🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. حِكَايَةُ رَجْمِ امْرَأَةٍ مِنْ غَامِدٍ
قبیلہ غامد کی ایک خاتون (سیدہ غامدیہ رضی اللہ عنہا) کے رجم کا قصہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8282
حدثنا أبو النَّضر الفقيه، حدثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، حدثنا خلَّاد بن يحيى، حدثنا بَشير بن مُهاجِر، حدثني عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه، قال: أتتِ امرأةٌ من غامدٍ النبيَّ ﷺ، فقالت: قد فَجَرتُ، فقال:"اذْهَبي"، فذهبت ثم رجعت، فقالت: لعلَك تريدُ أن تصنعَ بي كما صنعتَ بماعزِ بن مالك، والله إني لحُبْلى، فقال:"اذْهَبي حتى تَلِدِينَ"، ثم جاءت به في خِرْقة، فقالت: قد ولدتُ فطهِّرْني، قال:"اذْهَبي حتى تَفطِميهِ"، فذهبت ثم جاءت به في يده كِسرةُ خبزٍ فقالت: قد فَطَمتُه، فأمرَ برجمِها (1) . وقد رواه إبراهيم بن ميمون الصائغُ عن أبي الزُّبير عن جابر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8083 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ غامد کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئی اور عرض کی: میں نے بدکاری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس چلی جاؤ، وہ چلی گئی پھر واپس آئی اور کہا: شاید آپ مجھے اسی طرح ٹالنا چاہتے ہیں جیسے ماعز بن مالک کو ٹالا تھا، اللہ کی قسم! میں حاملہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ یہاں تک کہ تم بچے کو جنم دے دو، پھر وہ بچے کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر لائی اور کہا: میں نے اسے جنم دے دیا ہے اب مجھے پاک کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دو، چنانچہ وہ (مدت کے بعد) آئی اور بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا، اس نے کہا: میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8282]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل بشير بن المهاجر، وقد روى له مسلم هذا الحديث الواحد متابعةً، وليس احتجاجًا» [ترقيم الرساله 8282] [ترقيم الشركة 8183] [ترقيم العلميه 8083]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8283
أخبرَناه أبو الحسن محمد بن عبد الله السُّنّي بمَرْو، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا أبو حمزة، حدثنا إبراهيم الصائغ، عن أبي الزُّبير عن جابر: أنَّ امرأةً أتتِ النبيَّ ﷺ فقالت: إني قد زنيتُ، فأقِمْ فيَّ الحدَّ، فقال:"انطلقِي فضَعِي ما في بَطْنِك"، فلما وضعت ما في بطنها أتَتْه فقالت: إنِّي زنيتُ، فأَقِمْ فيَّ الحدَّ، فقال:"انطَلِقي حتى تَفطِمي ولدَكِ"، فلما فطمت ولدَها جاءت فقالت: يا رسولَ الله، إني زنيتُ، فأقِمْ فيَّ الحدَّ، فقال:"هاتي مَن يَكفُلُ ولدَكِ" فقام رجلٌ فقال: أنا أكفُلُ ولدها، فرَجَمَها رسولُ الله ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد روى مالك بن أنس في"الموطّأ" حديث المرجومة بإسنادٍ أَخشى عليه الإرسالَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8084 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: میں نے زنا کیا ہے، مجھ پر حد قائم فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور جو تمہارے پیٹ میں ہے اسے جنم دے دو، جب اس نے بچے کو جنم دے دیا تو دوبارہ آئی اور عرض کی: میں نے زنا کیا ہے، مجھ پر حد قائم کیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ یہاں تک کہ اپنے بچے کا دودھ چھڑا دو، جب اس نے دودھ چھڑا دیا تو پھر آئی اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، مجھ پر حد قائم فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایسا شخص لے کر آؤ جو تمہارے بچے کی کفالت کرے، چنانچہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: میں اس کے بچے کی کفالت کروں گا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کر دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8283]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير محمد بن عبد الله السني، فقد تُكلم في عدالته، لكنه متابع» [ترقيم الرساله 8283] [ترقيم الشركة 8184] [ترقيم العلميه 8084]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8284
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني مالك بن أنس، عن يعقوب بن زيد (1) بن طَلْحة التَّيمي، عن أبيه: أنَّ امرأةً أتت رسولَ الله ﷺ، فقالت: إنها زَنَت، وهي حُبْلى، فقال لها رسول الله ﷺ:"اذهَبِي حتى تَضَعي"، فذهبت فلما وَضَعَت جاءته، فقال:"اذْهَبي حتى تُرضِعِيه"، فلما أرضَعَته جاءته، فقال:"اذهَبي حتى تستودِعيه"، فلما استودعَتْه جاءته، فأقام عليها الحدَّ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إن كان زيد (3) بن طلحة التَّيْمي أدركَ النبيَّ ﷺ، فإن مالك بن أنس الحَكَمُ في حديث المدنيِّين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8085 - على شرط البخاري ومسلم إن كان يزيد التيمي أدرك النبي صلى الله عليه وسلم
