🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. مَنْ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ يُضْرَبُ عُنُقُهُ
جس نے اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے نکاح کیا اس کی گردن مار دی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8254
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا محمد بن علي بن عفّان العامري، حدثنا أسباط بن محمد القرشي، حدثنا مُطرِّف بن طَريف الحارثي، حدثنا أبو الجَهْم، عن البراء بن عازب قال: إنِّي لأطُوفُ على إبلٍ لي ضلَّت، فأنا أجُولُ في أبياتٍ، فإذا أنا برَكْب وفوارسَ، فجعل أهلُ الماء يَلُوذونَ بمَنزلي (1) ، إذ أطافوا بفنائي واستَخرَجوا منه رجلًا، فما كلَّموه ولا سألوه عن شيء حتى ضربوا عُنقَه، فلما ذهبوا سألتُ عنه فقالوا: عَرَّسَ بامرأةِ أبيه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وشاهدُه حديث يزيد بن البراء بن عازب الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8055 - صحيح
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے گمشدہ اونٹوں کی تلاش میں تھا اور بستی کے گھروں کے پاس پھر رہا تھا کہ اچانک میرا سامنا سواروں کے ایک دستے سے ہوا، بستی کے لوگ میرے گھر کی طرف پناہ لینے لگے، تب ان سواروں نے میرے صحن کا گھیراؤ کیا اور وہاں سے ایک شخص کو نکالا، انہوں نے اس سے کوئی بات کی نہ کچھ پوچھا بلکہ (فوری طور پر) اس کی گردن اڑا دی، جب وہ چلے گئے تو میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا، لوگوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی منکوحہ (بیوہ یا مطلقہ) سے نکاح کر لیا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یزید بن براء کی حدیث اس کا شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8254]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي الجهم، واسمه سليمان بن الجهم، وهو مولى البراء بن عازب» [ترقيم الرساله 8254] [ترقيم الشركة 8155] [ترقيم العلميه 8055]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8254 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ك) و (م): بمنزلتي.
📝 نسخہ جات کا اختلاف: نسخہ (ک) اور (م) میں لفظ "بمنزلتی" ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي الجهم، واسمه سليمان بن الجهم، وهو مولى البراء بن عازب. وقد سلف برقم (2813).
⚖️ درجۂ حدیث: صحیح حدیث۔ ⚖️ درجۂ سند: یہ سند "حسن" ہے جس کی وجہ ابو الجہم ہیں، ان کا نام سلیمان بن الجہم ہے اور یہ براء بن عازب کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ یہ پہلے (نمبر 2813) پر گزر چکا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8254 in Urdu