرفه من حديث معاوية بن صالح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (22/ 17471)، ترمذی (2336)، نسائی (11795) اور ابن حبان (3223) نے لیث بن سعد، از معاویہ بن صالح کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "حسن صحیح غریب" ہے، ہم اسے صرف معاویہ بن صالح کی حدیث سے جانتے ہیں۔