🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. حفروا لماعز إلى صدره عند الرجم
سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کے لیے رجم کے وقت سینے تک گڑھا کھودا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8278
أخبرنا محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا داود بن أبي هند، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ ماعز بن مالك أتى النبيَّ ﷺ فقال: إني أصبتُ فاحشةً، فردَّده النبيُّ ﷺ مرارًا، فسأل قومَه:"أبِهِ بأسٌ؟" فقالوا: ما به بأسٌ إلَّا أنه أتى أمرًا لا يَرَى أن يُخرِجَه منه إلَّا أن يُقامَ الحدُّ عليه، قال: فأمَرَنا فانطلقنا به إلى بَقِيع الغَرقَد، قال: فلم نَحفِرْ له ولم نُوثِقه، فرَمَيناه بخَزَفٍ وعِظام وجَنْدَل، فاستكَنَّ، فسعى فاشتَدَدْنا خلفَه، فأتى الحَرَّة فانتَصَب لنا، فرَمَيناه بجَلاميدِها حتى سَكَتَ، فقام النبي ﷺ من العَشِيّ خطيبًا، فحمد الله وأثنى عليه، فقال:"أمّا بعدُ، فما بالُ أقوام إذا غَزَونا فتَخلَّفَ أحدُهم في عِيالِنا له نَبيبٌ كنَبيبِ التَّيس، أمَا إني عَليَّ لا أُوتَى بأَحدٍ (1) فعلَ ذلك إلَّا نَكَّلتُ به"، قال: ثم نزل، فلم يَسُبَّه ولم يَستغفِرْ له (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8079 - على شرط النسائي ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور عرض کی، مجھ سے زنا سرزد ہو گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کئی مرتبہ واپس بھیجا، پھر ان کے قبیلے سے ان کے بارے میں پوچھا کہ کیا اس کو کوئی ذہنی بیماری ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اس کو کسی قسم کی کوئی بیماری نہیں ہے، بات صرف اتنی ہے کہ اس سے عمل ایسا سرزد ہو گیا ہے کہ یہ سمجھتا ہے کہ جب تک اس پر حد قائم نہیں ہو گی تب تک یہ اس کے گناہ سے نہیں نکل پائے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا، ہم ان کو بقیع غرقد میں لے گئے، آپ فرماتے ہیں: ہم نے نہ تو ان کے لئے گڑھا کھودا اور نہ ان کو باندھا، ہم نے ان کو ہڈیاں اور لکڑیاں، اینٹیں وغیرہ مارنا شروع کیں، وہ کچھ دیر تو برداشت کرتے رہے پھر آپ دوڑ پڑے، ہم بھی ان کے پیچھے دوڑے، آپ حرہ میں پہنچ کر ہمارے سامنے کھڑے ہو گئے۔ ہم نے ان کو بڑے بڑے پتھر مارے جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کے وقت خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد آپ نے فرمایا: اس قوم کا کیا حال ہو گا جب ہم جہاد میں گئے، ایک شخص کو اپنے عیال میں چھوڑ گئے، وہ اس طرح بول رہا تھا جیسے شہوت کے وقت بکرا بولتا ہے، خبردار! میرے پاس ایسا کوئی بھی شخص لایا جائے گا تو میں اس کو ایسی ہی عبرتناک سزا دوں گا۔ راوی فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا بھلا نہیں کہا، اور نہ ہی ان کے لئے دعائے مغفرت فرمائی۔ (نوٹ۔ اس حدیث میں لفظ حلامیذہا آیا ہے، جب کہ دیگر کتب احادیث میں جلامید آیا ہے، صحیح جلامید ہی ہے، المستدرک کے اس نسخہ میں شاید کاتب کی غلطی کی وجہ سے یہ لفظ چھپ گیا ہے۔ شفیق) ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8278]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8278 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) زاد في (ز): منهم، وضبب عليها.
📝 نوٹ / مخطوطات: نسخہ (ز) میں "منہم" (ان میں سے) کا لفظ زائد ہے، اور اس پر "ضبہ" (یعنی مشکوک یا زائد ہونے کا نشان) لگایا گیا ہے۔
(2) إسناده صحيح أبو نضرة: هو المنذر بن مالك بن قِطعة العبدي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو نضرہ سے مراد "منذر بن مالک بن قطعہ العبدی" ہیں۔
وأخرجه أبو داود (4431)، والنسائي (7160)، وابن حبان (4438) من طرق عن يزيد بن زريع، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داؤد (4431)، نسائی (7160) اور ابن حبان (4438) نے یزید بن زریع کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (10988) و 18 / (11589)، ومسلم ((1694)، وأبو داود (4431)، والنسائي (7161) من طرق عن داود بن أبي هند، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (17/ 10988، 18/ 11589)، مسلم (1694)، ابو داؤد (4431) اور نسائی (7161) نے داؤد بن ابی ہند کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
الجندل: الحجارة والحَرّة: بقعة بالمدينة ذات حجارة سود. والجلاميد الحجارة الكبار، واحدها جلمود وجلمد. والنبيب: صوت التيس عند السِّفاد.
📝 لغوی تحقیق: "الجندل" کا معنی پتھر ہے۔ "الحرۃ" مدینہ میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں سیاہ پتھر ہوں۔ "الجلامید" بڑے پتھروں کو کہتے ہیں، اس کا واحد جلمود اور جلمد ہے۔ "النبیب" بکریوں کے نر (تیس) کی اس آواز کو کہتے ہیں جو وہ جفتی کے وقت نکالتا ہے۔