المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث
کسی مسلمان کا خون حلال نہیں سوائے تین وجوہات کے
حدیث نمبر: 8225
أخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُريب ونصر بن علي، قالا حدثنا أبو أحمد الزُّبَيري (2) ، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن، عن أبي موسى الأشعَري، عن النبيَّ ﷺ قال:"إذا أصبحَ إبليسُ بثَّ جنودَه، فيقول: مَن أضلَّ اليوم مسلمًا ألبستُه التاجَ، فيجيءُ أحدهم فيقول: لم أزَلْ به حتى عقَّ والدَه، فقال: يُوشِكُ أَن يَبَرَّه، ويجيءُ أحدُهم فيقول: لم أزَلْ به حتى........ (3) ، ويجيءُ أحدهم فيقول: لم أزَلْ به حتى طَلَّقَ امرأتَه، فيقول: يُوشِكُ أن يتزوَّج، ويجيء أحدهم فيقول: لم أَزْل به حتى أشرَكَ، فيقول: أنتَ أنتَ، ويجيءُ أحدُهم فيقول: لم أَزْل به حتى قَتَل، فيقول: أنتَ أنتَ، ويُلبِسُه التاجَ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8027 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8027 - صحيح
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب صبح ہوتی ہے تو شیطان اپنے چیلوں کو یہ کہہ کر روانہ کرتا ہے کہ آج جو کسی مسلمان کو گمراہ کرے گا میں اس کو تاج پہناؤں گا، (شام کو جب یہ سب واپس آتے ہیں تو) ایک شیطان کہتا ہے، میں نے ایک مسلمان پر بہت محنت کی اور بالآخر اس کو باپ کا نافرمان بنا دیا، شیطان کہتا ہے: ممکن ہے کہ وہ بعد میں ان کا فرمانبردار بن جائے۔ (تو نے کوئی بہت بڑا کام نہیں کیا) ایک اور شیطان کہتا ہے: میں ایک مسلمان کے پیچھے لگا رہا حتیٰ کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، شیطان کہتا ہے: وہ دوبارہ شادی کروا لے گا (تو نے بھی کوئی بہت بڑا کام نہیں کیا) پھر ایک شیطان آتا ہے، وہ کہتا ہے: میں ایک مسلمان کے پیچھے لگا رہا، حتیٰ کہ میں نے اس کو شرک میں مبتلا کر دیا ہے، شیطان کہتا ہے تو نے بھی اچھا کام کیا ہے، پھر ایک اور شیطان کہتا ہے: میں ایک مسلمان کے پیچھے لگا اور اس سے قتل کروا دیا، شیطان کہتا ہے: واہ واہ تو نے سب سے اچھا کام کیا ہے، اور وعدے کے مطابق وہ تاج اس کو پہنا دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8225]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8225 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في (ب) إلى: الزهري.
📝 نسخہ جات کا اختلاف: نسخہ (ب) میں یہ نام تحریف ہو کر "الزہری" بن گیا ہے۔
(3) في (ز) و (ك) و (ب) هنا بياض بقدر كلمتين أو ثلاثة، وقوله: "فيقول: لم أزل به حتى" سقط من (م).
📝 نسخہ جات کا اختلاف: نسخہ (ز)، (ک) اور (ب) میں یہاں دو یا تین الفاظ کے برابر خالی جگہ (بیاض) ہے، اور الفاظ "فیقول: لم أزل به حتى" نسخہ (م) سے ساقط ہو گئے ہیں۔
(4) إسناده صحيح، ورواية الثوري عن عطاء بن السائب قبل اختلاط الأخير، لكن اختلف على سفيان في رفعه ووقفه كما سيأتي، وقد توبع سفيان على رفعه. أبو أحمد الزبيري: هو محمد بن عبد الله، وأبو عبد الرحمن: هو عبد الله بن حبيب بن ربيعة السلمي المقرئ.
⚖️ درجۂ سند: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: سفیان ثوری کی عطاء بن سائب سے روایت ان (عطاء) کے اختلاط سے پہلے کی ہے۔ لیکن سفیان پر اس حدیث کے "مرفوع" یا "موقوف" ہونے میں اختلاف ہوا ہے جیسا کہ آگے آئے گا، البتہ سفیان کی متابعت "رفع" (حدیث کو نبی ﷺ تک پہنچانے) پر کی گئی ہے۔ (سند میں) ابو احمد الزبیری سے مراد "محمد بن عبد اللہ" ہیں، اور ابو عبد الرحمن سے مراد "عبد اللہ بن حبیب بن ربیعہ السلمی المقرئ" ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (6189) من طريق محمد بن أبي بكر المقدمي، عن محمد بن عبد الله الزبيري، بهذا الإسناد.
📖 تخریج: اسے ابن حبان (6189) نے محمد بن ابی بکر المقدمی کے طریق سے، انہوں نے محمد بن عبد اللہ الزبیری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وخالف الزبيريَّ أبو نعيم الفضل بن دكين، فرواه عن سفيان الثَّوري به موقوفًا على أبي موسى الأشعري عند ابن أبي شيبة 13/ 387.
🔍 فنی اختلاف: ابو نعیم فضل بن دکین نے زبیری کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے سفیان ثوری سے روایت کرتے ہوئے ابو موسیٰ اشعری پر "موقوف" قرار دیا ہے (یعنی یہ صحابی کا قول ہے)، یہ روایت ابن ابی شیبہ (13/ 387) میں ہے۔
ورواه بنحوه فضيل بن عياض عند أبي نعيم في "الحلية" 8/ 128، وإبراهيم بن طَهمان عند قوام السنة في "الترغيب والترهيب" (1240)، كلاهما عن عطاء بن السائب، به مرفوعًا إلى النبي ﷺ. ورواية كليهما عن عطاء لم ينصّوا على كونها قبل الاختلاط أو بعده.
🧩 متابعات: اسی طرح فضیل بن عیاض نے ابو نعیم کی "الحلیہ" (8/ 128) میں، اور ابراہیم بن طہمان نے قوام السنہ کی "الترغیب والترہیب" (1240) میں روایت کیا ہے؛ ان دونوں نے عطاء بن سائب سے اسے نبی ﷺ تک "مرفوع" روایت کیا ہے۔ تاہم ان دونوں کی عطاء سے روایت کے بارے میں صراحت نہیں کہ یہ اختلاط سے پہلے کی ہے یا بعد کی۔