🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. يُقْتَلُ مَنْ شَتَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والے کو قتل کیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8242
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكَن بواسط، حدثنا أبو منصور الحارث بن منصور، حدثنا إسرائيل، حدثنا عثمان الشَّحَّام، عن عكرمة، عن عبد الله بن عباس قال: كانت أُمُّ ولدِ لرجل كان له منها ابنانِ مثل اللُّؤلؤتين، وكانت تَشتِمُ النبيَّ ﷺ فينهاها ولا تنتهي، ويزجُرُها ولا تنزجِرُ، فلما كان ذاتُ ليلةٍ ذكرتِ النبيَّ ﷺ، فما صَبَرَ أن قام إلى مِغوَلٍ فَوَضَعَها في بطنها، ثم اتَّكأ عليها حتى أنقَذَها، فقال رسول الله ﷺ:"أَشْهَدُ أَنَّ دَمَها هَدْرٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8044 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے کہ ایک آدمی کی ام ولد تھی، اس سے اس کے ہیرے جیسے دو بچے تھے، وہ عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی، وہ آدمی اس کو منع کرتا تھا لیکن وہ باز نہ آتی تھی، وہ اس کو اس پر ڈانٹتا تھا لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا، ایک رات اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی کی، اس آدمی نے برداشت نہ ہو سکا، اس نے نوک دار تکلہ پکڑ کر اس پیٹ پر رکھا اور اندر تک اتار دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اس عورت کا خون رائیگاں گیا ہے (اور قصاص میں اس کے شوہر کو قتل نہیں کیا جائے گا) ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8242]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8243
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار العُطَاردي، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن عمرو بن مُرَّة، عن سالم بن أبي الجعد، عن أبي بَرْزَةَ قال: تَغيَّظَ أبو بكر على رجلٍ، فقلت: مَن هو يا خليفةَ رسول الله ﷺ؟ قال: لِمَ؟ قلتُ: لأضربَ عُنقَه إن أمرتني بذلك، قال: فقال أبو بكر: أوَكنتَ فاعلًا؟ قلت: نعم، قال: فوالله لأَذهَبَ عِظَمُ كلمتي التي قلتُ غضبَه، ثم قال: ما كانت لأحدٍ (1) بعد محمَّدٍ ﷺ (2) . صحيح الإسناد على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8045 - على شرط البخاري ومسلم
ابوبرزہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک آدمی پر سخت ناراض ہوئے، میں نے پوچھا: اے امیرالمومنین! یہ کون ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو؟ میں نے کہا: تاکہ اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اس کی گردن مار دوں۔ راوی فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو واقعی ایسا کرے گا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میری بات سے ان کا غصہ جاتا رہا، پھر فرمایا: (میرے یہ جذبات) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے لیے نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8243]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8244
أخبرَناه محمد بن الحسن النَّصْراباذي، حدثنا يحيى بن محمد الحِنَّائي، حدثنا عبيد الله بن معاذ، أبي، حدثنا شُعْبة، عن تَوْبَةَ العَنْبري، قال: سمعتُ أبا السَّوّار عبد الله بن قُدامة بن عَنَزةَ القاضي يُحدِّث عن أبي بَرْزة الأسلمي قال: أغلَظَ رجلٌ لأبي بكر الصديق فقلتُ: يا خليفةَ رسول الله، ألا أقتلُه؟ فقال: ليسَ هذا إَّلا لمن شَتَمَ النبيَّ ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8046 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بہت برا بھلا کہہ رہا تھا، میں نے عرض کی: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ، کیا میں اس کو قتل نہ کر دوں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قتل کرنا تو اس شخص کی سزا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8244]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8245
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني سليمان بن بلال، عن عمرو مولى المُطَّلب، عن عكرمة، عن ابن عباس، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن وَجَدتُموه يعملُ عملَ قوم لوطٍ، فاقتلوا الفاعلَ والمفعولَ به" (1) . قال سليمان بن بلال: سمعتُ يحيى بن سَعيد وربيعةَ يقولان: مَن عَمِلَ عملَ قوم لُوطٍ فعليه الرجمُ، أَحْصَنَ أو لم يُحصَنُ.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8047 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کو قوم لوط کے عمل میں مبتلا پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔ سلیمان بن بلال کہتے ہیں: میں نے یحیی بن سعید اور ربیعہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے قوم لوط والا عمل کیا، وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، اس کو رجم کر دو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ تاہم اس کی ایک شاہد حدیث موجود ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8245]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں