🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. حَفَرُوا لِمَاعِزٍ إِلَى صَدْرِهِ عِنْدَ الرَّجْمِ
سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کے لیے رجم کے وقت سینے تک گڑھا کھودا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8277
حدثنا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، قالا: حدثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، حدثنا خلَّاد بن يحيى، حدثنا بَشير بن المُهاجر، عن عبد الله (1) بن بُرَيدة، عن أبيه، قال: كنتُ جالسًا عند رسولِ الله ﷺ فجاء الأسلميُّ ماعزُ بنُ مالك، فقال: يا رسولَ الله، إنِّي زَنَيتُ، وإني أُريد أن تُطهِّرَني، فقال له النبيُّ ﷺ:"ارجع"، فرجعَ حتى أتاه الثالثةَ، فأتى رسولَ الله ﷺ قومُه فسألَهم عنه، فأحسَنُوا عليه الثَّناءَ، فقال:"كيف عَقلُه، هل به"جُنونٌ؟" قالوا: لا والله، وأحسَنُوا عليه الثناءَ في عقلِه ودينهِ، وأتاه الرابعةَ فسألهم عنه، فقالوا له مثلَ ذلك، فأمَرَهم فَحَفَرُوا له حفرةً إلى صَدرِه ثم رَجَموه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، فقد احتجَّ ببَشير بن مُهاجر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8078 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ اسلمی قبیلے کے ماعز بن مالک آئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے (سزا دے کر) پاک کر دیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس چلے جاؤ، وہ تین بار واپس جا کر پھر آئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قوم کے پاس آدمی بھیجا اور ان کے بارے میں پوچھا، انہوں نے ان کی تعریف کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس کی عقل کیسی ہے، کیا اسے جنون تو نہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، اور ان کی عقل و دین کی تعریف کی، چوتھی مرتبہ جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ قوم سے پوچھا، انہوں نے پھر وہی جواب دیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ان کے لیے سینے تک گڑھا کھودا گیا اور پھر انہیں رجم کر دیا گیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے بشیر بن مہاجر سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8277]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قصة الحفر لماعز، فقد تفرَّد بها بشير بن المهاجر، وهو ليّن الحديث، وقد وهم في ذكر الحفر، ونفاه غيره كما في حديث أبي سعيد الخدري التالي، وهو أصحُّ» [ترقيم الرساله 8277] [ترقيم الشركة 8178] [ترقيم العلميه 8078]

الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قصة الحفر لماعز
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8278
أخبرنا محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا داود بن أبي هند، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ ماعز بن مالك أتى النبيَّ ﷺ فقال: إني أصبتُ فاحشةً، فردَّده النبيُّ ﷺ مرارًا، فسأل قومَه:"أبِهِ بأسٌ؟" فقالوا: ما به بأسٌ إلَّا أنه أتى أمرًا لا يَرَى أن يُخرِجَه منه إلَّا أن يُقامَ الحدُّ عليه، قال: فأمَرَنا فانطلقنا به إلى بَقِيع الغَرقَد، قال: فلم نَحفِرْ له ولم نُوثِقه، فرَمَيناه بخَزَفٍ وعِظام وجَنْدَل، فاستكَنَّ، فسعى فاشتَدَدْنا خلفَه، فأتى الحَرَّة فانتَصَب لنا، فرَمَيناه بجَلاميدِها حتى سَكَتَ، فقام النبي ﷺ من العَشِيّ خطيبًا، فحمد الله وأثنى عليه، فقال:"أمّا بعدُ، فما بالُ أقوام إذا غَزَونا فتَخلَّفَ أحدُهم في عِيالِنا له نَبيبٌ كنَبيبِ التَّيس، أمَا إني عَليَّ لا أُوتَى بأَحدٍ (1) فعلَ ذلك إلَّا نَكَّلتُ به"، قال: ثم نزل، فلم يَسُبَّه ولم يَستغفِرْ له (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8079 - على شرط النسائي ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: میں نے بے حیائی کا کام کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار انہیں ٹالا اور ان کی قوم سے پوچھا: کیا اس میں کوئی خرابی (دماغی خلل) ہے؟ انہوں نے کہا: اس میں کوئی خرابی نہیں سوائے اس کے کہ اس سے ایسا کام ہو گیا ہے جس سے وہ نجات کا راستہ صرف حد لگوانے ہی میں دیکھتا ہے، ابوسعید کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تو ہم انہیں بقیع الغرقد کی طرف لے گئے، ہم نے نہ تو ان کے لیے گڑھا کھودا اور نہ ہی انہیں باندھا، ہم نے انہیں ٹھیکریوں، ہڈیوں اور پتھروں سے مارنا شروع کیا، جب انہیں چوٹیں لگیں تو وہ بھاگے، ہم بھی ان کے پیچھے دوڑے یہاں تک کہ وہ حرہ کے مقام پر ہمارے سامنے آ کھڑے ہوئے، پھر ہم نے انہیں بڑے پتھروں سے مارا یہاں تک کہ وہ خاموش (فوت) ہو گئے، پھر شام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: اما بعد! ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ جب ہم جہاد پر جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی پیچھے رہ کر ہمارے اہل و عیال میں بکرے کی طرح آوازیں نکالتا ہے (بدفعلی کی کوشش کرتا ہے)، آگاہ رہو! میرے پاس جو بھی ایسا شخص لایا گیا میں اسے عبرتناک سزا دوں گا، راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کو نہ برا بھلا کہا اور نہ ہی ان کے لیے استغفار کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8278]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو نضرة: هو المنذر بن مالك بن قِطعة العبدي» [ترقيم الرساله 8278] [ترقيم الشركة 8179] [ترقيم العلميه 8079]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8279
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا أبو داود الطَّيَالسي، حدثنا شُعْبة، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن المُنكدِر، عن ابن لهَزَّال، عن أبيه، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"يا هزَّالُ، لو سَتَرته بثوبك كان خيرًا لك". قال شُعبة: قال يحيى: فذكرتُ هذا الحديث بمجلس فيه يزيد بن نُعيم بن هَزّال، فقال يزيد: هذا الحديث (3) حقٌّ، وهو حديث جدِّي (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تفرّد بهذه الزيادة أبو داود عن شُعبة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8080 - صحيح
ہزال کے بیٹے سے روایت ہے کہ ان کے والد نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ہزال! اگر تم اسے اپنے کپڑے سے ڈھانپ لیتے (یعنی اس کا پردہ رکھتے) تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے جب یہ حدیث ایک مجلس میں بیان کی جہاں ہزال کے پوتے یزید بن نعیم موجود تھے تو انہوں نے کہا: یہ حدیث برحق ہے اور یہ میرے دادا ہی کی روایت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8279]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد رجاله ثقات، وابن هزال» [ترقيم الرساله 8279] [ترقيم الشركة 8180] [ترقيم العلميه 8080]

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8280
أخبرنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله بن سليمان الحَضرميُّ، حدثنا علي بن سعيد بن مسروق الكِنْدي، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قيل للنبيِّ ﷺ: إنَّ ماعزًا حينَ وَجَدَ مسَّ الحجارةِ والموتِ فَرَّ، فقال:"أفهَلَّا تركتُموه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8081 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ ماعز جب پتھروں کی چوٹ اور موت کی سختی محسوس کرنے لگے تو بھاگ کھڑے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا؟
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8280]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي» [ترقيم الرساله 8280] [ترقيم الشركة 8181] [ترقيم العلميه 8081]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8281
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعَيم، حدثنا سفيان، عن زيد بن أسلم عن يزيد بن نُعيم، عن أبيه، قال: جاء ماعزُ بن مالك إلى النبيِّ ﷺ فقال: يا رسول الله، إني زنيتُ فأَقِمْ فيَّ كتابَ الله، فأعرضَ عنه، حتى جاء أربعَ مّرات قال:"اذهبُوا به فارجُمُوه"، فلما مسَّتْه الحجارةُ جَزِعَ فاشتدَّ، قال: فخرج عبدُ الله بن أُنيس من باديته فرَمَاهِ بوَظِيفِ حمارٍ فَصَرَعَه، ورماه الناسُ حتى قتلوه، فذكر للنبي ﷺ فراره، فقال:"هلَّا تَركتُموه، لعلَّه يتوبُ ويتوبُ الله عليه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8082 - صحيح
یزید بن نعیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، مجھ پر اللہ کی کتاب (کی حد) قائم فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض کیا یہاں تک کہ وہ چار مرتبہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو، جب انہیں پتھر لگے تو وہ گھبرا کر تیزی سے بھاگے، عبداللہ بن انیس اپنے صحرا سے نکلے اور گدھے کے پاؤں کی ہڈی انہیں ماری جس سے وہ گر پڑے، پھر لوگوں نے انہیں پتھر مار کر قتل کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بھاگنے کا بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا، شاید وہ توبہ کر لیتے اور اللہ ان کی توبہ قبول فرما لیتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8281]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8281] [ترقيم الشركة 8182] [ترقيم العلميه 8082]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں