🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. دعا النبى أعرابيا إلى القصاص من نفسه
نبی کریم ﷺ کا ایک اعرابی کو اپنے آپ سے قصاص لینے کی دعوت دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8142
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر بن يزيد القارئ الأَدَمي ببغداد، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن ناصح النَّحْوي، حدثنا محمد بن مصعب القَرْقَساني، حدثني عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، حدثني مكحول، عن زياد بن جارية، عن حَبيب بن مَسلَمة: أنَّ رسول الله ﷺ دعا إلى القِصَاص من نفسِه في خَدْشَةٍ خَدَشَهَا أعرابيًا لم يتَعمَّدْه، فأتاه جبريلُ ﵇ فقال: يا محمَّدُ، إِنَّ الله لم يَبْعَثْكَ جبّارًا ولا متكبِّرًا. فدعا النبي ﷺ الأعرابيَّ، فقال:"اقتص منِّي"، فقال الأعرابيُّ: قد أحللتُك بأبي أنت وأميِّ، وما كنتُ لأفعلَ ذلك أبدًا ولو أتيتَ على نفسي. فدعا له بخيرٍ (1) . قال الحاكم: تفرَّد به أحمدُ بن عبيد عن محمد بن مصعب، ومحمدُ بن مصعب ثقةٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7943 - قال ابن عدي أحمد بن عبيد صدوق له مناكير ومحمد ضعيف
سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی کو غیر ارادی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خراش آ گئی سیدنا جبریل امین علیہ السلام تشریف لے آئے اور عرض کی: اے محمد! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جبار اور متکبر بنا کر نہیں بھیجا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دیہاتی کو بلوایا اور فرمایا: تم مجھ سے قصاص لے لو، دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، میں نے آپ کو معاف کیا، اور میں یہ کام کبھی بھی نہیں کر سکتا، اگرچہ آپ مجھے کتنا بھی اصرار کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے خیر کی دعا فرمائی۔ ٭٭ احمد عبید اس حدیث کو محمد بن مصعب سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ محمد بن مصعب ثقہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8142]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8142 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، أحمد بن عبيد بن ناصح، قال الذهبي في "الميزان": روى عن محمد بن مصعب موعظة الأوزاعي للمنصور، وفيها مناكير. قلنا: وحديثنا هذا منها، ومحمد بن مصعب القرقساني ضعيف أيضًا، وبهما أعلّه الذهبي في "التلخيص"، وزياد بن جارية وثقه النسائي وجهّله أبو حاتم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: 1. احمد بن عبید بن ناصح: ذہبی نے "المیزان" میں کہا: اس نے محمد بن مصعب سے اوزاعی کی منصور کو کی گئی نصیحت روایت کی اور اس میں "منکرات" ہیں۔ ہم کہتے ہیں: ہماری یہ حدیث بھی انہی میں سے ہے۔ 2. محمد بن مصعب القرقسانی: یہ بھی ضعیف ہے۔ ذہبی نے "التلخیص" میں انہی دونوں کی وجہ سے اسے معلول قرار دیا ہے۔ 3. زیاد بن جاریہ: نسائی نے اس کی توثیق کی جبکہ ابو حاتم نے اسے مجہول قرار دیا۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (7024)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 35/ 213 - 216 من طريق أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد مطولًا ضمن قصة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (7024) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (35/ 213-216) میں ابو عبد اللہ الحاکم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ ایک قصے کے ضمن میں طویل روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا كذلك أبو نعيم في "الحلية" 6/ 137 من طريق أحمد بن يزيد، عن محمد القرقساني، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح طویل ابو نعیم نے "الحلیۃ" (6/ 137) میں احمد بن یزید، از محمد القرقسانی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وانظر في الاقتصاص حديث أُسيد بن حضير السالف برقم (5344).
📖 حوالہ / مصدر: قصاص (بدلہ لینے) کے موضوع میں اسید بن حضیر کی حدیث ملاحظہ کریں جو پیچھے نمبر (5344) پر گزر چکی ہے۔