المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. يقتل من شتم النبى صلى الله عليه وآله وسلم
نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والے کو قتل کیا جائے گا
حدیث نمبر: 8242
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكَن بواسط، حدثنا أبو منصور الحارث بن منصور، حدثنا إسرائيل، حدثنا عثمان الشَّحَّام، عن عكرمة، عن عبد الله بن عباس قال: كانت أُمُّ ولدِ لرجل كان له منها ابنانِ مثل اللُّؤلؤتين، وكانت تَشتِمُ النبيَّ ﷺ فينهاها ولا تنتهي، ويزجُرُها ولا تنزجِرُ، فلما كان ذاتُ ليلةٍ ذكرتِ النبيَّ ﷺ، فما صَبَرَ أن قام إلى مِغوَلٍ فَوَضَعَها في بطنها، ثم اتَّكأ عليها حتى أنقَذَها، فقال رسول الله ﷺ:"أَشْهَدُ أَنَّ دَمَها هَدْرٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8044 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8044 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے کہ ایک آدمی کی ام ولد تھی، اس سے اس کے ہیرے جیسے دو بچے تھے، وہ عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی، وہ آدمی اس کو منع کرتا تھا لیکن وہ باز نہ آتی تھی، وہ اس کو اس پر ڈانٹتا تھا لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا، ایک رات اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی کی، اس آدمی نے برداشت نہ ہو سکا، اس نے نوک دار تکلہ پکڑ کر اس پیٹ پر رکھا اور اندر تک اتار دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اس عورت کا خون رائیگاں گیا ہے (اور قصاص میں اس کے شوہر کو قتل نہیں کیا جائے گا) ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8242]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8242 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث قوي، وهذا إسناد حسن في المتابعات من أجل الحارث بن منصور، وقد توبع. إسرائيل: هو ابن يونس السبيعي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: یہ سند متابعات میں "حسن" ہے جس کی وجہ "حارث بن منصور" ہیں، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ (راوی) اسرائیل سے مراد "ابن یونس السبیعی" ہیں۔
وأخرجه أبو داود (4361)، والنسائي (3519) من طريق إسماعيل بن جعفر، عن إسرائيل، بهذا الإسناد.
📖 تخریج: اسے ابو داود (4361) اور نسائی (3519) نے اسماعیل بن جعفر کے طریق سے، انہوں نے اسرائیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن عليّ عند أبي داود (4362).
🧩 شواہد: اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ابو داود (4362) میں روایت موجود ہے۔
قوله: "المغول" قال ابن الأثير في "النهاية": بالكسر: شبهُ سيف قصير، يشتمل به الرجلُ تحت ثيابه فيغطيه. وقيل: هو حديدة دقيقة لها حدٌّ ماض وقفًا.
📚 لغوی تحقیق: لفظ "المِغوَل" (میم کے کسرہ کے ساتھ) کے بارے میں ابن اثیر "النہایہ" میں فرماتے ہیں: یہ ایک چھوٹی تلوار جیسی چیز ہے جسے آدمی اپنے کپڑوں کے نیچے چھپا لیتا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ: یہ ایک باریک لوہا ہوتا ہے جس کی دھار تیز ہوتی ہے۔
وقوله: "هدر" قال الجوهري في "الصحاح": ذهب دمُ فلان هَدْرًا وهَدَرًا بالتحريك، أي: باطلًا ليس فيه قَوَدٌ ولا عَقْلٌ.
📚 لغوی تحقیق: لفظ "ہَدَر" کے بارے میں جوہری "الصحاح" میں کہتے ہیں: فلاں کا خون رائیگاں (ہَدْرًا) گیا، یعنی باطل گیا جس میں نہ قصاص ہے اور نہ دیت۔
قال الخطابي في "معالم السنن" 3/ 295: وفيه بيان أن سابَّ النبي ﷺ مقتول، وذلك أنَّ السبّ منها لرسول الله ﷺ ارتدادٌ عن الدين، ولا أعلم أحدًا من المسلمين اختلف في وجوب قتله، ولكن إذا كان السابُّ ذميًا فقد اختلفوا فيه، فقال مالك بن أنس: من شتم النبي ﷺ من اليهود والنصارى قُتل إلَّا أن يُسلِم، وكذلك قال أحمد بن حنبل، وقال الشافعي: يُقتل الذِّمِّي إذا سبَّ النبيَّ ﷺ وتبرأ منه الذمة، واحتجَّ في ذلك بخبر كعب بن الأشرف، وحُكي عن أبي حنيفة أنه قال: لا يُقتل الذميُّ بشتم النبي ﷺ، ما هم عليه من الشرك أعظم.
📚 فقہی تحقیق: امام خطابی "معالم السنن" (3/ 295) میں فرماتے ہیں: اس میں بیان ہے کہ نبی ﷺ کو گالی دینے والا واجب القتل ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینا دین سے ارتداد ہے، اور میں کسی مسلمان کو نہیں جانتا جس نے اس کے واجب القتل ہونے میں اختلاف کیا ہو۔ البتہ اگر گالی دینے والا "ذمی" ہو تو اس میں اختلاف ہے۔ امام مالک بن انس نے کہا: یہودیوں اور عیسائیوں میں سے جو نبی ﷺ کو گالی دے اسے قتل کیا جائے گا سوائے اس کے کہ وہ اسلام قبول کر لے۔ امام احمد بن حنبل کا بھی یہی قول ہے۔ امام شافعی نے کہا: ذمی کو قتل کیا جائے گا اگر وہ نبی ﷺ کو گالی دے اور اس سے ذمہ بری ہو جائے گا، انہوں نے کعب بن اشرف کے واقعہ سے دلیل پکڑی ہے۔ اور امام ابو حنیفة سے حکایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا: ذمی کو نبی ﷺ کی شان میں گستاخی پر قتل نہیں کیا جائے گا (کیونکہ) جس شرک پر وہ قائم ہیں وہ (اس گالی سے) بڑا گناہ ہے۔