المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. رُؤْيَا عَائِشَةَ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطَتْ فِي حُجْرَتِهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خواب کہ ان کی گود میں تین چاند گرے ہیں
حدیث نمبر: 8392
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد بن محبوب بن فُضيل التاجر المَحْبوبيُّ بمَرْو، حَدَّثَنَا أبو عيسى محمد بن عيسى بن سَوْرة الحافظ بتِرمِذَ، حَدَّثَنَا سهل بن إبراهيم الجاروديُّ، حَدَّثَنَا مَسعَدة بن اليَسَع، عن مالك بن أنس، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: رأيت في المنام كأنَّ ثلاثة أقمار سَقَطْن في حُجرتي، فقَصَصتُ رؤيايَ على أبي بكر، فلما دُفن النَّبِيّ ﷺ في بيتي، قال أبو بكر: هذا أَحدُ أقمارك، وهو خَيْرُها (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8192 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8192 - صحيح
عمرہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا گویا تین چاند میرے حجرے میں گر پڑے ہیں، میں نے اپنا خواب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سنایا، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے گھر میں دفن کیا گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ تمہارے ان چاندوں میں سے ایک ہے اور یہ ان سب میں بہترین ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8392]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8392]
تخریج الحدیث: «الخبر صحيح كما سلف بيانه برقم (4448)، وهذا إسناد ضعيف جدًّا كسابقيه، ثم إنَّ مسعدة بن اليسع قد خالف رواية مالك المشهورة، حيث رواه يحيى الليثي عن مالك في "الموطأ" 1/ 232 فقال: عن يحيى بن سعيد عن عائشة مرسلًا» [ترقيم الرساله 8392] [ترقيم الشركة 8293] [ترقيم العلميه 8192]
الحكم على الحديث:
الخبر صحيح كما سلف بيانه برقم (4448)
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8392 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) الخبر صحيح كما سلف بيانه برقم (4448)، وهذا إسناد ضعيف جدًّا كسابقيه، ثم إنَّ مسعدة بن اليسع قد خالف رواية مالك المشهورة، حيث رواه يحيى الليثي عن مالك في "الموطأ" 1/ 232 فقال: عن يحيى بن سعيد عن عائشة مرسلًا. لم يذكر فيه عمرة، وقد سلف برقم (4448) من طريق سفيان بن عيينة عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: قالت عائشة.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ خبر صحیح ہے جیسا کہ نمبر (4448) میں بیان گزر چکا، لیکن یہ سند پچھلی سندوں کی طرح "سخت ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: پھر مسعدہ بن الیسع نے امام مالک کی مشہور روایت کی مخالفت کی ہے، کیونکہ یحییٰ اللیثی نے "الموطأ" (1/ 232) میں امام مالک سے روایت کرتے ہوئے: "عن یحییٰ بن سعید عن عائشہ" مرسلاً کہا ہے اور اس میں "عمرہ" کا ذکر نہیں کیا۔ یہ روایت نمبر (4448) پر سفیان بن عیینہ عن یحییٰ بن سعید عن سعید بن المسیب کے طریق سے گزر چکی ہے، کہا: عائشہ نے فرمایا...
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8392 in Urdu