🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. أشقى الأشقياء من اجتمع عليه فقر الدنيا وعذاب الآخرة
بدبختوں میں سب سے بڑا بدبخت وہ ہے جس پر دنیا کی فقیری اور آخرت کا عذاب جمع ہو جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8111
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا علي بن الحسن بن أبي عيسى الهلالي، حدثنا عمرو بن عاصم الكلابي، حدثنا همَّام بن يحيى، حدثنا قَتَادة، عن مُطرِّف بن عبد الله، عن أبيه قال: انَتهيتُ إلى النبيِّ ﷺ وهو يقرأُ: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ﴾ قال:"يقول ابن آدم: مالي مالي، وهل لك مِن مالِك إِلَّا ما لَبِستَ فأبلَيتَ، أو أكلت فأفنَيتَ، أو تصدّقتَ فأمضَيتَ؟!" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7913 - صحيح
سیدنا مطرف بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تلاوت فرما رہے تھے: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ﴾ [سورة التكاثر: 1-2] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال! حالانکہ (اے انسان!) تیرے مال میں سے تیرے لیے صرف وہی ہے جو تو نے کھا کر ختم کر دیا، یا پہن کر پرانا کر دیا، یا صدقہ دے کر (اپنے آگے) بھیج دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8111]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عمرو بن عاصم الكلابي، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8111] [ترقيم الشركة 8012] [ترقيم العلميه 7913]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8111 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عمرو بن عاصم الكلابي، وقد توبع. وأخرجه أحمد 26 / (16327) و (16328)، ومسلم (2958) من طرق عن همام، بهذا الإسناد. واستدراك الحاكم له ذهول منه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند عمرو بن عاصم الکلابی کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (26/ 16327، 16328) اور مسلم (2958) نے ہمام کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: حاکم کا اسے (مستدرک میں) لانا ان کا ذہول (بھول/غفلت) ہے (کیونکہ یہ صحیح مسلم میں موجود ہے)۔
وسلف برقم (4013) من طريق هشام الدستوائي عن قتادة.
📖 حوالہ / مصدر: یہ پیچھے نمبر (4013) پر ہشام الدستوائی از قتادہ کے طریق سے گزر چکا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8111 in Urdu