🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. دَعَا النَّبِيُّ أَعْرَابِيًّا إِلَى الْقِصَاصِ مِنْ نَفْسِهِ
نبی کریم ﷺ کا ایک اعرابی کو اپنے آپ سے قصاص لینے کی دعوت دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8141
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أحمد بن بشر بن سعد المَرْثَدي، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا هشام بن يوسف، حدثنا عبد الله بن بَحِير، قال: سمعت هانئًا مَولى عثمان بن عفّان [يقول: رأيتُ عثمانَ] (2) واقفًا على قبرٍ بكَي حتى يَبُلَّ لحيتَه، فقيل له: تذكرُ الجنَّةَ والنارَ ولا تبكي، وتبكي من هذا؟ قال: إنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"القبرُ أول منازلِ الآخرة، فإنْ نَجَا منه فما بعدَه أيسرُ منه، وإن لم يَنجُ منه فما بعدَه أشدُّ منه". وسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"ما رأيتُ منظرًا (3) إِلَّا والقبرُ أفظَعُ منه" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7942 - صحيح
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا ہانی فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ایک قبر کے پاس کھڑے روتے ہوئے دیکھا، آپ اس قدر روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہو گئی، آپ سے عرض کی گئی: آپ کے پاس جنت اور دوزخ کا ذکر کیا جاتا ہے، اس کے ذکر پر آپ اتنا نہیں روتے، اور اس قبر کے پاس کھڑے ہو کر آپ اتنا رو رہے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قبر آخرت کی منازل میں سے پہلی منزل ہے اگر اس سے نجات مل گئی تو اس کے بعد والی ساری منزلیں اس سے آسان ہیں۔ اور اگر اس سے ہی بچت نہ ہوئی تو اس کے بعد والی تو اس سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میں نے قبر سے زیادہ ہیبت ناک منظر کوئی نہیں دیکھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8141]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8142
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر بن يزيد القارئ الأَدَمي ببغداد، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن ناصح النَّحْوي، حدثنا محمد بن مصعب القَرْقَساني، حدثني عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، حدثني مكحول، عن زياد بن جارية، عن حَبيب بن مَسلَمة: أنَّ رسول الله ﷺ دعا إلى القِصَاص من نفسِه في خَدْشَةٍ خَدَشَهَا أعرابيًا لم يتَعمَّدْه، فأتاه جبريلُ ﵇ فقال: يا محمَّدُ، إِنَّ الله لم يَبْعَثْكَ جبّارًا ولا متكبِّرًا. فدعا النبي ﷺ الأعرابيَّ، فقال:"اقتص منِّي"، فقال الأعرابيُّ: قد أحللتُك بأبي أنت وأميِّ، وما كنتُ لأفعلَ ذلك أبدًا ولو أتيتَ على نفسي. فدعا له بخيرٍ (1) . قال الحاكم: تفرَّد به أحمدُ بن عبيد عن محمد بن مصعب، ومحمدُ بن مصعب ثقةٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7943 - قال ابن عدي أحمد بن عبيد صدوق له مناكير ومحمد ضعيف
سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی کو غیر ارادی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خراش آ گئی سیدنا جبریل امین علیہ السلام تشریف لے آئے اور عرض کی: اے محمد! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جبار اور متکبر بنا کر نہیں بھیجا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دیہاتی کو بلوایا اور فرمایا: تم مجھ سے قصاص لے لو، دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، میں نے آپ کو معاف کیا، اور میں یہ کام کبھی بھی نہیں کر سکتا، اگرچہ آپ مجھے کتنا بھی اصرار کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے خیر کی دعا فرمائی۔ ٭٭ احمد عبید اس حدیث کو محمد بن مصعب سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ محمد بن مصعب ثقہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8142]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں