المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
24. حكاية رجم يهودي ويهودية
ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کے رجم کا واقعہ
حدیث نمبر: 8287
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن محمد بن إسحاق، قال: حدثني محمد بن طلحة بن يزيد بن رُكَانة، عن إسماعيل بن إبراهيم الشَّيباني، عن ابن عباس قال: أُتِيَ رسولُ الله ﷺ بيهوديٍّ ويهودية قد زَنَيا وقد أحصَنا، فسألوه أن يَحكُمَ فيهما، فحَكَمَ فيهما بالرَّجم فرَجَمَهما في قُبُل المسجد في بني غَنْم، فلما وَجَدَ مسَّ الحِجارة قام إلى صاحبتِه، فجَنَأَ عليها لِيَقِيَها مسَّ الحِجارة، وكان ممّا صَنَعَ الله لرسوله ﷺ قيامه إليها يَقِيها الحِجارة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ولعلَّ متوهِّمًا من غير أهل الصَّنعة يتوهَّم أن إسماعيل الشيباني هذا مجهول، وليس كذلك فقد روى عنه عمرو بن دينار الأثرم:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ولعلَّ متوهِّمًا من غير أهل الصَّنعة يتوهَّم أن إسماعيل الشيباني هذا مجهول، وليس كذلك فقد روى عنه عمرو بن دينار الأثرم:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو زنا کے کیس میں پیش کیا گیا، یہ دونوں شادی شدہ بھی تھے، لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ ان کا فیصلہ فرمایئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رجم کا حکم دیا، ان دونوں کو مسجد کے سامنے بنی غنم میں رجم کیا گیا، جب ان کو پتھروں کی تکلیف ہوئی تو وہ یہودی اپنی محبوبہ کے پاس آیا اور اس کو پتھروں کی بوچھاڑ سے بچانے کے لئے اس کے اوپر جھک گیا، اور یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر ان کا زانی ہونا ثابت کرنے کے لئے کیا تھا کہ وہ پتھروں سے بچانے کے لئے اپنی محبوبہ پر جھک گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا۔ شاید کہ کوئی فن حدیث کا ناواقف اس وہم میں مبتلا ہو جائے کہ یہ اسماعیل شیبانی مجہول ہے۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ عمرو بن دینار الاثرم نے بھی ان سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8287]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8287 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) قوله: قيامه إليها يقيها الحجارة، كذا وقع في النسخ الخطية، ولا معنى له، والصواب ما وقع عند أحمد وابن هشام: وكان ذلك مما صنع الله ولرسوله ﷺ في تحقيق الزنى منهما.
📝 نوٹ / توضیح: عبارت "قیامہ الیہا یقیہا الحجارۃ" قلمی نسخوں میں اسی طرح ہے جس کا کوئی واضح مفہوم نہیں بنتا۔ درست وہ عبارت ہے جو مسند احمد اور ابن ہشام میں ہے: "وكان ذلك مما صنع الله ولرسوله ﷺ في تحقيق الزنى منهما" (اور یہ اللہ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ کے لیے ایک کارسازی تھی تاکہ ان دونوں کا زنا ثابت ہو سکے)۔
والحديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، اور یہ والی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2368) عن يعقوب وسعد ابني إبراهيم بن سعد، وابن هشام في "السيرة النبوية" 1/ 566 عن زياد بن عبد الله البكّائي ثلاثتهم عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (4/ 2368) نے یعقوب اور سعد (ابراہیم بن سعد کے بیٹوں) سے، اور ابن ہشام نے "السیرۃ النبویہ" (1/ 566) میں زیاد بن عبد اللہ بکائی سے روایت کیا ہے؛ یہ تینوں محمد بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
ويشهد له حديث عن ابن عمر عند البخاري (1329)، ومسلم (1699): أنَّ اليهود جاؤوا إلى النبي ﷺ برجل منهم وامرأة زنيا، فأمر بهما فرُجما قريبًا من موضع الجنائز عند المسجد.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید (شاہد) حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث سے ہوتی ہے جو بخاری (1329) اور مسلم (1699) میں ہے کہ: یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس اپنے ایک مرد اور عورت کو لائے جنہوں نے زنا کیا تھا، آپ ﷺ نے حکم دیا تو ان دونوں کو مسجد کے پاس جنازہ گاہ کے قریب رجم کر دیا گیا۔
قوله: "فجَنَأ عليها" قال ابن الأثير في "النهاية": أي: يكبّ ويميل عليها ليقيها الحجارة.
📝 نوٹ / توضیح: الفاظ "فجَنَأ عليها" کے بارے میں ابن اثیر "النہایہ" میں فرماتے ہیں: یعنی وہ اس (عورت) پر جھک گیا اور مائل ہو گیا تاکہ اسے پتھروں سے بچا سکے۔