المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. حَفَرُوا لِمَاعِزٍ إِلَى صَدْرِهِ عِنْدَ الرَّجْمِ
سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کے لیے رجم کے وقت سینے تک گڑھا کھودا گیا
حدیث نمبر: 8276
كما حدَّثَناه بكر بن محمد بن حَمْدان المروّزي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا حفص بن عمر العَدَني، حدثنا الحَكَم بن أبان، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ ماعزًا جاء إلى رجل من المسلمين، فقال: إني أصبتُ فاحشةً، فما تأمرُني؟ فقال له الرجلُ: اذهَبْ إلى رسولِ الله ﷺ ليستغفِرَ لك. فلما أتى ماعزٌ رسول الله ﷺ فأخبره كَرِهَ رسول الله ﷺ كلامَه - أو قال: قولَه - ثم قال رسولُ الله ﷺ لمن كان معه:"أَبصاحبِكم مَسٌّ؟" قال ابن عباس: فنظرتُ إلى القوم لأُشيرَ عليهم، فلم يَلتفِتْ إليَّ منهم أحدٌ، فقال له رسول الله ﷺ:"لعلَّكَ قبَّلتَها؟" قال: لا، قال النبي ﷺ: فمَسِسْتها؟ قال: لا، قال:"ففَعَلتَ بها؟" ولم يَكْنِ (1) ، قال: 4/ 362 نعم، قال:"فارجُمُوه"، قال: فبَيْنا هو يُرجَمُ إِذ رَمَاه الرجلُ الذي جاءَه ماعزٌ يستشيرُه، رَمَاه بِعَظْمٍ فخَرَّ ماعزٌ، فالتفَتَ إليه، فقال له ماعزٌ: قاتَلَكَ اللهُ أَوْرَيتَني (2) ثم أنتَ الآنَ تَرجُمُني (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8077 - حفص بن عمران العدني ضعفوه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8077 - حفص بن عمران العدني ضعفوه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ ایک صحابی کے پاس گئے اور کہنے لگے: مجھ سے زنا سرزد ہو گیا ہے تم مجھے کوئی مشورہ دو کہ میں کیا کروں؟ اس صحابی نے ان سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لئے بخشش کی دعا فرما دیں گے۔ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا قصہ سنایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی گفتگو اچھی نہ لگی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک ساتھی سے فرمایا: کیا تمہارے اس ساتھی کو جنون کی بیماری ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں لوگوں کی طرف دیکھنے لگ گیا تاکہ میں ان کی جانب کوئی اشارہ کروں لیکن میری طرف کسی نے منہ اٹھا کر نہیں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ تو نے صرف بوسہ لیا ہو، اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ تو نے اس کو صرف چھوا ہو، اس نے کہا: جی نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کے ساتھ (زنا) کیا ہے اور یہ کہنے میں آپ نے مبہم لفظ نہیں بولا۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رجم کا حکم دے دیا۔ جب ان کو رجم کیا جا رہا تھا، تو ان میں وہ آدمی بھی تھا جس سے سیدنا ماعز نے مشورہ لیا تھا، اس آدمی نے ان کو ایک بہت بڑی ہڈی ماری جس کی وجہ سے سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ زمین پر گر گئے، سیدنا ماعز اس کی جانب متوجہ ہو کر بولے: اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کرے، تو نے ہی مجھے مشورہ دیا تھا اب تو ہی مجھے مار رہا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8276]
حدیث نمبر: 8277
حدثنا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، قالا: حدثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، حدثنا خلَّاد بن يحيى، حدثنا بَشير بن المُهاجر، عن عبد الله (1) بن بُرَيدة، عن أبيه، قال: كنتُ جالسًا عند رسولِ الله ﷺ فجاء الأسلميُّ ماعزُ بنُ مالك، فقال: يا رسولَ الله، إنِّي زَنَيتُ، وإني أُريد أن تُطهِّرَني، فقال له النبيُّ ﷺ:"ارجع"، فرجعَ حتى أتاه الثالثةَ، فأتى رسولَ الله ﷺ قومُه فسألَهم عنه، فأحسَنُوا عليه الثَّناءَ، فقال:"كيف عَقلُه، هل به"جُنونٌ؟" قالوا: لا والله، وأحسَنُوا عليه الثناءَ في عقلِه ودينهِ، وأتاه الرابعةَ فسألهم عنه، فقالوا له مثلَ ذلك، فأمَرَهم فَحَفَرُوا له حفرةً إلى صَدرِه ثم رَجَموه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، فقد احتجَّ ببَشير بن مُهاجر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8078 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، فقد احتجَّ ببَشير بن مُهاجر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8078 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (آپ فرماتے ہیں کہ) میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے زنا کا ارتکاب ہو گیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک و صاف فرما دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم واپس چلے جاؤ، وہ واپس چلے گئے، (وہ پھر دوبارہ آئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ بھی ان کو واپس بھیج دیا، وہ چلے گئے، لیکن سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ تیسری مرتبہ) پھر آ گئے، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قبیلے میں تشریف لائے اور لوگوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا، سب لوگوں نے ان کے بارے اچھے بیان دیئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس کی عقل کیسی ہے؟ کیا اس میں کوئی پاگل پن تو نہیں ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ نہیں، اس میں کوئی جنون وغیرہ بھی نہیں ہے، اور اس کی عقل اور اس کے دینی معاملات کے بارے میں لوگوں نے ان کی تعریف کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم چار مرتبہ اس قبیلے میں گئے اور سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کے بارے میں لوگوں سے پوچھا، ہر بار لوگوں نے ان کی تعریف ہی کی۔ تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، لوگوں نے ایک گڑھا کھودا، سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو سینے تک اس میں دبا کر پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے بشیر بن مہاجر کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8277]
حدیث نمبر: 8278
أخبرنا محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا داود بن أبي هند، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ ماعز بن مالك أتى النبيَّ ﷺ فقال: إني أصبتُ فاحشةً، فردَّده النبيُّ ﷺ مرارًا، فسأل قومَه:"أبِهِ بأسٌ؟" فقالوا: ما به بأسٌ إلَّا أنه أتى أمرًا لا يَرَى أن يُخرِجَه منه إلَّا أن يُقامَ الحدُّ عليه، قال: فأمَرَنا فانطلقنا به إلى بَقِيع الغَرقَد، قال: فلم نَحفِرْ له ولم نُوثِقه، فرَمَيناه بخَزَفٍ وعِظام وجَنْدَل، فاستكَنَّ، فسعى فاشتَدَدْنا خلفَه، فأتى الحَرَّة فانتَصَب لنا، فرَمَيناه بجَلاميدِها حتى سَكَتَ، فقام النبي ﷺ من العَشِيّ خطيبًا، فحمد الله وأثنى عليه، فقال:"أمّا بعدُ، فما بالُ أقوام إذا غَزَونا فتَخلَّفَ أحدُهم في عِيالِنا له نَبيبٌ كنَبيبِ التَّيس، أمَا إني عَليَّ لا أُوتَى بأَحدٍ (1) فعلَ ذلك إلَّا نَكَّلتُ به"، قال: ثم نزل، فلم يَسُبَّه ولم يَستغفِرْ له (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8079 - على شرط النسائي ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8079 - على شرط النسائي ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور عرض کی، مجھ سے زنا سرزد ہو گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کئی مرتبہ واپس بھیجا، پھر ان کے قبیلے سے ان کے بارے میں پوچھا کہ کیا اس کو کوئی ذہنی بیماری ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اس کو کسی قسم کی کوئی بیماری نہیں ہے، بات صرف اتنی ہے کہ اس سے عمل ایسا سرزد ہو گیا ہے کہ یہ سمجھتا ہے کہ جب تک اس پر حد قائم نہیں ہو گی تب تک یہ اس کے گناہ سے نہیں نکل پائے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا، ہم ان کو بقیع غرقد میں لے گئے، آپ فرماتے ہیں: ہم نے نہ تو ان کے لئے گڑھا کھودا اور نہ ان کو باندھا، ہم نے ان کو ہڈیاں اور لکڑیاں، اینٹیں وغیرہ مارنا شروع کیں، وہ کچھ دیر تو برداشت کرتے رہے پھر آپ دوڑ پڑے، ہم بھی ان کے پیچھے دوڑے، آپ حرہ میں پہنچ کر ہمارے سامنے کھڑے ہو گئے۔ ہم نے ان کو بڑے بڑے پتھر مارے جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کے وقت خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد آپ نے فرمایا: اس قوم کا کیا حال ہو گا جب ہم جہاد میں گئے، ایک شخص کو اپنے عیال میں چھوڑ گئے، وہ اس طرح بول رہا تھا جیسے شہوت کے وقت بکرا بولتا ہے، خبردار! میرے پاس ایسا کوئی بھی شخص لایا جائے گا تو میں اس کو ایسی ہی عبرتناک سزا دوں گا۔ راوی فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا بھلا نہیں کہا، اور نہ ہی ان کے لئے دعائے مغفرت فرمائی۔ (نوٹ۔ اس حدیث میں لفظ ” حلامیذہا “ آیا ہے، جب کہ دیگر کتب احادیث میں ” جلامید “ آیا ہے، صحیح ” جلامید “ ہی ہے، المستدرک کے اس نسخہ میں شاید کاتب کی غلطی کی وجہ سے یہ لفظ چھپ گیا ہے۔ شفیق) ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8278]
حدیث نمبر: 8279
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا أبو داود الطَّيَالسي، حدثنا شُعْبة، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن المُنكدِر، عن ابن لهَزَّال، عن أبيه، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"يا هزَّالُ، لو سَتَرته بثوبك كان خيرًا لك". قال شُعبة: قال يحيى: فذكرتُ هذا الحديث بمجلس فيه يزيد بن نُعيم بن هَزّال، فقال يزيد: هذا الحديث (3) حقٌّ، وهو حديث جدِّي (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تفرّد بهذه الزيادة أبو داود عن شُعبة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8080 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تفرّد بهذه الزيادة أبو داود عن شُعبة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8080 - صحيح
ابن ہزال اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ہزال اگر تم اپنے کپڑے کے ساتھ اپنی ستر پوشی کرو تو یہ تیرے لئے بہتر ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: یحیی نے مجھے بتایا کہ میں نے یہ حدیث ایسی مجلس میں بیان کی جس میں یزید بن نعیم بن ہزال موجود تھے، انہوں نے کہا: اے یزید! یہ بے شک حق ہے، حق ہے، یہ میرے دادا کی حدیث ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس زیادتی کے ہمراہ صرف ابوداؤد نے شعبہ سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8279]
حدیث نمبر: 8280
أخبرنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله بن سليمان الحَضرميُّ، حدثنا علي بن سعيد بن مسروق الكِنْدي، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قيل للنبيِّ ﷺ: إنَّ ماعزًا حينَ وَجَدَ مسَّ الحجارةِ والموتِ فَرَّ، فقال:"أفهَلَّا تركتُموه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8081 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8081 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: جب پتھروں کے زخم جب سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کی برداشت سے باہر ہو گئے اور ان کو موت کے آثار دکھائی دینے لگے تو آپ بھاگ کھڑے ہوئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ بھاگ گئے تھے تو تم نے ان کو چھوڑ کیوں نہیں دیا؟ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8280]