یعقوب بن زید بن طلحہ تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کی کہ وہ حاملہ ہے اور اس سے زنا سرزد ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: جاؤ یہاں تک کہ تم (بچے کو) جنم دے دو، وہ چلی گئی اور جب بچہ پیدا ہوا تو دوبارہ آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے دودھ پلاؤ، جب اس نے دودھ پلا لیا تو پھر آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ یہاں تک کہ اسے کسی کے سپرد کر دو (کفیل مل جائے)، جب اس نے کسی کے حوالے کر دیا اور پھر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد قائم کر دی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے بشرطیکہ زید بن طلحہ تیمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہو، کیونکہ اہل مدینہ کی احادیث میں امام مالک بن انس کی بات حرفِ آخر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8284]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه مرسل، زيد بن طلحة تابعي لم يدرك النبي ﷺ كما قال الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" (24216)» [ترقيم الرساله 8284] [ترقيم الشركة 8185] [ترقيم العلميه 8085]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8285
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا عبد الغفّار بن داود الحرَّاني، حدثنا موسى بن أعْيَن، عن الأعمش، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن عبد الله قال: ما رأيتُ رجلًا قطُّ أشدَّ رَمْيةً من علي بن أبي طالب، أُتِيَ بامرأةٍ من هَمْدانَ يُقال لها: شُرَاحة، فجلدها مئةً ثم أمر برجمها، فأخَذَ علي آجُرَّةً فرماها بها، فما أخطأَ أصلَ أُذنِها منها فصَرَعَها، فرجمَها الناسُ حتى قتلوها، ثم قال: جلدتُها بكتاب الله، ورجمتُها بالسُّنّة (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وكان الشعبيُّ يذكر أنه شهد رجمَ شُراحةَ، ويقول: إنه لا يَحفَظ عن أمير المؤمنين غيرَ ذلك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8086 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے زیادہ پختہ نشانہ لگانے والا کوئی شخص نہیں دیکھا، ان کے پاس قبیلہ ہمدان کی ایک عورت لائی گئی جسے شراحہ کہا جاتا تھا، آپ نے اسے سو کوڑے لگائے پھر اسے رجم کرنے کا حکم دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک اینٹ لی اور اسے ماری جو عین اس کے کان کی جڑ میں لگی اور وہ گر پڑی، پھر لوگوں نے اسے رجم کیا یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئی، پھر آپ نے فرمایا: میں نے اسے اللہ کی کتاب کے مطابق کوڑے لگائے اور سنت کے مطابق رجم کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8285]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وذكرُ عبد الله فيه. وهو ابن مسعود» [ترقيم الرساله 8285] [ترقيم الشركة 8186] [ترقيم العلميه 8086]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8286
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبّي، حدثنا جعفر بن عَوْن، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد قال: سمعتُ الشَّعْبيَّ وسُئِلَ: هل رأيت أميرَ المؤمنين عليَّ بن أبي طالب؟ قال: رأيتُه أبيضَ الرأسِ واللحيةِ، قيل: فهل تذكرُ عنه شيئًا؟ قال: نعم، أذكرُ أنه جَلَدَ شُراحةَ يومَ الخميس ورجمَها يومَ الجُمعة، فقال: جلدتُها بكتاب الله، ورجمتُها (1) بسُنّةِ رسول الله ﷺ (2) . وهذا إسناد صحيح، وإن كان في الإسناد الأول الخلافُ في سماعِ عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود من أبيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8087 - صحيح
امام شعبی سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا: کیا آپ نے امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے انہیں دیکھا ہے، ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، پوچھا گیا: کیا آپ کو ان کی کوئی بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، مجھے یاد ہے کہ انہوں نے شراحہ کو جمعرات کے دن کوڑے لگائے اور جمعہ کے دن اسے رجم کیا اور فرمایا: میں نے اسے اللہ کی کتاب کے حکم کے مطابق کوڑے لگائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق اسے رجم کیا ہے۔
یہ سند صحیح ہے، اگرچہ پہلی سند میں عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود کا اپنے والد سے سماع کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8286]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والشعبي» [ترقيم الرساله 8286] [ترقيم الشركة 8187] [ترقيم العلميه 8087]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں