المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
48. حِكَايَةُ سَرِقَةِ مَتَاعِ رِفَاعَةَ سَرَقَهُ بَنُو أُبَيْرِقٍ
رفاعہ رضی اللہ عنہ کے سامان کی چوری اور بنو ابیرق کے قصے کا بیان
حدیث نمبر: 8363
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، حدثني محمد بن إسحاق، حدثني عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن أبيه، عن جدِّه قَتَادة بن النُّعمان قال: كان بنو أُبَيرِق رَهْطًا (2) من بني ظَفَر، وكانوا ثلاثةً: بُشَيرٌ (3) وبِشْر ومُبشِّر، وكان بُشَير يُكنى أبا طُعْمة، وكان شاعرًا، وكان منافقًا، وكان يقول الشِّعر يَهجُو به أصحابَ رسولِ الله ﷺ ثم يقولُ: قاله فلان، فإذا بلغَهم ذلك قالوا: كَذَبَ عدوُّ الله، ما قاله إلا هو، فقال: أفكلَّما قال الرِّجالُ قصيدةً … ضمُّوا إليَّ بأنْ أُبَيرقُ قالَها (4) مُتخطِّمِينَ كأَنَّني أخشاهمُ … جَدَعَ الإلهُ أُنوفَهم فأبانَها وكانوا أهلَ فَقرٍ وحاجةٍ في الجاهلية والإسلام، وكان عمِّي رفاعةُ بن زيد رجلًا مُوسِرًا أدرَكَه الإسلامُ، فوالله إن كنتُ لأرى أنَّ في إسلامه شيئًا، فكان الرجلُ إذا كان له يَسارُ فَقَدِمَت عليه هذه الطائفةُ (1) من الشام (2) تحملُ الدَّرْمَكَ، ابتاع لنفسِه ما يَخُصُّ به (3) ، فأما العِيالُ فكان يَقِيتُهم الشعيرُ. فقَدِمَت طائفة - وهم الأنباط - تحمل دَرْمَكًا، فابتاع رفاعةُ حِملَينِ من شعير، فجعلهما في عِلِّيّة له، وكان في عِلَّيْته دِرْعانِ له وما يُصلِحُهما من آلتِهما، فيطرقُه بُشَيرٌ من الليل فيَخرقُ العِّلَّيّة من ظَهرها، فأخذَ الطعامَ، ثم أخذَ السِّلاح، فلمَّا أصبحَ عمِّي بعث إليَّ فأتيتُه، فقال: أغِيرَ علينا هذه الليلةَ فذُهِبَ بطعامِنا وسلاحنا، فقال بُشيرٌ وإخوتُه: والله ما صاحبُ متاعِكم إلَّا لبيدُ بن سهل؛ لرجل منَّا كان ذا حَسَب وصلاح، فلما بَلَغَه قال: أُصلِتُ والله بالسيفِ، ثم قال: أيْ بني الأبَيرِق: أنا أَسرِقُ؟! فوالله ليخالطَنَّكم هذا السيفُ، أو لَتُبيِّنُنَّ مَن صاحبُ هذه السرقة، فقالوا: انصرف عنَّا، فوالله إنك لبرئٌ من هذه السرقة، فقال: كلا وقد زعمتُم. ثم سَأَلْنا في الدار وتَحسَّسْنا حتى قيل لنا: والله لقد استَوقَدَت بنو أُبيرق الليلة، وما نُراه إلا على طعامِكم، فما زلنا حتى كِدْنا نستيقنُ أنهم أصحابُه، فجئتُ رسولَ الله ﷺ فكلَّمتُه فيهم، فقلتُ: يا رسول الله، إنَّ أهل بيتٍ منَّا أَهلَ جَفَاءٍ وسَفَهٍ عَدَوْا على عمِّي، فخَرَقُوا عِلَّيّةً له من ظهرها فعَدَوا على طعامٍ وسلاحٍ، فأما الطعامُ فلا حاجة لنا فيه، وأما السلاحُ فليرُدُّوه علينا، فقال رسول الله ﷺ:"سأنظُرُ في ذلك". وكان لهم ابن عمٍّ يقال له: أُسَيْر بن عُروة، فجَمَع رجال قومِه، ثم أتى رسول الله ﷺ، فقال: إنَّ رفاعةَ بن زيد وابنَ أخيه قَتَادة بن النُّعمان قد عَمَدا إلى أهل بيتٍ منَّا أهلِ حَسَبٍ وشرفٍ وصلاح، يَأبِنُونهم بالقَبيح، ويَأبِنُونهم بالسَّرقة بغير بيِّنة ولا شهادة، فوَضَعَ عندَ رسولِ الله ﷺ بلسانِه ما شاء، ثم انصرف، وجئتُ رسول الله ﷺ وكلَّمتُه، فنَجَهَني نَجْهًا (1) شديدًا وقال:"بئسَ ما صنعتَ، وبئسَ ما شئتَ فيه، عَمَدتَ إلى أهل بيتٍ منكم أهل حَسَبٍ وصلاح تَرمِيهم بالسَّرقة، وتَأبِنُهم فيها بغير بيِّنة ولا تثبُّتٍ". فسمعتُ مِن رسول الله ﷺ ما أكرَهُ، فانصرفتُ عنه ولوَدِدتُ أَنِّي خرجتُ من مالي ولم أكلِّمْه. فلمَّا أن رجعتُ إلى الدار أرسلَ إليَّ عمِّي: يا ابنَ أخي، ما صنعتَ؟ فقلتُ: والله لوَدِدتُ أنّي خرجتُ من مالي ولم أُكلِّمْ رسول الله ﷺ فيه، وايمُ الله لا أعودُ إليه أبدًا، فقال: الله المستعانُ، فنزل القرآنُ: ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلَا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا﴾ [النساء: 105] أبو طُعْمة بن أُبَيرِق ﴿وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ﴾ فقرأ حتى بلَغَ ﴿يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا﴾ [النساء:112] لَبِيدَ بن سهل ﴿وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ﴾ يعنى أُسير بن عُرْوة وأصحابَه، ثم قال - يعني بذلك أسير بن عُرْوة وأصحابه: ﴿لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ﴾ إلى قوله: ﴿وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ [النساء: 112 - 116] أي: كان ذَنبُه دونَ الشِّرك، فلما نزلَ القرآنُ هَرَبَ فَلَحِقَ بمكة، وبعثَ رسولُ الله ﷺ إليَّ الدِّرعَينِ وأداتَهما، فردَّهما على رفاعةَ. قال قَتَادة: فلما جئتُه بهما وما معهما قال: يا ابن أخي، هما في سبيل الله ﷿، فرَجَوتُ أنَّ عمِّي حَسُنَ إسلامه، وكان ظنِّي به غيرَ ذلك. وخرج ابن أُبيرِق حتى نزل على سُلافةَ (2) بنتِ سعد بن شُهَيد أُختِ بني عمرو ابن عوف، وكانت عند طلحةَ بن أبي طلحة بمكة، فوقع برسولِ الله ﷺ وأصحابه يَشتِمُهم، فرَمَاه حسانُ بن ثابت بأبياتٍ فقال: وما سارقُ (1) الدِّرعَينِ إن كنتَ ذاكرًا … بذي كَرَمٍ [من] الرجالِ أُوادِعُهْ وقد أنزلَتْه بنتُ سعدٍ فأصبَحَتْ … يُنازِعُها جِلدَ استِه وتُنازِعُهْ فهلَّا أُسَيرًا جنتَ جارَكَ راغبًا … إليه ولم تَعمِدْ له فتُرافِعُهْ ظننتُمْ بأن يخفى الذي قد فعلتُمُ … وفيكم نبيٌّ عندَه الوحيُ واضِعُهْ (2) فلولا رِجالٌ منكمُ تَشتُمونَهُمْ … بذاكَ لقد حَلَّتْ عليكم (3) طوالِعُهْ فإنْ تَذكرُوا كعبًا إذا ما (4) نَسيتُمُ … فَهَلْ مِن أَديمٍ ليسَ فيه أَكارِعُهْ وجدتُهمُ يُرجونكُمْ قد عَلِمْتُمُ … كما الغَيثُ يُرْجِيهِ السَّمِينُ وتابعُهْ فلما بلغَها شِعرُ حسانَ أَخَذَت رَحْلَ أُبيرِق، فَوَضَعَته على رأسها حتى قَذَفَته بالأَبطَح، ثم حَلَقتْ وسَلَقتْ وخَرَقتْ وحَلَفَت: أن بِتَّ في بيتي ليلةً سوداء، أهديتَ لي شِعرَ حسان بن ثابت، ما كنتَ لَتَنزل عليَّ بخيرٍ، فلما أخرجَتْه لَحِقَ بالطائف، فدخل بيتًا ليس فيه [أحدٌ] (5) فوَقَعَ عليه فقتله، فجَعَلَت قريشٌ تقول: والله لا يُفارِقُ محمدًا أحدٌ من أصحابه فيه خيرٌ (6) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8164 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8164 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عاصم بن عمر بن قتادہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: بنو ابیرق قبیلہ بنو ظفر کا ایک خاندان تھا، اور وہ تین بھائی تھے: بشیر، بشر اور مبشر۔ بشیر کی کنیت ابو طعمہ تھی، وہ شاعر اور منافق تھا، وہ ایسے اشعار کہتا جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ہجو (برائی) کرتا، پھر کہتا: ”یہ فلاں نے کہا ہے۔“ جب صحابہ تک یہ بات پہنچتی تو وہ کہتے: ”اللہ کے دشمن نے جھوٹ بولا ہے، یہ اسی نے کہا ہے۔“ تو وہ (بشیر اپنے دفاع میں اشعار پڑھتے ہوئے) کہتا: ”کیا جب بھی لوگ کوئی قصیدہ کہتے ہیں تو اسے میری طرف منسوب کر دیتے ہیں کہ اسے ابیرق نے کہا ہے؟ وہ غصے سے بھرے ہوئے ایسے آتے ہیں گویا میں ان سے ڈرتا ہوں، اللہ ان کی ناکیں کاٹ دے اور انہیں جدا کر دے۔“ زمانہ جاہلیت اور اسلام میں یہ لوگ انتہائی غریب اور محتاج تھے۔ میرے چچا رفاعہ بن زید ایک مالدار شخص تھے، انہوں نے اسلام کا زمانہ پایا۔ اللہ کی قسم! مجھے ان کے اسلام لانے میں کچھ (کمزوری کا) شبہ محسوس ہوتا تھا۔ اس وقت رواج یہ تھا کہ جب کسی شخص کے پاس وسعت ہوتی اور شام سے تاجروں کا کوئی گروہ عمدہ آٹا لے کر آتا، تو وہ خاص اپنے لیے اسے خرید لیتا، جبکہ اہل و عیال کا گزارا جو پر ہوتا تھا۔ چنانچہ تاجروں یعنی انباط کا ایک گروہ عمدہ آٹا لے کر آیا، تو رفاعہ نے دو بوجھ عمدہ آٹے کے خریدے اور انہیں اپنے ایک بالا خانے (چوبارے) میں رکھ دیا۔ اس بالا خانے میں ان کی دو زرہیں اور ان کے مناسب ہتھیار بھی رکھے تھے۔ رات کے وقت بشیر آیا، اس نے بالا خانے کی پچھلی جانب سے نقب لگائی اور سارا اناج اور ہتھیار نکال لیے۔ صبح ہوئی تو میرے چچا نے مجھے بلوایا، میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا: ”آج رات ہم پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے اور ہمارا اناج اور ہتھیار لوٹ لیے گئے ہیں۔“ بشیر اور اس کے بھائیوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! تمہارا سامان لبید بن سہل کے علاوہ کسی اور نے نہیں چرایا۔“ لبید ہمارے ہی قبیلے کا ایک باوقار اور نیک شخص تھا۔ جب لبید تک یہ بات پہنچی تو اس نے اپنی تلوار سونت لی اور بولا: ”اللہ کی قسم! اے بنو ابیرق! کیا میں چوری کرتا ہوں؟ اللہ کی قسم! یا تو یہ تلوار تمہارے اندر اتر جائے گی، یا پھر تم ضرور واضح کرو گے کہ اس چوری کا اصل مجرم کون ہے۔“ انہوں نے کہا: ”ہمیں چھوڑ دو، اللہ کی قسم! تم اس چوری سے بالکل بری ہو۔“ اس نے کہا: ”ہرگز نہیں، تم نے تو مجھ پر الزام لگایا ہے۔“ پھر ہم نے بستی میں پوچھا اور سراغ لگایا یہاں تک کہ ہمیں بتایا گیا: ”اللہ کی قسم! بنو ابیرق نے آج رات آگ جلائی تھی، اور ہمارا یہی خیال ہے کہ وہ تمہارا ہی اناج پکا رہے تھے۔“ ہم اسی طرح تفتیش کرتے رہے یہاں تک کہ ہمیں قریباً یقین ہو گیا کہ چور وہی ہیں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہمارے ہی قبیلے کے ایک بدتمیز اور بے وقوف خاندان نے میرے چچا پر زیادتی کی ہے، انہوں نے ان کے بالا خانے کی پچھلی جانب نقب لگا کر اناج اور ہتھیار چرائے ہیں۔ ہمیں اناج کی تو کوئی حاجت نہیں، لیکن وہ ہمارے ہتھیار ہمیں واپس کر دیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس معاملے کو دیکھوں گا۔