🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. حِكَايَةُ رَجْمِ يَهُودِيٍّ وَيَهُودِيَّةٍ
ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کے رجم کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8286
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبّي، حدثنا جعفر بن عَوْن، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد قال: سمعتُ الشَّعْبيَّ وسُئِلَ: هل رأيت أميرَ المؤمنين عليَّ بن أبي طالب؟ قال: رأيتُه أبيضَ الرأسِ واللحيةِ، قيل: فهل تذكرُ عنه شيئًا؟ قال: نعم، أذكرُ أنه جَلَدَ شُراحةَ يومَ الخميس ورجمَها يومَ الجُمعة، فقال: جلدتُها بكتاب الله، ورجمتُها (1) بسُنّةِ رسول الله ﷺ (2) . وهذا إسناد صحيح، وإن كان في الإسناد الأول الخلافُ في سماعِ عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود من أبيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8087 - صحيح
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں: شعبی سے پوچھا گیا: کیا آپ نے امیرالمومنین سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے ان کی زیارت کی ہے، آپ کے سر اور داڑھی مبارک کے بال مبارک سفید تھے۔ آپ سے پوچھا گیا: کیا آپ کو ان کی کوئی بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ مجھے یاد ہے، انہوں نے شراحہ کو جمعرات کے دن کوڑے مارے تھے اور جمعہ کے دن اس کو رجم کیا تھا۔ اور آپ نے اس موقع پر یہ فرمایا تھا کہ میں نے اس کو کتاب اللہ کے موافق کوڑے مارے ہیں اور حدیث پاک کے مطابق اس کو رجم کیا ہے۔ ٭٭ یہ اسناد صحیح ہے اگرچہ اس اسناد کے شروع میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود نے اپنے والد سے سماع کیا ہے یا نہیں؟ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8286]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8287
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن محمد بن إسحاق، قال: حدثني محمد بن طلحة بن يزيد بن رُكَانة، عن إسماعيل بن إبراهيم الشَّيباني، عن ابن عباس قال: أُتِيَ رسولُ الله ﷺ بيهوديٍّ ويهودية قد زَنَيا وقد أحصَنا، فسألوه أن يَحكُمَ فيهما، فحَكَمَ فيهما بالرَّجم فرَجَمَهما في قُبُل المسجد في بني غَنْم، فلما وَجَدَ مسَّ الحِجارة قام إلى صاحبتِه، فجَنَأَ عليها لِيَقِيَها مسَّ الحِجارة، وكان ممّا صَنَعَ الله لرسوله ﷺ قيامه إليها يَقِيها الحِجارة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ولعلَّ متوهِّمًا من غير أهل الصَّنعة يتوهَّم أن إسماعيل الشيباني هذا مجهول، وليس كذلك فقد روى عنه عمرو بن دينار الأثرم:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو زنا کے کیس میں پیش کیا گیا، یہ دونوں شادی شدہ بھی تھے، لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ ان کا فیصلہ فرمایئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رجم کا حکم دیا، ان دونوں کو مسجد کے سامنے بنی غنم میں رجم کیا گیا، جب ان کو پتھروں کی تکلیف ہوئی تو وہ یہودی اپنی محبوبہ کے پاس آیا اور اس کو پتھروں کی بوچھاڑ سے بچانے کے لئے اس کے اوپر جھک گیا، اور یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر ان کا زانی ہونا ثابت کرنے کے لئے کیا تھا کہ وہ پتھروں سے بچانے کے لئے اپنی محبوبہ پر جھک گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا۔ شاید کہ کوئی فن حدیث کا ناواقف اس وہم میں مبتلا ہو جائے کہ یہ اسماعیل شیبانی مجہول ہے۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ عمرو بن دینار الاثرم نے بھی ان سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8287]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8288
كما حدَّثَناه أبو زكريا العَنْبري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا سفيان بن عُيَينة، عن عمرو بن دينار، عن إسماعيل الشَّيباني، قال: بِعتُ ما في رؤوس نَخْلي مئة وشق، إن زاد فلهم وإن نقص فعليهم، فسألتُ ابنَ عمر فقال: نَهَى رسولُ الله ﷺ عن ذلك، إلَّا أنه رَخَّصَ في العَرَايا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8089 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عمرو بن دینار روایت کرتے ہیں کہ اسماعیل شیبانی نے فرمایا: میں نے کھجوروں کے اوپر موجود 100 وسق پھلوں کو بیچا شرط یہ رکھی کہ بیان کردہ مقدار سے کم یا زیادہ ہونے کی ذمہ داری ان کی اپنی ہے، میں نے اس کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں پر موجود پھل کسی کو ہبہ کرنے کی اجازت عطا فرمائی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8288]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں