🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. أحاديث قطع يد السارق
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8339
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا أبو معاوية، حدَّثنا الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لَعَنَ الله السارقَ [إن] (1) يَسرِقْ بَيضةً قُطِعَت يدُه، وإن يَسرِقْ حبلًا قُطِعَت يدُه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8140 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے چور پر، اگر وہ ایک انڈہ بھی چوری کرے تو اس کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں۔ اگر ایک رسی بھی چوری کرے تو اس کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8339]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8339 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) زيادة من "تلخيص الذهبي".
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ اضافہ حافظ ذہبی کی "التلخیص" سے لیا گیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار، وقد توبع. أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند احمد بن عبد الجبار کی وجہ سے "حسن" ہے، تاہم ان کی متابعت موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (راوی) ابو معاویہ سے مراد محمد بن خازم الضریر ہیں۔
وأخرجه أحمد 12/ (7436)، ومسلم (1687)، وابن ماجه (2583)، والنسائي (7317) من طرق عن أبي معاوية، بهذا الإسناد.
🧩 متابعات و شواہد: اور اسے امام احمد 12/ (7436)، مسلم (1687)، ابن ماجہ (2583) اور نسائی (7317) نے ابو معاویہ سے مختلف طرق کے ذریعے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (6783) و (6799)، ومسلم (1687)، وابن حبان (5748) من طرق عن الأعمش، به. واستدراك الحاكم له ذهول منه.
🧩 متابعات و شواہد: اور اسے بخاری (6783) و (6799)، مسلم (1687) اور ابن حبان (5748) نے اعمش کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: امام حاکم کا اسے (مستدرک میں) لانا ان کا وہم (ذہول) ہے۔
قال الأعمش - في رواية البخاري الأولى -: كانوا يرون أنه بَيضَ الحديد (يعني التي تكون على رأس المقاتل)، والحبل كانوا يرون أنه منها ما يسوى دراهم. وبنحو قول الأعمش قال ابن حبان في "صحيحه" 13/ 58. وانظر "فتح الباري" 21/ 456.
📝 نوٹ / توضیح: اعمش نے (بخاری کی پہلی روایت میں) فرمایا: لوگ (صحابہ و تابعین) یہ سمجھتے تھے کہ (حدیث میں انڈے سے مراد) لوہے کا خود (ہیلمٹ) ہے (جو جنگجو کے سر پر ہوتا ہے)، اور "رسی" کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ یہ وہ رسی ہے جس کی قیمت کئی درہم ہوتی ہے۔ اعمش کے قول کی مثل ابن حبان نے بھی اپنی "صحیح" 13/ 58 میں کہا ہے۔ مزید دیکھیے "فتح الباری" 21/ 456۔