“ بنو ابیرق کا اسیر بن عروہ نامی ایک چچا زاد تھا، اس نے اپنی قوم کے لوگوں کو جمع کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: ”رفاعہ بن زید اور ان کے بھتیجے قتادہ بن نعمان نے ہمارے خاندان کے باوقار، معزز اور نیک لوگوں کا قصد کیا ہے، اور وہ ان پر برائی کا الزام لگا رہے ہیں اور بغیر کسی ثبوت اور گواہی کے انہیں چوری کے ساتھ متہم کر رہے ہیں۔“ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی زبان سے جو چاہا گھڑا اور پھر چلا گیا۔ اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سخت ڈانٹ پلائی اور فرمایا: ”تم نے بہت برا کیا، اور تمہارا اس معاملے میں جو ارادہ ہے وہ بھی بہت برا ہے، تم نے اپنے ہی قبیلے کے ان لوگوں کا قصد کیا جو باوقار اور نیک ہیں، اور تم ان پر چوری کا الزام لگا رہے ہو اور بغیر کسی ثبوت اور تصدیق کے انہیں متہم کر رہے ہو۔“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی بات سنی جو مجھے سخت ناگوار گزری، میں وہاں سے واپس لوٹ آیا اور میرے دل میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش میرا سارا مال چھن جاتا لیکن میں اس معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہ کرتا۔ جب میں گھر واپس آیا تو میرے چچا نے مجھے کہلاوا بھیجا: ”اے میرے بھتیجے! تم نے کیا کیا؟“ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! میری تو یہ تمنا ہے کہ کاش میرا مال چلا جاتا لیکن میں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہ کرتا، اور اللہ کی قسم! اب میں اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کبھی نہیں جاؤں گا۔“ چچا نے کہا: ”اللہ ہی مددگار ہے۔“ تب قرآن مجید نازل ہوا: ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلَا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا﴾ ”بے شک ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے آپ کو دکھایا ہے، اور آپ خیانت کرنے والوں کے طرف دار نہ بنیں۔“ [سورة النساء: 105] خائن سے مراد ابو طعمہ بن ابیرق تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ﴾ کی تلاوت کی یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچے ﴿يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا﴾ ”پھر اس کا الزام کسی بے گناہ پر لگا دے۔“ [سورة النساء: 112] بے گناہ سے مراد لبید بن سہل تھا۔ پھر فرمایا ﴿وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ﴾ ”اور (اے نبی!) اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ آپ کو گمراہ کرنے کا ارادہ کر چکا تھا۔“ [سورة النساء: 113] اس سے مراد اسیر بن عروہ اور اس کے ساتھی تھے۔ پھر انہیں کے متعلق فرمایا: ﴿لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ﴾ سے لے کر اس فرمان تک ﴿وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ ”ان کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی ... اور وہ اس کے سوا جسے چاہے گا معاف فرما دے گا۔“ [سورة النساء: 114 - 116] یعنی اس کا گناہ شرک سے کم تر تھا۔ جب قرآن نازل ہوا تو بشیر بھاگ کر مکہ چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں زرہیں اور ان کا سامان مجھے بھجوا دیا تو میں نے وہ رفاعہ کو واپس کر دیں۔ قتادہ کہتے ہیں: جب میں وہ زرہیں اور ان کے ساتھ موجود دیگر سامان لے کر چچا کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: ”اے میرے بھتیجے! یہ سب اللہ ﷻ کی راہ میں (وقف) ہیں۔“ تب مجھے امید ہو گئی کہ میرے چچا کا اسلام بہت عمدہ ہے، جبکہ اس سے پہلے میرا ان کے بارے میں گمان اس کے برعکس تھا۔ ابن ابیرق مکہ جا کر سلافہ بنت سعد بن شہید کے ہاں ٹھہرا، جو قبیلہ بنو عمرو بن عوف کی بہن تھی اور مکہ میں طلحہ بن ابی طلحہ کے نکاح میں تھی۔ بشیر نے وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو گالیاں دینی شروع کر دیں۔ تو حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کچھ اشعار کے ذریعے اس پر جوابی وار کیا اور فرمایا: ”کیا تو ان دو زرہوں کو چرانے والا ہے؟ اگر تو یاد کرے تو میں شریف لوگوں سے صلح صفائی رکھنے والا ہوں۔ اور سعد کی بیٹی نے اسے اتارا ہے تو وہ صبح اس حال میں ہوئی ہے کہ اس کے ساتھ دست و گریبان ہے۔ تو اے اسیر! تو نے اپنے پڑوسی کے پاس خوشی سے آ کر جنایت کیوں نہ کی اور تو نے جان بوجھ کر ایسا کیوں نہیں کیا تاکہ تو اسے بلند کرتا۔ تم نے سمجھا تھا کہ جو کچھ تم نے کیا ہے وہ چھپا رہے گا، حالانکہ تم میں وہ نبی موجود ہے جس کے پاس وحی اترتی ہے جو ہر چیز کو واضح کر دیتی ہے۔ اگر تم میں وہ لوگ نہ ہوتے جنہیں تم اس وجہ سے گالیاں دیتے ہو تو ان کی مصیبتیں تم پر ٹوٹ پڑتیں۔ پس اگر تم کعب کو یاد کرو جب تم بھول جاؤ، تو کیا کوئی ایسا چمڑا ہے جس میں پائے نہ ہوں؟ میں نے انہیں پایا کہ وہ تم سے امید رکھتے ہیں جیسا کہ تم جانتے ہو، جس طرح موٹا تازہ اونٹ اور اس کے پیچھے چلنے والا بارش کی امید رکھتا ہے۔“ جب حسان رضی اللہ عنہ کے یہ اشعار سلافہ تک پہنچے تو اس نے ابیرق کا سامان اٹھا کر اپنے سر پر رکھا اور اسے وادی ابطح میں پھینک دیا، پھر اسے برا بھلا کہا، سخت سست کہا اور قسم کھا کر کہنے لگی: ”تو نے میرے گھر میں ایک سیاہ رات گزاری ہے، تو نے مجھے حسان بن ثابت کے اشعار کا تحفہ دیا ہے، تو میرے ہاں کسی بھلائی کے ساتھ نہیں اترا تھا۔“ جب اس نے اسے نکال دیا تو وہ طائف چلا گیا، وہاں وہ ایک ایسے گھر میں داخل ہوا جس میں کوئی نہیں تھا، اچانک وہ گھر اس پر گر پڑا اور وہ ہلاک ہو گیا۔ اس پر قریش کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! جو بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ ہوتا ہے، اگر اس میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ بچ جاتا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8363]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8363]
تخریج الحدیث: «حسن بطرقه إن شاء الله، وهذا إسناده ضعيف، عمر بن قتادة لم يرو عنه سوى ولده عاصم، وذكره ابن حبان في "الثقات" 5/ 146، وهو تابعي يروي الحديث عن أبيه قتادة بن النعمان صاحب القصة، وقد وردت القصة من طرق أخرى» [ترقيم الرساله 8363] [ترقيم الشركة 8264] [ترقيم العلميه 8164]
الحكم على الحديث: حسن بطرقه إن شاء الله
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8363 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في النسخ الخطية: رهط، وأثبتناه على الجادة.
