المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. حكاية رجم امرأة من غامد
قبیلہ غامد کی ایک خاتون (سیدہ غامدیہ رضی اللہ عنہا) کے رجم کا قصہ
حدیث نمبر: 8281
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعَيم، حدثنا سفيان، عن زيد بن أسلم عن يزيد بن نُعيم، عن أبيه، قال: جاء ماعزُ بن مالك إلى النبيِّ ﷺ فقال: يا رسول الله، إني زنيتُ فأَقِمْ فيَّ كتابَ الله، فأعرضَ عنه، حتى جاء أربعَ مّرات قال:"اذهبُوا به فارجُمُوه"، فلما مسَّتْه الحجارةُ جَزِعَ فاشتدَّ، قال: فخرج عبدُ الله بن أُنيس من باديته فرَمَاهِ بوَظِيفِ حمارٍ فَصَرَعَه، ورماه الناسُ حتى قتلوه، فذكر للنبي ﷺ فراره، فقال:"هلَّا تَركتُموه، لعلَّه يتوبُ ويتوبُ الله عليه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8082 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8082 - صحيح
یزید بن نعیم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے زنا سرزد ہو گیا ہے، آپ میرے بارے میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض فرما لیا، وہ چار مرتبہ آئے اور یہی عرض کی: تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے جاؤ اور رجم کر دو۔ پتھروں کے زخموں کی تاب نہ لا کر آپ بھاگ کھڑے ہوئے، سیدنا عبداللہ بن انیس ان کے پیچھے بھاگے، اور ان کو گدھے کی ایک ہڈی ماری جس کی وجہ سے وہ گر گئے، لوگوں نے ان کو مارنا شروع کیا حتیٰ کہ آپ ہلاک ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ان کے بھاگنے کا ذکر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا، شاید کہ وہ توبہ کر لیتا اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8281]