المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. لا تخبر بتلعب الشيطان بك فى المنام
خواب میں شیطان کے اپنے ساتھ کھیلنے کا تذکرہ (لوگوں کو) نہ کرو
حدیث نمبر: 8381
أخبرنا أبو النَّضر الفقيه، حدَّثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدَّثنا سعيد بن عُفير وعبد الله بن صالح المصريان، قالا: حدَّثنا الليث بن سعد، عن أبي الزُّبير، عن جابر: أنَّ أعرابيًّا جاء إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله، إني حَلَمتُ أَنَّ رأسي قُطِعَ فأنا أَتبَعُه، فزَجَرَه النبيُّ ﷺ وقال:"لا تُخبِرُ بتَلعُّب الشيطانِ بك في المَنام" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8182 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8182 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے خواب دیکھا ہے کہ میرا سر کاٹ دیا گیا ہے اور میں اس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ”شیطان تمہارے ساتھ نیند میں جو کھیل کھیلتا ہے اس کی خبر (دوسروں کو) نہ دیا کرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8381]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8381]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8381] [ترقيم الشركة 8282] [ترقيم العلميه 8182]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8381 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أبو الزبير: هو محمد بن مسلم بن تَدرُس المكي. وأخرجه أحمد 23/ (14779)، ومسلم (5268) (12) و (14)، وابن ماجه (3913)، والنسائي (7610) و (10682)، وابن حبان (6057) من طرق عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو زبیر سے مراد "محمد بن مسلم بن تدرس المکی" ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (23/ 14779)، مسلم (5268/ 12، 14)، ابن ماجہ (3913)، نسائی (7610، 10682) اور ابن حبان (6057) نے لیث بن سعد سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: پس حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی بھول ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 22/ (14293) و 23/ (15110) من طريقين عن أبي الزبير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح احمد (22/ 14293، 23/ 15110) نے ابو زبیر کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 22/ (14383)، ومسلم (2268) (15) و (16)، وابن ماجه (3912) من طريق أبي سفيان، عن جابر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (22/ 14383)، مسلم (2268/ 15، 16) اور ابن ماجہ (3912) نے ابو سفیان کے طریق سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8381 in Urdu