📝 نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں "رہط" (غلط ہجے) تھا، ہم نے اسے درست طریقہ تحریر (الجادة) کے مطابق ثابت کیا ہے۔
(3) هكذا ضبطه مصغرًا ابن ماكولا في "الإكمال" 1/ 299.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (3) اسے ابن ماکولا نے "الإكمال" (1/ 299) میں اسی طرح تصغیر (اُبَیرِق) کے ساتھ ضبط کیا ہے۔
(4) كذا في النسخ الخطية، وفي "تفسير الطبري" طبعة شاكر و "تاريخ دمشق": أضِمُوا وقالوا ابن الأبيرق قالها، ومعناه: غضبوا عليه. وأشاروا في طبعة هجر من "تفسير الطبري" إلى أنَّ في بعض النسخ: نُحلت. قلنا: وهو قريب من معنى ما ورد عند الحاكم، والمراد: نسبوها إلي.
📝 نوٹ / توضیح: (4) قلمی نسخوں میں ایسے ہی ہے۔ "تفسير الطبري" (ایڈیشن شاکر) اور "تاريخ دمشق" میں "أضِمُوا..." کے الفاظ ہیں جس کا معنی ہے: وہ اس پر غضب ناک ہوئے۔ "تفسير الطبري" (ایڈیشن ہجر) میں اشارہ کیا گیا ہے کہ بعض نسخوں میں "نُحِلَت" ہے۔ ہم کہتے ہیں: یہ حاکم کے ہاں وارد ہونے والے معنی کے قریب ہے، اور مراد یہ ہے کہ: "انہوں نے وہ (چوری یا بات) میری طرف منسوب کر دی"۔
(1) كذا في النسخ الخطية، وفي مصادر التخريج: الضافطة، ومعناها كما قال ابن الأثير في "النهاية" في مادة (ضفط): الضافط والضَّفاط: الذي يجلب الميرة والمتاع إلى المدن.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) قلمی نسخوں میں ایسے ہی ہے، جبکہ تخریج کے مصادر میں "الضَّافِطَة" ہے۔ اس کا معنی جیسا کہ ابن اثیر نے "النهاية" میں مادہ (ضفط) کے تحت بیان کیا: "ضافط اور ضفّاط وہ ہوتا ہے جو غلہ اور سامان شہروں کی طرف لاتا ہے (امپورٹر/تاجر)"۔
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: السدم.
📝 نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "السدم" بن گیا ہے۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: ما يحل به.
📝 نوٹ / توضیح: (3) قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "ما یحل بہ" بن گیا ہے۔
(1) النَّجْه: استقبالك الرجل بما يكره، وردك إياه عن حاجته، وقيل: هو أقبح الرد، قاله في "لسان العرب".
🔍 فنی نکتہ / علّت: "النَّجْہ" کا مطلب ہے: کسی آدمی سے ناپسندیدہ رویے کے ساتھ ملنا اور اسے اس کی ضرورت (پوری کیے بغیر) لوٹا دینا، اور کہا گیا ہے کہ: یہ سب سے بری طرح لوٹانا (رد کرنا) ہے۔ یہ بات "لسان العرب" میں کہی گئی ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ إلى: سلامة بنت سعد بن سهيل، والصواب ما أثبتناه، وهذه المرأة هي التي نذرت أن تشرب الخمر في جمجمة عاصم بن ثابت، انظر "سيرة ابن هشام" 2/ 171.
📝 نوٹ / توضیح: (2) نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "سلامہ بنت سعد بن سہیل" بن گیا ہے، جبکہ درست وہی ہے جو ہم نے ثابت کیا ہے۔ یہ وہی عورت ہے جس نے نذر مانی تھی کہ وہ عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی کھوپڑی میں شراب پیے گی۔ تفصیل کے لیے "سيرة ابن هشام" (2/ 171) دیکھیں۔
(1) في (ز) و (م) و (ب): أيا سارق، وفي (ك): يا سارق، والمثبت من "ديوان حسان".
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ز)، (م) اور (ب) میں "أیا سارق" ہے، اور (ک) میں "یا سارق" ہے۔ ہم نے "دیوان حسان" سے متن ثابت کیا ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ إلى: راضعه، والتصويب من "الديوان"، واختلف في معناه، ورجَّح السيرافي في "شرح أبيات سيبويه" 1/ 452 أنَّ المراد وضعُ العِلم بذلك الشيء في قلوبهم والإخبار عن صحته.
📝 نوٹ / توضیح: (2) نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "راضِعُہ" بن گیا ہے، تصحیح "الدیوان" سے کی گئی ہے۔ اس کے معنی میں اختلاف ہے، اور سیرافی نے "شرح أبيات سيبويه" (1/ 452) میں ترجیح دی ہے کہ اس سے مراد "ان کے دلوں میں اس چیز کا علم ڈالنا اور اس کی صحت کی خبر دینا" ہے۔
(3) المثبت من (ك) و (م)، وفي (ز): عليه، وفي (ب): عليهم.
📝 نوٹ / توضیح: (3) ہم نے عبارت نسخہ (ک) اور (م) سے ثابت کی ہے۔ نسخہ (ز) میں "علیہ" اور (ب) میں "علیہم" ہے۔
(4) في (م): له قد، وسقط من (ز) و (ك) و (ب)، والمثبت من "الديوان".
📝 نوٹ / توضیح: (4) نسخہ (م) میں "لہ قد" ہے، جبکہ (ز)، (ک) اور (ب) سے یہ ساقط ہے، اور ہم نے اسے "الدیوان" سے ثابت کیا ہے۔
(5) ما بين المعقوفين سقط من النسخ، وأثبتناه من "تلخيص الذهبي".
📝 نوٹ / توضیح: (5) بریکٹ کے درمیان والی عبارت نسخوں سے ساقط تھی، ہم نے اسے "تلخيص الذهبي" سے ثابت کیا ہے۔
(6) حسن بطرقه إن شاء الله، وهذا إسناده ضعيف، عمر بن قتادة لم يرو عنه سوى ولده عاصم، وذكره ابن حبان في "الثقات" 5/ 146، وهو تابعي يروي الحديث عن أبيه قتادة بن النعمان صاحب القصة، وقد وردت القصة من طرق أخرى.
⚖️ درجۂ حدیث: (6) یہ روایت اپنے شواہد و طرق کی بنا پر ان شاء اللہ "حسن" ہے، جبکہ یہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عمر بن قتادہ سے سوائے ان کے بیٹے عاصم کے کسی نے روایت نہیں کی، ابن حبان نے انہیں "الثقات" (5/ 146) میں ذکر کیا ہے۔ وہ تابعی ہیں اور اپنے والد قتادہ بن نعمان (صاحبِ قصہ) سے روایت کرتے ہیں۔ یہ واقعہ دیگر طرق سے بھی مروی ہے۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا ابن شبة في "تاريخ المدينة" 2/ 408، والترمذي (3036)، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (1958/ أ)، والطبري في "تفسيره" 5/ 265، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 4/ 1059 و 1063 و 1064، والطبراني في "الكبير" 19/ (15)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (5925)، والخطيب في "تاريخه" 8/ 202، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 49/ 270 - 272 من طريق محمد بن سلمة الحراني، عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے تفصیلاً اور مختصراً ابن شبہ نے "تاريخ المدينة" (2/ 408)، ترمذی (3036)، ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثاني" (1958/ أ)، طبری نے اپنی تفسیر (5/ 265)، ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر (4/ 1059، 1063، 1064)، طبرانی نے "المعجم الكبير" (19/ 15)، ابونعیم نے "معرفة الصحابة" (5925)، خطیب نے "تاريخ بغداد" (8/ 202) اور ابن عساکر نے "تاريخ دمشق" (49/ 270-272) میں محمد بن سلمہ الحرانی کے طریق سے، انہوں نے محمد بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حديث غريب لا نعلم أحدًا أسنده غير محمد بن سلمة الحراني! وروى يونس بن بكير وغير واحد هذا الحديثَ عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة مرسلًا، لم يذكروا فيه: عن أبيه عن جده. كذا قال، وقد رواه موصولًا كما عند المصنف، كما أنَّ محمد بن سلمة أوثق من يونس بن بكير.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے، ہم محمد بن سلمہ الحرانی کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مسند (متصل) بیان کیا ہو! یونس بن بکیر اور دیگر کئی راویوں نے اسے محمد بن اسحاق سے، انہوں نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے "مرسلاً" روایت کیا ہے اور اس میں "عن أبيه عن جده" کا ذکر نہیں کیا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: انہوں (ترمذی) نے ایسا کہا ہے، حالانکہ اسے موصولاً بھی روایت کیا گیا ہے جیسا کہ مصنف (حاکم) کے ہاں ہے، مزید یہ کہ محمد بن سلمہ، یونس بن بکیر سے زیادہ ثقہ ہیں۔
وأخرج نحوه مختصرًا الطبري 5/ 267 عن بشر بن معاذ العقدي، عن يزيد بن زريع، عن سعيد بن أبي عروبة، عن قَتادةَ بن دعامة مرسلًا. وإسناده صحيح إلى قتادة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری (5/ 267) نے مختصراً بشر بن معاذ العقدی سے، انہوں نے یزید بن زریع سے، انہوں نے سعید بن ابی عروبہ سے، انہوں نے قتادہ بن دعامہ سے "مرسلاً" روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: قتادہ تک اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرج أبو بكر البلاذري في "أنساب الأشراف" 1/ 277 عن خلف بن سالم المخرمي، عن وهب بن جرير بن حازم، عن أبيه، عن الحسن البصري قال: سرق ابن أبيرق درعًا من حديد ثم رمى بها رجلًا بريئًا، فجاء قومه إلى النبي ﷺ فعذروه عنده، فأنزل الله ﷿ فيه: ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلَا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ﴾. وإسناده صحيح إلى الحسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوبکر البلاذری نے "أنساب الأشراف" (1/ 277) میں خلف بن سالم المخرمی سے، انہوں نے وہب بن جریر بن حازم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حسن بصری سے روایت کیا، انہوں نے کہا: ابن ابیرق نے لوہے کی ایک زرہ چوری کی اور پھر (الزام) ایک بری الذمہ آدمی پر لگا دیا۔ اس کی قوم کے لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور اس کا دفاع (عذر پیش) کیا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: {إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ...}۔ ⚖️ درجۂ حدیث: حسن بصری تک اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرج الضياء في "المختارة" 12/ (370) من طريق يحيى بن محمد بن هانئ، عن محمد بن إسحاق قال: قلت لعاصم بن عمر بن قتادة: حدثني يزيد بن أبي حبيب، عن عكرمة مولى ابن عباس، عن ابن عباس، قال: إنَّ الذي كان بنو أبيرق رموه بالدرعين رجل من اليهود، يقال له: النعمان بن مهيص. فقال عاصم: إنما هو لبيد بن سهل. وإسناده إلى ابن إسحاق ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ضیاء نے "المختارة" (12/ 370) میں یحییٰ بن محمد بن ہانی کے طریق سے، انہوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے کہا: مجھے یزید بن ابی حبیب نے عکرمہ مولیٰ ابن عباس سے، انہوں نے ابن عباس سے بیان کیا کہ: بنو ابیرق نے جس پر دو زرہوں (کی چوری) کا الزام لگایا تھا وہ ایک یہودی شخص تھا جسے "نعمان بن مہیص" کہا جاتا تھا۔ اس پر عاصم نے کہا: وہ تو "لبید بن سہل" تھا۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ابن اسحاق تک اس کی سند ضعیف ہے۔
الدَّرمَك: هو الدقيق النقي الأبيض.
🔍 فنی نکتہ / علّت: "الدَّرمَك": خالص سفید آٹے کو کہتے ہیں۔
قوله: "يأبنونهم": يتهمونهم به.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قول "یأبنونہم" کا مطلب ہے: وہ ان پر اس کا الزام لگاتے ہیں۔
وقوله: "سلقت" أي: رفعت صوتَها، و "خرقت" أي: شقَّت ثوبَها.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قول "سَلَقَت" کا مطلب ہے: اس نے اپنی آواز بلند کی، اور "خَرَقَت" کا مطلب ہے: اس نے اپنا کپڑا پھاڑ ڈالا۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8363 in Urdu