🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. حِكَايَةُ رَجْمِ امْرَأَةٍ مِنْ غَامِدٍ
قبیلہ غامد کی ایک خاتون (سیدہ غامدیہ رضی اللہ عنہا) کے رجم کا قصہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8281
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعَيم، حدثنا سفيان، عن زيد بن أسلم عن يزيد بن نُعيم، عن أبيه، قال: جاء ماعزُ بن مالك إلى النبيِّ ﷺ فقال: يا رسول الله، إني زنيتُ فأَقِمْ فيَّ كتابَ الله، فأعرضَ عنه، حتى جاء أربعَ مّرات قال:"اذهبُوا به فارجُمُوه"، فلما مسَّتْه الحجارةُ جَزِعَ فاشتدَّ، قال: فخرج عبدُ الله بن أُنيس من باديته فرَمَاهِ بوَظِيفِ حمارٍ فَصَرَعَه، ورماه الناسُ حتى قتلوه، فذكر للنبي ﷺ فراره، فقال:"هلَّا تَركتُموه، لعلَّه يتوبُ ويتوبُ الله عليه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8082 - صحيح
یزید بن نعیم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے زنا سرزد ہو گیا ہے، آپ میرے بارے میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض فرما لیا، وہ چار مرتبہ آئے اور یہی عرض کی: تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے جاؤ اور رجم کر دو۔ پتھروں کے زخموں کی تاب نہ لا کر آپ بھاگ کھڑے ہوئے، سیدنا عبداللہ بن انیس ان کے پیچھے بھاگے، اور ان کو گدھے کی ایک ہڈی ماری جس کی وجہ سے وہ گر گئے، لوگوں نے ان کو مارنا شروع کیا حتیٰ کہ آپ ہلاک ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ان کے بھاگنے کا ذکر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا، شاید کہ وہ توبہ کر لیتا اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8281]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8282
حدثنا أبو النَّضر الفقيه، حدثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، حدثنا خلَّاد بن يحيى، حدثنا بَشير بن مُهاجِر، حدثني عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه، قال: أتتِ امرأةٌ من غامدٍ النبيَّ ﷺ، فقالت: قد فَجَرتُ، فقال:"اذْهَبي"، فذهبت ثم رجعت، فقالت: لعلَك تريدُ أن تصنعَ بي كما صنعتَ بماعزِ بن مالك، والله إني لحُبْلى، فقال:"اذْهَبي حتى تَلِدِينَ"، ثم جاءت به في خِرْقة، فقالت: قد ولدتُ فطهِّرْني، قال:"اذْهَبي حتى تَفطِميهِ"، فذهبت ثم جاءت به في يده كِسرةُ خبزٍ فقالت: قد فَطَمتُه، فأمرَ برجمِها (1) . وقد رواه إبراهيم بن ميمون الصائغُ عن أبي الزُّبير عن جابر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8083 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ قبیلہ غامد کی ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئی، اور کہنے لگی کہ میں گناہ کی مرتکب ہوئی ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو واپس بھیج دیا، وہ چلی گئی، اور (کچھ دنوں بعد) دوبارہ آئی اور کہنے لگی: آپ کو میرے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہیے جو آپ نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تھا، اللہ کی قسم! میں حاملہ ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلی جا اور بچہ پیدا ہونے کے بعد آنا، (وہ چلی گئی اور بچہ پیدا ہونے کے بعد) دوبارہ آئی، اور ایک کپڑے میں بچے کو بھی لپیٹ کر ساتھ لائی اور کہنے لگی: میرا بچہ پیدا ہو گیا ہے اب آپ مجھے پاک فرما دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی واپس چلی جاؤ، اس کو دودھ پلاؤ، وہ چلی گئی، اور پھر آئی تو اس بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اس کو دودھ پلا دیا ہے، تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رجم کا حکم دیا۔ ٭٭ اس حدیث کو ابراہیم بن میمون الصائغ نے ابوالزبیر کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8282]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8283
أخبرَناه أبو الحسن محمد بن عبد الله السُّنّي بمَرْو، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا أبو حمزة، حدثنا إبراهيم الصائغ، عن أبي الزُّبير عن جابر: أنَّ امرأةً أتتِ النبيَّ ﷺ فقالت: إني قد زنيتُ، فأقِمْ فيَّ الحدَّ، فقال:"انطلقِي فضَعِي ما في بَطْنِك"، فلما وضعت ما في بطنها أتَتْه فقالت: إنِّي زنيتُ، فأَقِمْ فيَّ الحدَّ، فقال:"انطَلِقي حتى تَفطِمي ولدَكِ"، فلما فطمت ولدَها جاءت فقالت: يا رسولَ الله، إني زنيتُ، فأقِمْ فيَّ الحدَّ، فقال:"هاتي مَن يَكفُلُ ولدَكِ" فقام رجلٌ فقال: أنا أكفُلُ ولدها، فرَجَمَها رسولُ الله ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد روى مالك بن أنس في"الموطّأ" حديث المرجومة بإسنادٍ أَخشى عليه الإرسالَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8084 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابراہیم الصائغ سے مروی ہے کہ ابوالزبیر نے سیدنا جابر کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئی اور کہنے لگی: میں نے زنا کروایا ہے، آپ مرے اوپر حد قائم فرما دیجئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلی جا اور جو کچھ تیرے پیٹ میں ہے اس کو پیدا کر، جب اس کا بچہ پیدا ہو گیا تو وہ دوبارہ آئی اور کہنے لگی: میں نے زنا کروایا ہے، آپ مجھ پر حد نافذ فرما دیجئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو واپس جا اور اس کو دودھ پلا، وہ واپس چلی گئی، جب بچے کے دودھ پینے کا زمانہ گزر گیا تو وہ پھر آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے زنا کروایا ہے، آپ میرے اوپر حد نافذ فرما دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایسا آدمی پیش کرو جو اس بچے کی ذمہ داری اٹھائے، ایک آدمی نے کہا: اس کے بچے کی ذمہ داری میں اٹھاتا ہوں۔ تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رجم کروا دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8283]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8284
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني مالك بن أنس، عن يعقوب بن زيد (1) بن طَلْحة التَّيمي، عن أبيه: أنَّ امرأةً أتت رسولَ الله ﷺ، فقالت: إنها زَنَت، وهي حُبْلى، فقال لها رسول الله ﷺ:"اذهَبِي حتى تَضَعي"، فذهبت فلما وَضَعَت جاءته، فقال:"اذْهَبي حتى تُرضِعِيه"، فلما أرضَعَته جاءته، فقال:"اذهَبي حتى تستودِعيه"، فلما استودعَتْه جاءته، فأقام عليها الحدَّ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إن كان زيد (3) بن طلحة التَّيْمي أدركَ النبيَّ ﷺ، فإن مالك بن أنس الحَكَمُ في حديث المدنيِّين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8085 - على شرط البخاري ومسلم إن كان يزيد التيمي أدرك النبي صلى الله عليه وسلم
یعقوب بن یزید بن طلحہ تیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی: میں نے زنا کروایا ہے، اور میں اس زنا کی وجہ سے حاملہ بھی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو بچہ پیدا ہونے تک واپس چلی جا، وہ واپس چلی گئی، جب بچہ پیدا ہو گیا تو وہ دوبارہ آئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یہ کہہ کر پھر واپس بھیج دیا کہ تم جا کر اس کو دودھ پلاؤ، جب وہ دودھ پلا چکی تو پھر آ گئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اب کی بار اس کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ اس کو کسی کے سپرد کر کے آؤ، وہ گئی اور بچہ کسی کے سپرد کر کے پھر آ گئی۔ اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد قائم فرما دی۔ اگر یزید بن طلحہ تیمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہے تو یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ مالک بن انس مدنیین کی حدیث میں حکم ہوتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8284]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8285
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا عبد الغفّار بن داود الحرَّاني، حدثنا موسى بن أعْيَن، عن الأعمش، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن عبد الله قال: ما رأيتُ رجلًا قطُّ أشدَّ رَمْيةً من علي بن أبي طالب، أُتِيَ بامرأةٍ من هَمْدانَ يُقال لها: شُرَاحة، فجلدها مئةً ثم أمر برجمها، فأخَذَ علي آجُرَّةً فرماها بها، فما أخطأَ أصلَ أُذنِها منها فصَرَعَها، فرجمَها الناسُ حتى قتلوها، ثم قال: جلدتُها بكتاب الله، ورجمتُها بالسُّنّة (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وكان الشعبيُّ يذكر أنه شهد رجمَ شُراحةَ، ويقول: إنه لا يَحفَظ عن أمير المؤمنين غيرَ ذلك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8086 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے زیادہ نشانہ باز کسی کو نہیں دیکھا، آپ کے پاس ہمدان کی ایک شراحہ نامی عورت کو پیش کیا گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو سو کوڑے مارے، پھر اس کو رجم کرنے کا حکم دے دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک اینٹ اس کو ماری، وہ اس کے کانوں کی جڑ میں جا کر لگی، جس کی وجہ سے وہ نیچے گر گئی، پھر لوگوں نے اس پر پتھروں کی برسات کر دی۔ حتیٰ کہ وہ مر گئی، پھر آپ نے فرمایا: میں نے اس کو کتاب اللہ کے حکم کے مطابق کوڑے مارے ہیں اور حدیث پاک کے مطابق اس کو رجم کیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور شعبی بتاتے ہیں کہ شراحہ کے رجم میں، میں بھی شریک تھا، اور فرماتے ہیں: امیرالمومنین کی اس حدیث کے علاوہ (رجم کے بارے) کوئی حدیث یاد نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8285]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں